@waterguardiansmovie: 海翔にとってのテキーラ“OJ”🍹 8/21(金)公開 映画『#ウォーターガーディアンズ』本編映像🌻 👒𝐂𝐀𝐒𝐓: 森愁斗(BUDDiiS)田辺桃子 椿泰我(IMP.)     小西詠斗 砂田将宏(BALLISTIK BOYZ) 小泉光咲(原因は自分にある。)長野蒼大(VOKSY DAYS)

映画『ウォーターガーディアンズ』公式
映画『ウォーターガーディアンズ』公式
Open In TikTok:
Region: JP
Friday 07 August 2026 11:00:00 GMT
45249
1992
47
54

Music

Download

Comments

user9816814943698
りあ :
オレンジジュースをOJって言うしゅーと君めちゃ可愛い💖私もしゅーと君にナンパされたい‼️一緒に飲みたい‼️お酒でもお酒じゃなくても‼️素直にミルクをもらうしゅーと君めちゃ可愛い💖
2026-08-07 11:45:00
14
say_971124
あつがりぃぃぶんぶんばぁ :
私が奢るので飲んでもらうこと可能❓
2026-08-07 11:14:12
13
sayu.1120.0918
おさゆちゃん🌳💗(もりぴ命名) :
OJってオレンジジュースなんだね😂
2026-08-07 17:11:12
4
_qi8lz2o
リコピン :
OJロックこれから使おうかな☆www
2026-08-07 15:20:58
2
rin_budis03
りん :
いぇいもう懐かしいビジュ✨✨
2026-08-07 12:59:29
2
pyon_o2.o4
ぴょん🐇 :
やばい、早く観たい…🌊
2026-08-07 12:37:32
2
mmmmarisunnnn
まりスン🍊 :
かんぱーい🥂🍊
2026-08-07 11:23:01
1
mmoto696
mom :
OJダブルってそーゆーこと🤣?
2026-08-07 15:49:35
0
brokkori20
🥦ひな🥦 :
身長伸ばしてねってことね笑笑不器用さん可愛すぎ
2026-08-07 16:55:56
1
kiminokoegasuki
kiminokoegasuki :
ちゃら海翔君かっこいい😆💕
2026-08-07 15:04:32
0
1sh2o19ot
🐭💚 :
ちょこっとしつこい役なの激アツすぎる
2026-08-07 12:50:41
1
obake_24.shower
obake_24.shower :
桃子さんかっけぇ✨️
2026-08-07 14:48:32
0
ma_chan0121
🍅まーちゃん🩲 :
OJ最高すぎwwwwwwwww
2026-08-07 15:55:02
0
bud_luv.m128
🌙*·̩͙ :
しゅーとって"ちゃ"の発音かわいくない??
2026-08-07 15:12:53
2
.....p......jm
🪨🌉 :
2026-08-07 16:39:21
0
user8600007199254
★メープルバター★ :
チャラいしゅーとくん‼️‼️そんでカッコ良すぎだわー🥰
2026-08-07 13:27:08
1
ichbinswag_buddy
はぴ :
桃子ちゃんかっこいいー!!!呆気にとられてるしゅーとかわいい😂
2026-08-07 14:42:18
0
m557389
MiiZ :
映画館の端っこでみようかな💦叫びそう
2026-08-07 11:07:18
0
nmrm238
りんごあめ🍅✌️ :
OJ笑笑
2026-08-07 14:27:44
0
shoot_o9i8
まろ :
璃子さんかっこよすぎるし、僕ちゃんの惚けた顔良すぎる👶🏻🍼wwwwwwwwww
2026-08-07 23:53:38
0
1472580369pi
ゆかりちゃん299 :
めっちゃかっこいいー😎
2026-08-07 11:11:21
0
_shutter2baki
なきちゅば :
後ろのソウマくん何話してるのかえぐ気になり😭💦💦💦この前のシーンのソウマくんはやく見返したい💦💦💦
2026-08-07 14:37:18
0
sh_x_ta
ここは :
OJでいいので私と飲みませんか?
2026-08-07 14:30:49
0
hiyori6554
H🎀 :
チャラい愁斗くんかっこいいよ😻
2026-08-07 14:28:40
0
shtkn__
𝓗 :
OJ乾杯しよ~ 🍻🧡
2026-08-07 11:38:20
0
To see more videos from user @waterguardiansmovie, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

