تعویذ کا لفاظ اعوذ یعنی پناہ سے نکلا ہے اور تعویذ اس کو کہتے ہیں جو کسی چیز سے پناہ کے لیئے ہو اور مسلمان کے کیئے تعویذ وہ سب صبح و شام کے اذکار اور دعائیں ہیں جو مسلمانوں کے نبی جناب محمد رسولﷲ ﷺ نے بتائی ہیں ہم ان دعاؤں کو چھوڑ کر شرکیہ تعویذوں کے طرف بھاگتے ہیں
2026-08-06 19:40:33
1
Abdullah :
mofti sab taviz or jado ho jata hy kiya ?
to os ka hal kiya hy g plz kiya bandash hoti hy ki c chiz ki
2026-08-06 19:29:46
0
𝕎𝔸ℚ𝔸ℝ ℝ𝔸ℍ𝕄𝔸ℕ𝕝 :
molana sab sanga y
2026-08-06 19:06:46
0
Mufti ismail toru :
(فتاوی شامی ۔6 / 363، کتاب الحظر والاباحة، ط: سعید)
"عن عمرو بن شعیب عن أبیه عن جده رضي اللّٰه عنه أن رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وسلم کان یعلمهم من الفزع کلمات: أعوذ باللّٰه بکلمات اللّٰه التامة من غضبه وشر عباده، ومن همزات الشیاطین وأن یحضرون، وکان عبد اللّٰه بن عمرو رضي اللّٰه عنه یعلمهن من عقل من بنیه، ومن لم یعقل کتبه فأعلقه علیه".
(سنن أبي داؤد ۲؍۵۴۳مطبع دیوبند، مشکاة المصابیح۲۱۷)💞❤️
2026-08-06 20:35:05
1
user343145505344 :
جواب دو
2026-08-07 13:51:40
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:57
0
Pakistan :
Molana sahib Mene B ap SE dam katana he bhot se taveez k adon SE mayoos ho CHUKA ho please bataen me ap SE kese mil Sakta hon
2026-08-06 21:26:42
0
Aseel lover.... :
سر بہت اچھا کام کر رہے ہیں اپ کیوں کہ اج کل یہ کام بہت ہو رہے ہیں اور لوگ متاثر ہو رہے ہیں اور عزتیں بھی محفوظ نہیں
2026-08-07 02:47:27
0
Mufti ismail toru :
1. یہ اثر متعدد محدثین نے نقل کیا ہے، اور بہت سے فقہائے امت، خصوصاً فقہائے احناف، نے اس سے استدلال کیا ہے کہ اگر تعویذ قرآن یا مسنون دعاؤں پر مشتمل ہو اور شرکیہ الفاظ نہ ہوں تو جائز ہے۔
2. جن احادیث میں تعویذ سے ممانعت آئی ہے، ان کا محمل جمہور اہل علم کے نزدیک شرکیہ تعویذات یا جاہلیت کے تعویذات ہیں، نہ کہ قرآن و دعا پر مشتمل تعویذات۔
3. اسی بنا پر امام عبد اللہ بن عمرو بن العاص کا یہ عمل جواز کی دلیل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اور احناف، مالکیہ اور بعض شوافع و حنابلہ نے بھی اس کی گنجائش ذکر کی ہے، بشرطیکہ تعویذ میں صرف قرآن یا ثابت شدہ دعائیں ہوں اور اس میں شرکیہ یا باطل کلمات نہ ہوں۔
خلاصہ:
اگر تعویذ میں قرآن کریم یا مسنون دعائیں ہوں، جیسے «أعوذ بكلمات الله التامات…»، تو اس کے جواز پر صحابی کا عمل بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے۔ البتہ اس مسئلے میں اہل علم کے درمیان اختلاف موجود ہے، اور بعض علماء احتیاطاً ہر قسم کے لٹکائے جانے والے تعویذ سے اجتناب کی رائے دیتے ہیں
2026-08-06 20:44:47
0
user343145505344 :
معوذتین کسے کہتے ہے پھر شروع میں قل ہے قل اعوذ برب الفلق۔ اکتب نہیں شرک کے دروازے مت کھول
2026-08-07 13:51:29
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:36
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:26
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:16
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:03
0
فرحان اللہ :
2026-08-07 08:43:50
0
Mufti ismail toru :
التمائم) جمع تمیمۃ، والمراد بھا التعاویذ التی تحتوی علی رقی الجاھلیۃ من اسماء الشیاطین والفاظ لا یعرف معناھا، قیل: التمائم خرزات کانت العرب فی الجاھلیۃ تعلقھا علی اولادھم یتقون بھا العین فی زعمھم، فابطلہ الاسلام، لانہ ینفع ولا یدفع الا اللہ تعالی
