@radiocourt.com: #SindhEducation #EducationCrisis #GovernmentSchools #Students #PakistanEducation سندھ کا غریب بچہ کب آگے بڑھے گا؟ سندھ کے دور دراز دیہات اور پسماندہ علاقوں میں رہنے والے ہزاروں غریب بچوں کی زندگی کا سب سے بڑا خواب صرف اتنا ہوتا ہے کہ انہیں ایک ایسا اسکول مل جائے جہاں استاد موجود ہو، بیٹھنے کے لیے جگہ ہو، پینے کا صاف پانی ہو، بجلی ہو اور پڑھائی باقاعدگی سے ہو۔ لیکن بہت سے علاقوں میں یہ بنیادی سہولیات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ بعض ناقدین کا مؤقف ہے کہ سندھ کے سرکاری تعلیمی نظام میں ایسے مسائل موجود ہیں جن میں خستہ حال عمارتیں، اساتذہ کی کمی، ناقص تعلیمی معیار، اور بنیادی سہولیات کا فقدان شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس کا سب سے زیادہ نقصان ایک غریب سندھی بچے کو اٹھانا پڑتا ہے، جس کے والدین مہنگے نجی اسکولوں کی فیس ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ بھی تنقید کی جاتی ہے کہ جب ایک طرف ہزاروں اسکول بنیادی سہولیات سے محروم ہوں، تو دوسری طرف سرکاری وسائل کے استعمال میں شفافیت اور ترجیحات پر سوالات اٹھتے ہیں۔ ناقدین کا مطالبہ ہے کہ اگر کسی طالب علم یا سرکاری افسر کو بیرونِ ملک سرکاری خرچ پر تعلیم یا تربیت دی جائے تو اس کے انتخاب کا معیار، اخراجات اور نتائج مکمل طور پر عوام کے سامنے رکھے جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کس مقصد کے لیے خرچ ہو رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایک بچے پر بیرونِ ملک لاکھوں یا کروڑوں روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں تو کیا اسی رقم سے کسی دیہی علاقے میں ایک جدید اسکول، کمپیوٹر لیب، لائبریری یا سینکڑوں بچوں کے لیے وظائف فراہم نہیں کیے جا سکتے؟ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر غریب بچے کو معیاری تعلیم نہیں ملے گی تو وہ غربت کے دائرے سے باہر کیسے نکلے گا؟ اگر سرکاری اسکول مضبوط نہیں ہوں گے تو معاشرے میں مساوی مواقع کیسے پیدا ہوں گے؟ ضرورت اس بات کی ہے کہ: ہر سرکاری اسکول میں بنیادی سہولیات یقینی بنائی جائیں۔ تعلیم کے بجٹ کے استعمال میں مکمل شفافیت ہو۔ میرٹ کی بنیاد پر وظائف اور بیرونِ ملک تعلیمی مواقع فراہم کیے جائیں۔ دیہی اور شہری علاقوں کے بچوں کو یکساں معیاری تعلیم دی جائے۔ اساتذہ کی تربیت، حاضری اور تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جائے۔ ایک مضبوط سندھ وہی ہوگا جہاں کسی غریب بچے کے خواب اس کی غربت کی وجہ سے دفن نہ ہوں، بلکہ اسے بھی وہی معیاری تعلیم اور مواقع میسر آئیں جو معاشرے کے ہر دوسرے بچے کو حاصل ہیں۔ تعلیم پر خرچ ہونے والا ہر روپیہ سب سے پہلے عوام کے بچوں کی تعلیم، ان کے اسکولوں اور ان کے مستقبل پر لگنا چاہیے، کیونکہ کسی بھی قوم کی اصل ترقی اس کے بچوں کی تعلیم سے ہی وابستہ ہوتی ہے۔