@sindhigirl2013:

Sindhi girl 🎀💞
Sindhi girl 🎀💞
Open In TikTok:
Region: PK
Thursday 06 August 2026 13:28:44 GMT
152
55
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @sindhigirl2013, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#آج قومی اسمبلی میں بجٹ 2026.27 پر بحث کیلئے جیسے ہی سپیکر نے مولانا فضل الرحمن کا نام لیا تو  پی ٹی وی پر جاری نشریات بند کر دی گئی، لیکن جمعیت علماء اسلام ڈجیٹل میڈیا کے توسط سے مولانا فضل الرحمن صاحب کا خطاب آپ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے خود بھی پڑھیں اور شیئر کریں !  مولانا فضل الرحمن / پارلیمنٹ خطاب 2026-27 کا بجٹ اپنے روایتی بندوبست کے ساتھ پیش ہوچکا ہے  روایات کے مطابق حکومت اس بجٹ کو کامیاب بجٹ قرار دے رہی ہے کچھ حقائق ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اپوزیشن کی تقاریر بلیک آؤٹ ہورہی ہیں اور پی ٹی وی پر اپوزیشن کا نکتہ نظر پیش نہیں ہورہا  یہ بہت بڑا ظلم ہے، پارلیمنٹ ایک ہے، ہم سب یہاں کولیگ ہیں جب سب کے مساوی حقوق ہیں تو قوم تک کیوں ہمارا نکتہ نظر نہیں پہنچنے دیا جارہا  بجٹ پر مجھ سے زیادہ اچھی گفتگو یہاں ہوچکی ہے معیشت پاکستان کا مسئلہ ہے اور شہباز شریف کسی زمانے میں ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوا کرتے تھے  اس وقت وہ کہتے تھے 6 ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کردوں تو میرا نام شہباز شریف نہیں  اس وقت عمران خان پر بھی ہم تنقید کرتے تھے  مگر چاہییے تو یہ تھا کہ ہم اصلاحات کرتے مگر قرض بڑھ گئے  آج ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار کا مقروض ہے،  قومی اسمبلی بجٹ اجلاس۔  آج غریب آدمی اپنی معمولی تنخواہ میں کیسے گزارا کررہا ہے وہ اس سے پوچھیں  غربت پچیس سے انتیس فیصد پر چلی گئی ہے ملک کے اندر بدامنی ہے، ہمارے تھانے محفوظ نہیں ہیں، ہمارے فوجی، ایف سی اور پولیس کے جوان شہید ہورہے ہیں  ہمارا دفاع مسلسل کیوں کمزور ہورہا ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے  ہم یہاں بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے اس لئے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے  بتایا جائے کہ ہمارے افغانستان کیساتھ تعلقات کیسے ہیں، ایران کیساتھ کیسے ہیں  انڈیا کیساتھ ہمارے تعلقات آج کس نوعیت کے ہیں مگر آج کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر کی مثال دیتے تھے آج آزاد کشمیر میں ایسا کیوں ؟  اب یہ لفظ اور کتنا استعمال ہوگا کہ یہ را کا ایجنٹ ہے، یہ فتنہ الہندوستان ہے انڈیا کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو ہم نے کہا تھا ہم فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سندھ اور جنوبی پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے ۔ ہمارے علاقوں میں تو حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے  پولیس کی چوکیاں ختم ہوچکی ہیں  فوج پر حملے ہورہے ہیں  بھارت کی طرف سے بھی مداخلت ہورہی ہے تو بتایا جائے  پارلیمان کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے ۔کشمیریوں کو اس حد مایوس کیا ہے کہ وہ آج باغیانہ تقاریر کررہے ہیں ۔آزاد کشمیر کے مسئلے پر بھی ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے ۔ ہم نے ہمیشہ بھارتی  فوج کے مظالم کے خلاف بات کی ہے  ہمارے ہاں کچھ ایسا ہورہا ہوتو پھر کیا سوال سامنے آئے گا  بھارت کے خلاف فوج کے ساتھ تھا اور ہوں  امریکہ ایران کے درمیان مصالحت پر ہم نے حکومت کی تائید کی ہے  اگر ہم عالمی سطح پر صلح و بات چیت کررہے ہیں تو افغانستان سے بات کیوں نہیں ہوسکتی  یہ فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان جیسی اصطلاحات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ کیا 1965اور 1975کی جنگوں میں افغانستان نے اپنے بارڈرز سے پاکستان کو بے غم ہونے کا نہیں کہہ دیا تھا ۔ آج افغانستان کو پاکستان کو ووٹ نہ دینے کے طعنے دئیے جارہے ہیں  آج پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جو کشیدگی نظر آرہی ہے وہ ماضی میں کبھی نہیں تھی   نواز شریف اور  بے نظیر کے درمیان کیا تناؤ نہیں رہا ہے  کیا ان کے درمیان صلح نہیں ہوئی  محمود خان اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہے  اچکزئی نے مجھ سے ووٹ نہیں مانگا  میثاق جمہوریت پر دستخط بے نظیر اور نواز شریف نے کئے تھے  میثاق جمہوریت میں طے نہیں ہوا تھا کہ ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرائیں گے  میں آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں  اگر آج ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں  مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ تو عمران خان کے خلاف تھے اب اسکی رہائی کے مطالبات کررہے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو اور میں اس کے خلاف بات کروں  وزیر اعظم نے میثاق جمہوریت کی بات کی ہے تو آئیں آگے بڑھیں  آپ ان کیمرہ اجلاس بلائیں اگر آپ کو خدشہ۔ ہے کہ پی ٹی آئی والے ہنگامہ کریں گے  میں پی ٹی آئی والوں کی ضمانت دیتا ہوں وہ کچھ نہیں کریں گے   اگر میں اور پی ٹی آئی اتنی مخالفت کے باوجود بہتری کی طرف سفر کرسکتے ہیں تو آپ بھی اپنے ہمسایہ کے ساتھ بات چیت کی طرف بڑھیں  آج پختونوں کو امن لشکرز کے نام پر جنگ لڑنے کے لئے کہا جارہا ہے ۔ آج کشمیر میں عوام کا کون سا ایک مطالبہ ایسا ہے جو ناجائز ہے  آئین پاکستان پر عمل کی پیشرفت زیرو ہے  اگر لوگوں کو ڈنڈے کے زور پر چلائیں گے تو ردعمل آئے گا  آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے کے لیے یکم جنوری تاریخ مقرر کی گئی  ابھی تک سود پر کوئی پیشرفت نہیں ہورہی ہے  چھبیسویں ترمیم میں جو چھوڑا وہ ستائیسویں میں لے لیا  آج پھر
#آج قومی اسمبلی میں بجٹ 2026.27 پر بحث کیلئے جیسے ہی سپیکر نے مولانا فضل الرحمن کا نام لیا تو پی ٹی وی پر جاری نشریات بند کر دی گئی، لیکن جمعیت علماء اسلام ڈجیٹل میڈیا کے توسط سے مولانا فضل الرحمن صاحب کا خطاب آپ کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے خود بھی پڑھیں اور شیئر کریں ! مولانا فضل الرحمن / پارلیمنٹ خطاب 2026-27 کا بجٹ اپنے روایتی بندوبست کے ساتھ پیش ہوچکا ہے روایات کے مطابق حکومت اس بجٹ کو کامیاب بجٹ قرار دے رہی ہے کچھ حقائق ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا اپوزیشن کی تقاریر بلیک آؤٹ ہورہی ہیں اور پی ٹی وی پر اپوزیشن کا نکتہ نظر پیش نہیں ہورہا یہ بہت بڑا ظلم ہے، پارلیمنٹ ایک ہے، ہم سب یہاں کولیگ ہیں جب سب کے مساوی حقوق ہیں تو قوم تک کیوں ہمارا نکتہ نظر نہیں پہنچنے دیا جارہا بجٹ پر مجھ سے زیادہ اچھی گفتگو یہاں ہوچکی ہے معیشت پاکستان کا مسئلہ ہے اور شہباز شریف کسی زمانے میں ہمارے ساتھ کنٹینر پر ہوا کرتے تھے اس وقت وہ کہتے تھے 6 ماہ میں معیشت ٹھیک نہ کردوں تو میرا نام شہباز شریف نہیں اس وقت عمران خان پر بھی ہم تنقید کرتے تھے مگر چاہییے تو یہ تھا کہ ہم اصلاحات کرتے مگر قرض بڑھ گئے آج ہر پاکستانی 3 لاکھ 25 ہزار کا مقروض ہے، قومی اسمبلی بجٹ اجلاس۔ آج غریب آدمی اپنی معمولی تنخواہ میں کیسے گزارا کررہا ہے وہ اس سے پوچھیں غربت پچیس سے انتیس فیصد پر چلی گئی ہے ملک کے اندر بدامنی ہے، ہمارے تھانے محفوظ نہیں ہیں، ہمارے فوجی، ایف سی اور پولیس کے جوان شہید ہورہے ہیں ہمارا دفاع مسلسل کیوں کمزور ہورہا ہے۔ ہمارا سوال ہے کہ پاکستان کہاں کھڑا ہے ہم یہاں بات کرنا مناسب نہیں سمجھتے اس لئے ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے بتایا جائے کہ ہمارے افغانستان کیساتھ تعلقات کیسے ہیں، ایران کیساتھ کیسے ہیں انڈیا کیساتھ ہمارے تعلقات آج کس نوعیت کے ہیں مگر آج کشمیر میں کیا ہورہا ہے؟ کل تک ہم مقبوضہ کشمیر کی مثال دیتے تھے آج آزاد کشمیر میں ایسا کیوں ؟ اب یہ لفظ اور کتنا استعمال ہوگا کہ یہ را کا ایجنٹ ہے، یہ فتنہ الہندوستان ہے انڈیا کے خلاف جنگ شروع ہوئی تو ہم نے کہا تھا ہم فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں، سندھ اور جنوبی پنجاب میں کچے کے ڈاکوؤں کا مسئلہ ہے ۔ ہمارے علاقوں میں تو حکومتی رٹ ختم ہوچکی ہے پولیس کی چوکیاں ختم ہوچکی ہیں فوج پر حملے ہورہے ہیں بھارت کی طرف سے بھی مداخلت ہورہی ہے تو بتایا جائے پارلیمان کا ایک ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے ۔کشمیریوں کو اس حد مایوس کیا ہے کہ وہ آج باغیانہ تقاریر کررہے ہیں ۔آزاد کشمیر کے مسئلے پر بھی ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے ۔ ہم نے ہمیشہ بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف بات کی ہے ہمارے ہاں کچھ ایسا ہورہا ہوتو پھر کیا سوال سامنے آئے گا بھارت کے خلاف فوج کے ساتھ تھا اور ہوں امریکہ ایران کے درمیان مصالحت پر ہم نے حکومت کی تائید کی ہے اگر ہم عالمی سطح پر صلح و بات چیت کررہے ہیں تو افغانستان سے بات کیوں نہیں ہوسکتی یہ فتنہ الخوارج و فتنہ الہندوستان جیسی اصطلاحات سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ کیا 1965اور 1975کی جنگوں میں افغانستان نے اپنے بارڈرز سے پاکستان کو بے غم ہونے کا نہیں کہہ دیا تھا ۔ آج افغانستان کو پاکستان کو ووٹ نہ دینے کے طعنے دئیے جارہے ہیں آج پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان جو کشیدگی نظر آرہی ہے وہ ماضی میں کبھی نہیں تھی نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان کیا تناؤ نہیں رہا ہے کیا ان کے درمیان صلح نہیں ہوئی محمود خان اچکزئی ہمارے اپوزیشن لیڈر ہے اچکزئی نے مجھ سے ووٹ نہیں مانگا میثاق جمہوریت پر دستخط بے نظیر اور نواز شریف نے کئے تھے میثاق جمہوریت میں طے نہیں ہوا تھا کہ ایک دوسرے کی حکومتیں نہیں گرائیں گے میں آج بھی کہتا ہوں کہ عمران خان کو باہر آنے دیں اگر آج ایک شخص کی وجہ سے ملکی تناؤ ہے تو اسے باہر نکالیں مجھے کہا جاتا ہے کہ آپ تو عمران خان کے خلاف تھے اب اسکی رہائی کے مطالبات کررہے ہیں ۔ میں کہتا ہوں کہ مخالف جیل میں ہاتھ پاؤں بندھا پڑا ہو اور میں اس کے خلاف بات کروں وزیر اعظم نے میثاق جمہوریت کی بات کی ہے تو آئیں آگے بڑھیں آپ ان کیمرہ اجلاس بلائیں اگر آپ کو خدشہ۔ ہے کہ پی ٹی آئی والے ہنگامہ کریں گے میں پی ٹی آئی والوں کی ضمانت دیتا ہوں وہ کچھ نہیں کریں گے اگر میں اور پی ٹی آئی اتنی مخالفت کے باوجود بہتری کی طرف سفر کرسکتے ہیں تو آپ بھی اپنے ہمسایہ کے ساتھ بات چیت کی طرف بڑھیں آج پختونوں کو امن لشکرز کے نام پر جنگ لڑنے کے لئے کہا جارہا ہے ۔ آج کشمیر میں عوام کا کون سا ایک مطالبہ ایسا ہے جو ناجائز ہے آئین پاکستان پر عمل کی پیشرفت زیرو ہے اگر لوگوں کو ڈنڈے کے زور پر چلائیں گے تو ردعمل آئے گا آئینی ترمیم میں سود کے خاتمے کے لیے یکم جنوری تاریخ مقرر کی گئی ابھی تک سود پر کوئی پیشرفت نہیں ہورہی ہے چھبیسویں ترمیم میں جو چھوڑا وہ ستائیسویں میں لے لیا آج پھر

About