ترجمہ: تمائم تمیمہ کی جمع ہے، اس سے مراد وہ تعویذ ہیں جو زمانہ جاہلیت کے ایسے دموں پر مشتمل ہیں، جن میں شیاطین کے نام اور ایسے الفاظ ہوتے ہیں جن کے معنی معلوم نہ ہوں اور کہا گیا کہ تمائم سے مراد وہ گھونگے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اپنی اولاد کے گلوں میں ڈالتے، ان کا گمان یہ ہوتا تھا کہ یہ (ذاتی طور پر)بچوں کو نظر بد سے بچاتے ہیں، تو اسلام نے اس کو باطل قرار دیا، کیونکہ اللہ تعالی کی مرضی کے بغیر کوئی چیز نفع نہیں پہنچا سکتی اور نہ مصیبت دور کر سکتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح ، ج 8، ص 255، مطبوعہ کوئٹہ)
(۴) ممانعت والی روایات سے مراد شیطانی منتر یا جادو ہے یا ایسا عمل ہے کہ جسے کسی ناجائز کام کے لیے کیا جائے جیسے میاں بیوی میں جدائی کروانے کے لیے وغیرہ ۔ چنانچہ امام نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”قال القاضي وجاء في حديث في غير مسلم سئل عن النشرة فأضافها إلى الشيطان قال والنشرة عروفة مشهورة عند أهل التعزيم وسميت بذلك لأنها تنشر عن صاحبها أي تخلي عنه وقال الحسن هي من السحر قال القاضي وهذا محمول على أنها أشياء خارجة عن كتاب الله تعالى وأذكاره وعن المداواة المعروفة التي هي من جنس المباح
ترجمہ: قاضی عیاض علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ صحیح مسلم کے علاوہ کی حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے نشرہ (منتر یا جادو) کے متعلق پوچھا گیا، تو نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اس کی نسبت شیطان کی طرف فرمائی ۔ قاضی عیاض علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں کہ نشرہ اہل تعزیم کے نزدیک مشہور و معروف ہے اور اس کو نشرہ اس لیے کہتے ہیں کہ وہ عورت کو مرد سے جدا کرتا ہے۔ قاضی عیاض علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ممانعت اس پر محمول ہے کہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ کے ذکر اور معروف مباح کاموں سے خارج ہیں۔ (شرح النووی علی المسلم ،ج14،ص168 تا 169،دار احیاء التراث العربی، بیروت)
2026-08-06 20:39:10
0
Mufti ismail toru :
ائمہ محدثین کی “عمرو بن شعیب، عن أبیہ، عن جدہ” کے بارے میں چند اصل عربی عبارات درج ذیل ہیں:
1. امام ترمذیؒ
قال أبو عيسى: وحديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده حديث حسن.
(جامع الترمذی، متعدد مقامات)
ترجمہ: عمرو بن شعیب کی اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت حسن ہے۔
⸻
2. امام احمد بن حنبلؒ
إذا كان من كتابه فهو صحيح.
(نقلہ ابن رجب في شرح علل الترمذي)
ترجمہ: جب وہ اپنی کتاب سے روایت کرے تو وہ صحیح ہوتی ہے۔
⸻
3. امام اسحاق بن راہویہؒ
حديث عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده كأيوب عن نافع عن ابن عمر.
(شرح علل الترمذي لابن رجب)
ترجمہ: عمرو بن شعیب کی اپنے والد اور دادا سے روایت، ایوب کی نافع سے ابن عمر کی روایت کی طرح معتبر ہے۔
⸻
4. حافظ ابن حجر عسقلانیؒ
نسخة عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده من النسخ المشهورة، واحتج بها جمهور الأئمة.
(فتح الباري)
ترجمہ: عمرو بن شعیب کی اپنے والد اور دادا سے روایت مشہور نسخوں میں سے ہے، اور جمہور ائمہ نے اس سے استدلال کیا ہے۔
⸻
5. امام نوویؒ
عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده حديث حسن يحتج به عند جماهير أهل العلم.