20 جنوری 1978 کو پی آئی اے کی پرواز PK-453 سکھر سے کراچی جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز نذیر محمد نامی ایک شخص ریوالور اور ڈائنامائٹ لے کر کاک پٹ میں داخل ہوگیا۔ اس نے پائلٹ کیپٹن خلدون غنی اور فرسٹ آفیسر قادر گبول کو حکم دیا کہ جہاز بھارت لے جائیں۔ ہائی جیکر کا دعویٰ تھا کہ وہ کینسر کا مریض ہے اور علاج کے لیے بھارت جانا چاہتا ہے۔ پائلٹ نے انتہائی سمجھ داری سے اسے بتایا کہ جہاز میں بھارت جانے کے لیے کافی ایندھن موجود نہیں اور اسے کراچی ہی اتارنا پڑے گا۔ کراچی ایئرپورٹ کو صبح ساڑھے دس بجے ہائی جیکنگ کی اطلاع دی گئی، جبکہ جہاز تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ ہائی جیکر نے مسافروں اور عملے کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے اور دس لاکھ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کینسر کی وجہ سے اس کی زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں اور وہ یہ رقم اپنی باقی زندگی گزارنے کے لیے چاہتا ہے۔ اس وقت پی آئی اے کے سربراہ ایئر مارشل نور خان خود مذاکرات کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے ہائی جیکر کو یقین دلایا کہ پی آئی اے اس کے علاج کا انتظام کرسکتی ہے۔ نور خان نے یہاں تک پیشکش کی کہ وہ خود جہاز میں یرغمال بننے کے لیے تیار ہیں، بس مسافروں اور عملے کو آزاد کردیا جائے۔ ہائی جیکر نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، تاہم اس نے جہاز میں موجود افراد کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے کی اجازت دے دی۔ رات تک وہ چودہ مسافروں اور ایک ایئرہوسٹس کو رہا کرچکا تھا، لیکن باقی مسافر اور عملہ اب بھی اس کے قبضے میں تھے۔ رات کے وقت ہائی جیکر نے پیغام بھجوایا کہ وہ کسی اہم شخصیت سے بات کرنا چاہتا ہے۔ تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر ایئر مارشل نور خان ایک فوجی افسر کے ہمراہ جہاز کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہائی جیکر کو سمجھانے اور معاملہ پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو نور خان نے بظاہر جہاز سے واپس جانے کا تاثر دیا، مگر اچانک مڑ کر ہائی جیکر کے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران گولی چل گئی اور انتہائی قریب سے نور خان کے جسم میں پیوست ہوگئی۔ گولی ان کی ریڑھ کی ہڈی سے صرف تقریباً ایک سینٹی میٹر کے فاصلے پر جا کر رکی۔ نور خان کے حملہ کرتے ہی جہاز کے عملے نے بھی ہمت دکھائی اور ہائی جیکر پر قابو پالیا۔ نذیر محمد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ زخمی نور خان کو فوری طور پر پی این ایس شفا ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہائی جیکر میانوالی کا رہائشی تھا، سکھر کے ایک ہوٹل میں اسلم خان کے فرضی نام سے کام کرتا تھا اور خود کو پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور کا بھگوڑا اہلکار بتاتا تھا۔ ایئر مارشل نور خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نہ صرف ہائی جیکر کو قابو کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ جہاز میں موجود مسافروں اور عملے کی جانیں بھی بچائیں۔ اس غیر معمولی بہادری پر انہیں اسی سال ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب منتظم اور فضائیہ کے سربراہ ہی نہیں بلکہ مشکل ترین لمحے میں خود میدان میں اترنے والے ایک بے خوف انسان بھی تھے۔ #highjacker  #pakarmy  #1978 #airmashalnoorkhan
