@mamari665: لا للعنصريه

Moussa--Chadi 🇹🇩💫
Moussa--Chadi 🇹🇩💫
Open In TikTok:
Region: NE
Thursday 06 August 2026 11:09:01 GMT
2674
209
25
32

Music

Download

Comments

abaa8967
بن شامخ :
عظماء التاريخ أبطال الميادين ✌️✌️
2026-08-06 17:16:31
1
user5228361860710
صقر صحراوي✌️✌️ :
✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️يريابشربشر
2026-08-06 18:17:54
0
user9347881343463
جيدا حكي :
🥰🥰🥰🥰🥰
2026-08-06 15:11:07
0
abakar.djid.abaka
abakardjidi :
أكيد صحيح كلامك ياخي ✌️✌️✌️✌️
2026-08-06 18:09:57
0
user2550828240597
الماس يوردا وية :
ابشر ابشر ابشر ابشر ابشر
2026-08-06 17:49:16
0
user9758686215817
أبن عمر صحراوي :
أبشر 🥰🥰🥰🥰🥰
2026-08-06 17:01:51
0
user3195983090797
واجي. محمد صاديق :
✌️♥️✌️بس ♥️ابشري ✌️
2026-08-06 12:58:39
0
adam.issa8683
ᴬᵈᵃᵐ ᶦˢˢᵃ :
💪💪💪💪
2026-08-06 16:39:11
0
toubounguigmi
toubounguigmi :
abchir besss
2026-08-06 11:55:22
0
.fact2322
طاهر ولد كانم FACT :
✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️👍👍👍👍👍👍👍👍👍✌✌✌l✌✌✌✌✌✌👍👍👍👍👍👍✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️✌️👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍👍✌✌✌✌✌✌😁😁😁👍👍👍👍👍👍👍👍👍
2026-08-06 11:14:15
0
.m563006
محمد وجى🇷🇴🇱🇾 :
✌️✌️✌️
2026-08-06 18:19:50
0
ibinimahamoud
ابن محمود💔ibini mahamoud :
👑👑👑
2026-08-06 18:11:15
0
soultan_vip1
《soultan_vip》 :
👑👑👑
2026-08-06 18:10:15
0
aduomwilt.toumiya
aduom_wilt toumiya💖 :
✌✌✌
2026-08-06 18:09:39
0
youssouf.saleh511
95599666 :
✌✌✌
2026-08-06 18:09:13
0
aduomwilt.toumiya
aduom_wilt toumiya💖 :
✌️✌️✌️
2026-08-06 18:09:26
0
youssouf.saleh511
95599666 :
🥰🥰🥰
2026-08-06 18:09:13
0
goukini.werey
محمد صحراوي🏜✌️ :
✌️✌️✌️
2026-08-06 17:58:27
0
abdallandariatmanmgmail3
abdallah berseimi kalou✌️💪👑 :
👑👑👑✌️✌️
2026-08-06 17:58:06
0
user9047370924741
🇷🇴شرف ولد مو سو رة ♠️ :
✌️✌️✌️✌️✌️
2026-08-06 17:48:13
0
user9504339061559757
✌️اكورى2✌️ :
✌️✌️✌️
2026-08-06 18:17:58
0
To see more videos from user @mamari665, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے:
آج کے Gen Z بچوں کو شاید کبھی یہ احساس نہ ہو سکے کہ اگست کا مہینہ کبھی صرف ایک مہینہ نہیں ہوتا تھا… یہ تو ہمارے بچپن کی سب سے خوبصورت عید ہوا کرتا تھا۔ جیسے ہی یکم اگست قریب آتی، دلوں میں ایک عجیب سی خوشی جاگ اٹھتی۔ ہم سب بچے اپنی جیب خرچ سے چند روپے بچاتے، پھر محلے کا کوئی بڑا لڑکا شہر جا کر سبز و سفید جھنڈیاں، بیجز، بانسریاں، بیلون اور کھلونے لے آتا۔ ہر گلی میں ایک ننھا سا سٹال سجتا، جہاں صرف چیزیں نہیں بکتیں… وہاں خواب، خوشیاں اور وطن سے محبت تقسیم ہوتی تھی۔ پھر شروع ہوتا اصل جشن… امی کے باورچی خانے سے تھوڑا سا آٹا مانگ کر اس میں پانی ملاتے، دھاگہ زمین پر پھیلاتے اور ایک ایک کاغذی جھنڈی کو بڑے پیار سے اس پر چپکاتے۔ نہ کسی کو گرمی کی پروا ہوتی، نہ دھوپ کی تپش کا احساس۔ گلی کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک جھنڈیاں باندھتے ہوئے ایسا لگتا تھا جیسے ہم اپنے چھوٹے سے محلے کو نہیں، بلکہ پورے پاکستان کو سجا رہے ہوں۔ وہ وقت کتنا خوبصورت تھا… نہ موبائل تھے، نہ سوشل میڈیا، نہ مہنگے کیمرے… پھر بھی ہر چہرے پر ایسی مسکراہٹ ہوتی تھی جو آج ہزاروں تصویروں میں بھی نظر نہیں آتی۔ مگر وقت… وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا۔ وہی بچے جو کبھی آٹے سے جھنڈیاں چپکاتے تھے، آج رزق کی تلاش میں پسینے سے بھیگے ہوئے ہیں۔ کسی کے کندھوں پر ماں باپ کی ذمہ داری ہے، کوئی اپنی اولاد کے مستقبل کے لیے دن رات محنت کر رہا ہے، اور کوئی اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لیے اپنے وطن سے ہزاروں میل دور پردیس میں آنسو چھپا کر جیتا ہے۔ جشنِ آزادی پر آٹے سے جھنڈیاں لگانے والے وہی بچے، آج اسی گھر کا آٹا پورا کرنے کے لیے اپنی جوانی کھپا رہے ہیں۔ کاش ایک بار پھر وقت لوٹ آئے… کاش ایک بار پھر وہی محلہ ہو… وہی دوست ہوں… وہی کاغذی جھنڈیاں ہوں… وہی آٹے سے چپکے ہاتھ ہوں… اور امی کی وہ آواز آئے: "بس بہت ہوگیا… پہلے آ کر روٹی کھا لو!" مگر اب نہ وہ بچپن واپس آئے گا، نہ وہ دن… بس رہ جائیں گی تو چند دھندلی یادیں… جو ہر اگست میں دل کی آنکھوں کو نم کر دیتی ہیں۔ اے اللہ! ہمارے وطن پاکستان کو ہمیشہ سلامت رکھ، اور ہمارے بچوں کو بھی وہی محبتِ وطن نصیب فرما جو کبھی ہمارے بچپن کی پہچان تھی۔ 🇵🇰 #fyppppppppppppppppppppppp #deepthoughts #viral #dontunderreviewmyvideo #fypシ゚viral

About