(المجموع)
ترجمہ: عمرو بن شعیب کی اپنے والد اور دادا سے روایت حسن ہے، اور جمہور اہل علم کے نزدیک قابلِ حجت ہے۔
خلاصہ
لہٰذا یہ کہنا درست نہیں کہ “عمرو بن شعیب عن أبیہ عن جدہ” مطلقاً ضعیف سند ہے۔ جمہور محدثین نے اسے حسن یا قابلِ احتجاج قرار دیا ہے، اگرچہ بعض ائمہ نے اس کے بارے میں کچھ قیود یا اختلاف ذکر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سند سے مروی روایات کو فقہاء اور محدثین نے متعدد مسائل میں دلیل کے طور پر قبول کیا ہے۔
2026-08-06 20:47:17
0
Mufti ismail toru :
علامہ البانی فرماتے ہیں :
''اور اسی قسم سے بعض لوگوں کا گھر کے دروازے پر جوتا لٹکانا، یا مکان کے اگلے حصے پر، یا بعض ڈرائیوروں کا گاڑی کے آگے، یا پیچھے جوتے لٹکانا، یا گاڑی کے اگلے شیشے پر ڈرائیور کے سامنے نیلے رنگ کے منکے لٹکانا بھی ہے، یہ سب ان کے زعم باطل کے مطابق نظر بد سے بچائو کی وجہ سے ہے۔'' [السلسلۃ الصحیحۃ (۱/۶۵۰)]
2026-08-06 20:41:53
0
Mufti ismail toru :
💞
مطلقاً شرک قرار دینا تو غلط ہے، البتہ کسی تعویذ میں کلماتِ شرکیہ ہوں یااس کو لینے دینے والے موٴثر بالذات سمجھتے ہوں یا ٹوٹکا اورجادو وغیرہ کے قبیل سے ہو تو بلاشبہ شرک وحرام ہے، لیکن جس تعویذ میں اسماء اللہ تعالیٰ یا ادعیہٴ ماثورہ ہوں اوراس کو موٴثر حقیقی نہ سمجھا جاتا ہو تو اس قسم کے تعویذ کو بھی شرک قراردینا تحکم و زیادتی ہے، اس لیے کہ اس قسم کے تعویذ کے لینے دینے اور استعمال کی اجازت کتب حدیث اور کتبِ فقہ و فتاویٰ سے ملتی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، مرقات شرح المشکاة، ص:۳۲۱ و ۳۲۲، ج۸، الترغیب والترہیب، ج۵ ص۲۷۱، ابوداوٴد شریف، ج۲، ص۹۲، الفتاویٰ رد المحتار، ج۵ ص۲۳۲ وغیرہا، جو لوگ علی الاطلاق شرک قراردیتے ہیں درست نہیں
2026-08-06 20:37:18
1
Mufti ismail toru :
(الدر المختار مع رد المحتار،کتاب الحظروالاباحۃ،(6/ 363) ط:سعید)
ملاعلی قاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
"وأما ما کان من الآیات القرآنیة، والأسماء والصفات الربانیة، والدعوات المأثورة النبویة، فلا بأس، بل یستحب سواء کان تعویذا أو رقیة أو نشرة، وأما علی لغة العبرانیة ونحوھا، فیمتنع لاحتمال الشرک فیھا".
(مرقاة المفاتیح، کتاب الطب والرقی،7 / 2880 ط: بیروت)
تفسیر روح المعانی میں ہے: قال مالک: لا باس بتعلیق الکتب التی فیھا اسماء اللہ تعالی علی اعناق المرضی علی وجہ التبرک بھا اذا لم یرد معلقھا بذلک مدافعۃ العین، وعنی بذلک انہ لا باس بالتعلیق بعد نزول البلاء رجاء الفرج والبر، کالرقی التی وردت السنۃ بھا من العین، واما قبل النزول ففیہ باس وھو غریب، وعند ابن المسیب یجوز تعلیق العوذۃ من کتاب اللہ تعالی فی قصبۃ ونحوھا وتوضع عند الجماع وعند الغائط، ولم یقید بقبل او بعد، ورخص الباقر فی العوذۃ تعلق علی الصبیان مطلقاً وکان ابن سیرین لا یری باساً بالشیء من القرآن یعلقہ الانسان کبیراً او صغیراً مطلقاً وھو الذی علیہ الناس قدیماً وحدیثاً فی سائر الامصار‘‘
ترجمہ: امام مالک علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ایسا تعویذ جس میں اللہ عزوجل کے اسماء موجود ہوں، مریضوں کے گلے میں بطورِ تبرّک لٹکانے میں کوئی حرج نہیں، جبکہ اس سے مدافعۃ العین کا ارادہ نہ کرے، اس سے مراد یہ ہے کہ نزول بلا کے بعد اس کے دور ہونے کی امید کرتے ہوئے لٹکانے میں حرج نہیں جیسے نظر کا وہ دم جس کے متعلق سنت وارد ہوئی ہے، بہر حال نزولِ بلا(مصیبت آنے ) سے قبل، تو اس میں حرج ہے، (لیکن) یہ قول غریب ہے، حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کے نزدیک کتاب اللہ سے لکھا ہوا تعویذ ڈبیہ وغیرہا میں لٹکانا، جائز ہے جسے جماع کے وقت اور بیت الخلاء جاتے ہوئے اتار دیا جائے، انہوں نے نزولِ بلا سے قبل و بعد کی کوئی قید نہیں لگائی، امام باقر علیہ الرحمۃ نے بچوں کے لئے مطلقاً تعویذ لٹکانے کی اجازت عطا فرمائی اور امام ابن سیرین علیہ الرحمۃ اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ قرآن کریم میں سے لکھا ہوا تعویذ انسان کو لٹکایا جائے، چاہے وہ بڑا ہو یا چھوٹا، اسی پر پرانے اور نئے زمانے کے تمام شہروں کے لوگوں کا اعتقاد ہے۔ (تفسیر روح المعانی، تحت الایۃ 82، ج 8، ص 139، مطبوعہ بیروت)
2026-08-06 20:37:57
0
Mufti ismail toru :
کالے علم اور جادو کا حل یہ ہے جی ادھر ادھر نہ جاؤ
2026-08-06 20:52:02
2
Younaas :
Pa dam so rupee akhali ?
2026-08-07 12:34:46
0
To see more videos from user @muftiismailtoruofficial, please go to the Tikwm
homepage.