20 جنوری 1978 کو پی آئی اے کی پرواز PK-453 سکھر سے کراچی جا رہی تھی کہ دورانِ پرواز نذیر محمد نامی ایک شخص ریوالور اور ڈائنامائٹ لے کر کاک پٹ میں داخل ہوگیا۔ اس نے پائلٹ کیپٹن خلدون غنی اور فرسٹ آفیسر قادر گبول کو حکم دیا کہ جہاز بھارت لے جائیں۔ ہائی جیکر کا دعویٰ تھا کہ وہ کینسر کا مریض ہے اور علاج کے لیے بھارت جانا چاہتا ہے۔ پائلٹ نے انتہائی سمجھ داری سے اسے بتایا کہ جہاز میں بھارت جانے کے لیے کافی ایندھن موجود نہیں اور اسے کراچی ہی اتارنا پڑے گا۔ کراچی ایئرپورٹ کو صبح ساڑھے دس بجے ہائی جیکنگ کی اطلاع دی گئی، جبکہ جہاز تقریباً 10 بج کر 55 منٹ پر بحفاظت کراچی ایئرپورٹ پر اتر گیا۔ ہائی جیکر نے مسافروں اور عملے کی رہائی کے بدلے ایک کروڑ روپے اور دس لاکھ امریکی ڈالر کا مطالبہ کیا۔ اس کا کہنا تھا کہ کینسر کی وجہ سے اس کی زندگی کے چند ہی دن باقی ہیں اور وہ یہ رقم اپنی باقی زندگی گزارنے کے لیے چاہتا ہے۔ اس وقت پی آئی اے کے سربراہ ایئر مارشل نور خان خود مذاکرات کے لیے آگے آئے۔ انہوں نے ہائی جیکر کو یقین دلایا کہ پی آئی اے اس کے علاج کا انتظام کرسکتی ہے۔ نور خان نے یہاں تک پیشکش کی کہ وہ خود جہاز میں یرغمال بننے کے لیے تیار ہیں، بس مسافروں اور عملے کو آزاد کردیا جائے۔ ہائی جیکر نے یہ پیشکش قبول نہیں کی، تاہم اس نے جہاز میں موجود افراد کے لیے کھانا اور پانی پہنچانے کی اجازت دے دی۔ رات تک وہ چودہ مسافروں اور ایک ایئرہوسٹس کو رہا کرچکا تھا، لیکن باقی مسافر اور عملہ اب بھی اس کے قبضے میں تھے۔ رات کے وقت ہائی جیکر نے پیغام بھجوایا کہ وہ کسی اہم شخصیت سے بات کرنا چاہتا ہے۔ تقریباً 11 بج کر 50 منٹ پر ایئر مارشل نور خان ایک فوجی افسر کے ہمراہ جہاز کے اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے تقریباً ایک گھنٹے تک ہائی جیکر کو سمجھانے اور معاملہ پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلا تو نور خان نے بظاہر جہاز سے واپس جانے کا تاثر دیا، مگر اچانک مڑ کر ہائی جیکر کے ہاتھ سے ریوالور چھیننے کی کوشش کی۔ اسی دوران گولی چل گئی اور انتہائی قریب سے نور خان کے جسم میں پیوست ہوگئی۔ گولی ان کی ریڑھ کی ہڈی سے صرف تقریباً ایک سینٹی میٹر کے فاصلے پر جا کر رکی۔ نور خان کے حملہ کرتے ہی جہاز کے عملے نے بھی ہمت دکھائی اور ہائی جیکر پر قابو پالیا۔ نذیر محمد کو گرفتار کرلیا گیا، جبکہ زخمی نور خان کو فوری طور پر پی این ایس شفا ہسپتال منتقل کیا گیا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ہائی جیکر میانوالی کا رہائشی تھا، سکھر کے ایک ہوٹل میں اسلم خان کے فرضی نام سے کام کرتا تھا اور خود کو پاکستان آرمی کی انجینئرنگ کور کا بھگوڑا اہلکار بتاتا تھا۔ ایئر مارشل نور خان نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر نہ صرف ہائی جیکر کو قابو کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا بلکہ جہاز میں موجود مسافروں اور عملے کی جانیں بھی بچائیں۔ اس غیر معمولی بہادری پر انہیں اسی سال ہلالِ شجاعت سے نوازا گیا۔ ان کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ وہ صرف ایک کامیاب منتظم اور فضائیہ کے سربراہ ہی نہیں بلکہ مشکل ترین لمحے میں خود میدان میں اترنے والے ایک بے خوف انسان بھی تھے۔ #highjacker #pakarmy #1978 #airmashalnoorkhan

About