@fy2u1: فيو ورطت كرستيانو

فيو
فيو
Open In TikTok:
Region: IQ
Thursday 06 August 2026 19:13:57 GMT
435401
12185
953
1607

Music

Download

Comments

user8350656160570
رضا الربيعي ☠️🇮🇶 :
تم الغاء المتابعة
2026-08-07 04:56:02
64
t12_y3
نبيَ :
تم الغاء المتابعة بنجاح
2026-08-07 15:22:51
35
user4328126035318
ا̥̊ي̥̊ت̥̊ا̥̊ش̥̊ي̥̊ :
تم الغاء المتابع
2026-08-07 13:44:25
30
user65963633861681
البرتــــقالي كريـــس ☠️💀 :
تم الغاء الاشتراك
2026-08-07 05:36:21
25
brahemaiaa
بـرهـَم؟ :
تم الغاء المتابعه بنجاح
2026-08-06 23:46:25
40
mayar_4577
𝑴 :
عمي تم المتابعة بنجاححححح
2026-08-07 22:33:52
14
alisalamalsalam
༒ عـ𓄌ـلي ༒ :
هذا ميسي
2026-08-06 21:44:22
16
10033f
حاقــد؟ :
عمكم
2026-08-06 21:51:18
23
100990ooo
ابوــلصوف؟«~» ٪CR7⚠️ :
تم الغاء المتابعة
2026-08-08 05:57:30
6
moamal.775511
َ :
تم الغاء المتابعه
2026-08-07 03:13:35
18
user8005150933423
جُوان :
تم ضغط زر لمتابعا
2026-08-12 16:51:03
3
To see more videos from user @fy2u1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اسلام ایک عظیم عمارت ہے، اور اس عمارت کی پہلی اینٹ ‘اقْرَأْ’ ہے۔ یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ میں سوچنے لگا… جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی نازل فرمائی… تو پہلا حکم نماز کا نہیں تھا… روزے کا نہیں تھا… زکوٰۃ کا نہیں تھا… بلکہ پہلا حکم تھا… “اقْرَأْ” پڑھیے۔ لیکن فوراً اس کے ساتھ فرمایا… ﴿بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ “اپنے رب کے نام سے۔” میں دیر تک یہی سوچتا رہا… اللہ تعالیٰ صرف “پڑھو” بھی فرما سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے فرمایا… “اپنے رب کے نام سے پڑھو۔” کیوں؟ کیونکہ ایسا علم… جو انسان کو اپنے رب سے دور کر دے… وہ روشنی نہیں… صرف معلومات ہے۔ اور وہ علم… جو انسان کو اپنے خالق کی معرفت عطا کر دے… وہی حقیقی علم ہے۔ پھر فرمایا… ﴿الَّذِي خَلَقَ﴾ “جس نے پیدا کیا۔” کتنی گہری بات ہے… علم کی ابتدا… خالق کے تعارف سے کروائی گئی۔ گویا… اگر تم نے پوری دنیا کا علم حاصل کر لیا… لیکن اپنے خالق کو نہ پہچانا… تو تم نے ابھی سب سے ضروری سبق نہیں سیکھا۔ پھر اگلی آیت آئی… ﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ “اس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔” میں اس آیت پر بہت دیر تک رکا رہا… کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کو… اس کی ابتدا یاد دلا رہے ہیں۔ آج انسان… اپنی طاقت پر فخر کرتا ہے… اپنی دولت پر غرور کرتا ہے… اپنے علم پر تکبر کرتا ہے… لیکن وہ بھول جاتا ہے… کہ اس کی ابتدا کیا تھی۔ جس انسان کی ابتدا… اتنی معمولی تھی… وہ آخر کس بات پر تکبر کرے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ فرمایا… ﴿اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ﴾ “پڑھیے، اور آپ کا رب سب سے زیادہ کرم والا ہے۔” میں نے سوچا… اللہ نے دوبارہ “اقْرَأْ” کیوں فرمایا؟ شاید اس لیے… کہ علم کا سفر… ایک بار پڑھ لینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ سیکھنا… زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ہر دن… ہر تجربہ… ہر آزمائش… انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے۔ پھر فرمایا… ﴿الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ “جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔” قلم… صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں۔ قلم… قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ قلم… ایسے خیالات کو زندہ رکھتا ہے… جو صدیوں بعد بھی دلوں کو جگاتے ہیں۔ اسی قلم سے قرآن لکھا گیا… حدیث محفوظ ہوئی… اور علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ پھر فرمایا… ﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ “انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔” تب مجھے احساس ہوا… ہم جتنا بھی جانتے ہیں… وہ سب اللہ کی عطا ہے۔ اگر اللہ چاہے… تو ایک لمحے میں انسان اپنی یادداشت کھو دے۔ اگر اللہ چاہے… تو زبان بولنا بھول جائے۔ اگر اللہ چاہے… تو عقل کام کرنا چھوڑ دے۔ پھر کس بات کا غرور؟ شاید اسی لیے… قرآن کا آغاز… علم سے ہوا۔ کیونکہ جہالت… صرف نہ جاننے کا نام نہیں۔ اصل جہالت… اپنے رب کو بھول جانا ہے۔ اور اصل علم… صرف کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں۔ اصل علم… وہ ہے… جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرے… اس کے کردار کو سنوار دے… اس کی زبان کو سچا بنا دے… اور اس کے اخلاق میں عاجزی پیدا کر دے۔ تب مجھے محسوس ہوا… اسلام کی پہلی اینٹ… “اقْرَأْ” ہے۔ کیونکہ جس قوم کا تعلق علم سے ٹوٹ جائے… وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتی ہے۔ اور جس قوم کا تعلق… علم کے ساتھ ساتھ اپنے رب سے بھی جڑ جائے… اسے دنیا کی کوئی طاقت زیادہ دیر تک جھکا نہیں سکتی۔ شاید اسی لیے… قرآن کا پہلا لفظ… صرف ایک حکم نہیں تھا… بلکہ پوری امت کے لیے ایک اعلان تھا۔ پڑھو… لیکن اپنے رب کو پہچاننے کے لیے۔ سیکھو… لیکن عاجزی کے ساتھ۔ لکھو… لیکن حق کے لیے۔ اور جیو… تاکہ تمہارا علم… تمہیں دنیا میں عزت… اور آخرت میں اللہ کی رضا عطا کر دے۔ پھر مجھے ایک بات سمجھ آئی… علم حاصل کرنا… صرف ڈگری لینے کا نام نہیں۔ صرف اچھی نوکری… اعلیٰ عہدہ… یا دنیاوی کامیابی حاصل کرنے کا نام نہیں۔ اسلام ہمیں دنیاوی علم حاصل کرنے سے نہیں روکتا… بلکہ ہمیں سکھاتا ہے… کہ ہر وہ علم حاصل کرو… جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔ لیکن… یہ بھی یاد رکھو… کہ علم کا مقصد یہ نہیں… کہ انسان اپنے رب کو بھول جائے۔ علم انسان میں غرور نہیں… عاجزی پیدا کرے۔ دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت دے… مگر آخرت کو نہ بھلائے۔ لوگوں کے درمیان عزت دے… مگر اللہ کے سامنے جھکنا بھی سکھائے۔ علم ہمیں یہ سکھائے… کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ کہاں رکنا ہے… اور کہاں اپنے نفس سے لڑنا ہے۔ وہ علم… جو انسان کو بے حیائی، گناہوں اور اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جائے… وہ انسان کو فائدہ نہیں دیتا۔ اور وہ علم… جو دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے… اس کا خوف پیدا کرے… اخلاق کو سنوار دے… اور انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے… وہی حقیقی علم ہے۔ شاید اسی لیے… قرآن کا پہلا حکم “اقْرَأْ” تھا۔ تاکہ ہم صرف کتابیں نہ پڑھیں… بلکہ اپنے رب کی نشانیاں بھی پڑھیں۔ صرف دنیا کو نہ سمجھیں… بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچانیں۔ کیونکہ… وہ علم سب سے قیمتی ہے… جو ذہن کو روشنی دے… کردار کو پاکیزگی دے… #fyp #foryouofficialpage #foryoupage #تصوف_شریعت_طریقت_حقیقت #صلي_علي_النبي_محمد_صلي_الله_عليه_وسلم
اسلام ایک عظیم عمارت ہے، اور اس عمارت کی پہلی اینٹ ‘اقْرَأْ’ ہے۔ یہ جملہ میرے دل میں اتر گیا۔ میں سوچنے لگا… جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد ﷺ پر پہلی وحی نازل فرمائی… تو پہلا حکم نماز کا نہیں تھا… روزے کا نہیں تھا… زکوٰۃ کا نہیں تھا… بلکہ پہلا حکم تھا… “اقْرَأْ” پڑھیے۔ لیکن فوراً اس کے ساتھ فرمایا… ﴿بِاسْمِ رَبِّكَ﴾ “اپنے رب کے نام سے۔” میں دیر تک یہی سوچتا رہا… اللہ تعالیٰ صرف “پڑھو” بھی فرما سکتے تھے۔ لیکن انہوں نے فرمایا… “اپنے رب کے نام سے پڑھو۔” کیوں؟ کیونکہ ایسا علم… جو انسان کو اپنے رب سے دور کر دے… وہ روشنی نہیں… صرف معلومات ہے۔ اور وہ علم… جو انسان کو اپنے خالق کی معرفت عطا کر دے… وہی حقیقی علم ہے۔ پھر فرمایا… ﴿الَّذِي خَلَقَ﴾ “جس نے پیدا کیا۔” کتنی گہری بات ہے… علم کی ابتدا… خالق کے تعارف سے کروائی گئی۔ گویا… اگر تم نے پوری دنیا کا علم حاصل کر لیا… لیکن اپنے خالق کو نہ پہچانا… تو تم نے ابھی سب سے ضروری سبق نہیں سیکھا۔ پھر اگلی آیت آئی… ﴿خَلَقَ الْإِنسَانَ مِنْ عَلَقٍ﴾ “اس نے انسان کو جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔” میں اس آیت پر بہت دیر تک رکا رہا… کیونکہ اللہ تعالیٰ انسان کو… اس کی ابتدا یاد دلا رہے ہیں۔ آج انسان… اپنی طاقت پر فخر کرتا ہے… اپنی دولت پر غرور کرتا ہے… اپنے علم پر تکبر کرتا ہے… لیکن وہ بھول جاتا ہے… کہ اس کی ابتدا کیا تھی۔ جس انسان کی ابتدا… اتنی معمولی تھی… وہ آخر کس بات پر تکبر کرے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے دوبارہ فرمایا… ﴿اقْرَأْ وَرَبُّكَ الْأَكْرَمُ﴾ “پڑھیے، اور آپ کا رب سب سے زیادہ کرم والا ہے۔” میں نے سوچا… اللہ نے دوبارہ “اقْرَأْ” کیوں فرمایا؟ شاید اس لیے… کہ علم کا سفر… ایک بار پڑھ لینے سے مکمل نہیں ہوتا۔ سیکھنا… زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ ہر دن… ہر تجربہ… ہر آزمائش… انسان کو کچھ نہ کچھ سکھاتی ہے۔ پھر فرمایا… ﴿الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ﴾ “جس نے قلم کے ذریعے سکھایا۔” قلم… صرف لکھنے کا ذریعہ نہیں۔ قلم… قوموں کی تقدیر بدل دیتا ہے۔ قلم… ایسے خیالات کو زندہ رکھتا ہے… جو صدیوں بعد بھی دلوں کو جگاتے ہیں۔ اسی قلم سے قرآن لکھا گیا… حدیث محفوظ ہوئی… اور علم نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ پھر فرمایا… ﴿عَلَّمَ الْإِنسَانَ مَا لَمْ يَعْلَمْ﴾ “انسان کو وہ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔” تب مجھے احساس ہوا… ہم جتنا بھی جانتے ہیں… وہ سب اللہ کی عطا ہے۔ اگر اللہ چاہے… تو ایک لمحے میں انسان اپنی یادداشت کھو دے۔ اگر اللہ چاہے… تو زبان بولنا بھول جائے۔ اگر اللہ چاہے… تو عقل کام کرنا چھوڑ دے۔ پھر کس بات کا غرور؟ شاید اسی لیے… قرآن کا آغاز… علم سے ہوا۔ کیونکہ جہالت… صرف نہ جاننے کا نام نہیں۔ اصل جہالت… اپنے رب کو بھول جانا ہے۔ اور اصل علم… صرف کتابیں پڑھ لینے کا نام نہیں۔ اصل علم… وہ ہے… جو انسان کے دل میں اللہ کا خوف پیدا کرے… اس کے کردار کو سنوار دے… اس کی زبان کو سچا بنا دے… اور اس کے اخلاق میں عاجزی پیدا کر دے۔ تب مجھے محسوس ہوا… اسلام کی پہلی اینٹ… “اقْرَأْ” ہے۔ کیونکہ جس قوم کا تعلق علم سے ٹوٹ جائے… وہ اپنی پہچان بھی کھو دیتی ہے۔ اور جس قوم کا تعلق… علم کے ساتھ ساتھ اپنے رب سے بھی جڑ جائے… اسے دنیا کی کوئی طاقت زیادہ دیر تک جھکا نہیں سکتی۔ شاید اسی لیے… قرآن کا پہلا لفظ… صرف ایک حکم نہیں تھا… بلکہ پوری امت کے لیے ایک اعلان تھا۔ پڑھو… لیکن اپنے رب کو پہچاننے کے لیے۔ سیکھو… لیکن عاجزی کے ساتھ۔ لکھو… لیکن حق کے لیے۔ اور جیو… تاکہ تمہارا علم… تمہیں دنیا میں عزت… اور آخرت میں اللہ کی رضا عطا کر دے۔ پھر مجھے ایک بات سمجھ آئی… علم حاصل کرنا… صرف ڈگری لینے کا نام نہیں۔ صرف اچھی نوکری… اعلیٰ عہدہ… یا دنیاوی کامیابی حاصل کرنے کا نام نہیں۔ اسلام ہمیں دنیاوی علم حاصل کرنے سے نہیں روکتا… بلکہ ہمیں سکھاتا ہے… کہ ہر وہ علم حاصل کرو… جو انسان اور معاشرے کے لیے فائدہ مند ہو۔ لیکن… یہ بھی یاد رکھو… کہ علم کا مقصد یہ نہیں… کہ انسان اپنے رب کو بھول جائے۔ علم انسان میں غرور نہیں… عاجزی پیدا کرے۔ دنیا کو سمجھنے کی صلاحیت دے… مگر آخرت کو نہ بھلائے۔ لوگوں کے درمیان عزت دے… مگر اللہ کے سامنے جھکنا بھی سکھائے۔ علم ہمیں یہ سکھائے… کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ کہاں رکنا ہے… اور کہاں اپنے نفس سے لڑنا ہے۔ وہ علم… جو انسان کو بے حیائی، گناہوں اور اللہ کی نافرمانی کی طرف لے جائے… وہ انسان کو فائدہ نہیں دیتا۔ اور وہ علم… جو دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرے… اس کا خوف پیدا کرے… اخلاق کو سنوار دے… اور انسان کو اپنے رب کے قریب کر دے… وہی حقیقی علم ہے۔ شاید اسی لیے… قرآن کا پہلا حکم “اقْرَأْ” تھا۔ تاکہ ہم صرف کتابیں نہ پڑھیں… بلکہ اپنے رب کی نشانیاں بھی پڑھیں۔ صرف دنیا کو نہ سمجھیں… بلکہ اپنے خالق کو بھی پہچانیں۔ کیونکہ… وہ علم سب سے قیمتی ہے… جو ذہن کو روشنی دے… کردار کو پاکیزگی دے… #fyp #foryouofficialpage #foryoupage #تصوف_شریعت_طریقت_حقیقت #صلي_علي_النبي_محمد_صلي_الله_عليه_وسلم

About