@service.provider.69: اُسے معلوم تھا کہ میں اُس پر مرتا ہوں اور اذیت یہ ہے کہ اُس نے پھر بھی میری پروا نہ کی۔ میں نے اپنی ہر دعا کے آخر میں اُس کا نام رکھا، ہر خواب کی پیشانی پر اُس کی مسکراہٹ سجا دی، اپنی راتوں کے چراغ اُس کی یاد کے نام کر دیے، اور دن کی ہر دھوپ میں اُس کے انتظار کا سایہ ڈھونڈتا رہا۔ مگر شاید محبت کا حساب دل سے نہیں، قسمت سے لکھا جاتا ہے۔ وہ جانتی تھی کہ میری خاموشیوں میں صرف وہ بولتی ہے، میرے لفظوں کے درمیان صرف اُس کا ذکر رہتا ہے، میری ہر ہنسی کے پیچھے اُس کی ایک جھلک چھپی ہوتی ہے، اور میری ہر اداسی کا سبب بھی وہی تھی۔ پھر بھی اُس نے پلٹ کر نہ دیکھا، جیسے میں کوئی گزرنے والا موسم تھا، یا راہ میں بکھرا ہوا کوئی پتہ، جسے ہوا کے حوالے کر دینا ہی کافی سمجھا گیا۔ میں نے کبھی محبت کو سودا نہیں سمجھا، نہ ہی وفا کے بدلے وفا مانگی۔ بس اتنی سی خواہش تھی کہ جب دنیا مجھے بھول جائے، وہ کم از کم ایک لمحہ میرے نام کر دے۔ مگر اُس نے تو میری موجودگی کو بھی اپنی مصروف زندگی کی گرد میں چھپا دیا۔ اب جب رات بہت خاموش ہوتی ہے، تو دل آہستہ سے یہی سوال کرتا ہے: کیا محبت واقعی اتنی معمولی تھی، یا میں ہی اُس کے نصیب میں لکھا نہ تھا؟ جو شخص اپنی پوری کائنات کسی ایک انسان کے گرد بسا لے، اُسے ٹوٹنے کے لیے صرف ایک بےرخی کافی ہوتی ہے۔ پھر بھی عجیب بات ہے، میں آج بھی اُس کے لیے بددعا نہیں کرتا۔ محبت اگر سچی ہو تو شکوے بھی دعا بن جاتے ہیں، اور آنسو بھی عبادت۔ ہاں، درد اب بھی باقی ہے، مگر اُس درد نے مجھے یہ سکھا دیا کہ ہر چاہنے والا، چاہا نہیں جاتا۔ اُسے معلوم تھا کہ میں اُس پر مرتا ہوں، اور میری سب سے بڑی اذیت یہی رہے گی کہ وہ سب جانتے ہوئے بھی میری محبت کی طرف ایک بار بھی نہ لوٹی، اور میری پروا نہ کی۔ #foryou #fyp #poetry