@mikemilliondc: #motivationalvideo REAL✌️

Mikemillion dc
Mikemillion dc
Open In TikTok:
Region: NG
Thursday 06 August 2026 08:26:35 GMT
10348
4755
14
196

Music

Download

Comments

lordbenbernard
Ber Nård :
sometimes the rubbish they have to say, no suppose shock you
2026-08-06 16:14:16
13
princess.45255
Her brother’s princess 💐💛… :
Me self get alot to say na them never fight me 😒
2026-08-06 12:35:32
9
mockingbirdsince06
Goddy eni money :
nah for who pack friends full body
2026-08-06 11:30:14
8
favvynice32
Divine favor :
Omo i no fit relate 😏i no get any friend o😏
2026-08-06 19:04:02
2
foryouamz
4UAMZ :
why can't I repost 🥲
2026-08-06 19:43:05
0
brightskidz
Aderinoye Bright :
after you fight them 😳😳
2026-08-06 18:51:03
0
cura997
💞Cura💐🌸 :
Me self get Watin I wan talk make everybody Dey their lane
2026-08-06 19:03:10
1
kingsleyprosper2
🌴Prosper🌴 :
I
2026-08-06 11:54:45
0
To see more videos from user @mikemilliondc, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

POST
POST"84/#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌 🕊🕊🕊🕊🕊🕊🕊 #SadPoetry🥺 ​👥 ہر کوئی میرا ہو جائے... ایسی میری تقدیر نہیں۔ 💔 ​🪞 میں وہ شیشہ ہوں... جس کی کوئی تصویر نہیں۔ 👤 ​─── 📑 ─── ​🔥 درد سے رشتہ ہے میرا... خوشیاں مجھے نصیب نہیں۔ 😢 ​🌪️ مجھے بھی کوئی یاد کرے... میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں۔ 🍂 شعر بہت گہرا اور فلسفیانہ ہے۔ شیشے کا کام عکس دکھانا ہوتا ہے، لیکن شاعر کہتا ہے کہ میں ایسا آئینہ یا شیشہ ہوں جس کے اندر اب کسی کا عکس یا تصویر باقی نہیں رہی۔ یعنی وہ اندر سے بالکل خالی، بے نام اور تنہا ہو چکا ہے۔ اس کا اپنا کوئی وجود یا پہچان دوسروں کی نظر میں نہیں رہی، یا شاید وہ دنیا کی بے رخی کا شکار ہو کر اپنی ذات کھو چکا ہے۔ 🌪️ ​3️⃣ تیسرا شعر ​درد سے رشتہ ہے میرا 🔥 خوشیاں مجھے نصیب نہیں 😢 ​📝 تشریح: اس شعر میں شاعر اپنی زندگی کی تلخ حقیقت کا اعتراف کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ خوشیاں اور مسکراہٹیں میرے نصیب میں نہیں لکھی گئیں۔ میرا اصل رشتہ اور تعلق صرف "درد" اور غم سے ہے، جو ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے۔ زندگی میں مسلسل ملنے والے دکھوں نے اسے یہ ماننے پر مجبور کر دیا ہے کہ تکلیف ہی اس کا مقدر ہے۔ 🖤 ​4️⃣ چوتھا شعر ​مجھے بھی کوئی یاد کرے 💭 میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں 🌪️ ​📝 تشریح: یہ شعر تنہائی کی آخری حد کو ظاہر کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا اس قدر بے مروت اور مصروف ہو چکی ہے کہ کسی کے پاس میرے لیے وقت نہیں ہے۔ میں اتنا خوش قسمت بھی نہیں ہوں کہ دنیا کی اس بھیڑ میں کوئی ایک انسان ایسا ہو جو مخلص ہو کر مجھے یاد کرے یا میری کمی کو محسوس کرے۔ یہ اپنوں کی بے رخی اور فراموش کیے جانے کا ایک بہت بڑا دکھ ہے۔ 🍂غالب" ہر کوئی میرا ہو جائے، ایسی میری تقدیر نہیں۔ 💔 میں وہ شیشہ ہوں، جس کی کوئی تصویر نہیں۔ 🪞 درد سے رشتہ ہے میرا، خوشیاں مجھے نصیب نہیں۔ 😔 مجھے بھی کوئی یاد کرے، میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں۔ 🥀 ​📝 تفصیلی تشریح ​اس شاعری میں انسان اپنی قسمت کی محرومیوں، تنہائی اور گہرے دکھ کا اظہار کر رہا ہے۔ آئیے اس کے ہر حصے کو تفصیل سے سمجھتے ہیں: ​۲۔ اپنی پہچان اور خالی پن 🪞 ​شعر: میں وہ شیشہ ہوں، جس کی کوئی تصویر نہیں۔ ​تشریح: یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور گہرا استعارہ ہے۔ آئینہ (شیشہ) دوسروں کا عکس تو دکھاتا ہے، لیکن اس کی اپنی کوئی مستقل تصویر یا پہچان نہیں ہوتی۔ شاعر کہنا چاہتا ہے کہ میری اپنی کوئی اہمیت یا وجود نہیں ہے، میں دنیا کے لیے صرف ایک خالی شیشے کی مانند ہوں جس کی اپنی کوئی قدر نہیں کرتا۔ ​۳۔ غموں کا ساتھ 😔 ​شعر: درد سے رشتہ ہے میرا، خوشیاں مجھے نصیب نہیں۔ ​تشریح: اس مصرعے میں زندگی کی تلخی کا ذکر ہے۔ شاعر کا ماننا ہے کہ خوشیاں اس کی زندگی سے روٹھ چکی ہیں اور اب اس کا مستقل رشتہ صرف "درد" اور تکلیف سے رہ گیا ہے۔ گویا غم اس کا مقدر بن چکا ہے۔ ​۴۔ تنہائی کا عروج 🥀 ​شعر: مجھے بھی کوئی یاد کرے، میں اتنا بھی خوش نصیب نہیں۔ ​تشریح: یہ تنہائی کا آخری اور سب سے دردناک مرحلہ ہے۔ انسان جب بالکل اکیلا ہو جاتا ہے تو وہ چاہتا ہے کہ کوئی تو ہو جو اسے یاد کرے، اس کی خیر عافیت پوچھے، لیکن یہاں شاعر کہتا ہے کہ میں تو اتنا بھی خوش قسمت نہیں ہوں کہ دنیا کی اس بھیڑ میں کوئی ایک شخص بھی مجھے خلوصِ دل سے یاد کرے۔

About