@gustavo.da.silva2503:

🐊✔️
🐊✔️
Open In TikTok:
Region: PY
Friday 07 August 2026 19:13:12 GMT
303734
52905
707
5052

Music

Download

Comments

mevodj0
Giovanni :
ltdidkfuhg
2026-08-09 21:24:46
0
lhu0606
𝕷𝖚𝖟 :
Así suena vivir en paraguay siendo mujer últimamente
2026-08-08 11:47:13
1207
l.d.g.g27
Leonardo Garcia🇵🇾🇦🇷 :
El todos mundo suena así no solo en paraguay.mexivo.argentina en todo lado hay peligro
2026-08-10 01:11:31
16
alexx_areco.10
alexx :
No tengan amigos, que los amigos traicionan...
2026-08-08 00:17:49
66
yanmm_gonzalez
¥𝓪𝓷¡𝔁𝔁😻 :
Todos dicen que conoce la iglesia y yo no
2026-08-08 14:11:12
81
xlee_3dr
.💤 :
d onda tds conocían la iglesia
2026-08-08 01:39:13
55
anavaldezpy
Anita♡♡ :
que esta pasando que están muriendo tantos jiveneeees 😭 en una semana murieron 3 jóvenes conocidos míos 😭😭😭
2026-08-08 00:28:12
108
osananajimiuwum
dime empanadas al privado,ok :
nde yo tengo miedo de mi primo esta muy como lo digo se inalo algo y esta loco y estra a robar en las casas de los vecinos y hasta en una iglesia robo tengo miedo que quiera entrar en mi casa tambien
2026-08-08 07:12:20
14
To see more videos from user @gustavo.da.silva2503, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...* میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔ کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے، اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شام تقریباً پانچ بجے تک وہیں موجود رہتے۔ پارک میں آنے والے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے نکال دیا ہوگا۔ مگر ان کی شخصیت سے لگتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔ ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، مگر بہت اصرار پر مان گئے۔ باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا ذاتی گھر صرف دو گلیاں دور ہے، وہ مالی طور پر بھی محتاج نہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا:
*ایک بزرگ کی خاموش زندگی نے مجھے بہت بڑا سبق سکھا دیا...* میں روز صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے قریب ایک پارک جاتا ہوں۔ وہاں ایک بزرگ اکثر نظر آتے تھے۔ وہ باقاعدگی سے ورزش کرتے، پھر پارک کے ایک درخت کے نیچے چادر بچھا کر بیٹھ جاتے۔ کبھی قریبی دکان سے نان چنے منگوا کر ناشتہ کرتے، کبھی کتاب پڑھتے، اور جب اونگھ آتی تو اسی کتاب کو تکیہ بنا کر کچھ دیر آرام کر لیتے۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ وہ شام تقریباً پانچ بجے تک وہیں موجود رہتے۔ پارک میں آنے والے لوگ مختلف باتیں کرتے۔ کوئی کہتا شاید پردیسی ہیں، کوئی سمجھتا کہ گھر والوں نے نکال دیا ہوگا۔ مگر ان کی شخصیت سے لگتا تھا کہ وہ پڑھے لکھے، باوقار اور خوشحال انسان ہیں۔ ایک دن میں گھر سے ناشتہ لے گیا اور انہیں اپنے ساتھ کھانے کی دعوت دی۔ پہلے انہوں نے انکار کیا، مگر بہت اصرار پر مان گئے۔ باتوں ہی باتوں میں معلوم ہوا کہ ان کا اپنا ذاتی گھر صرف دو گلیاں دور ہے، وہ مالی طور پر بھی محتاج نہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا: "پھر آپ سارا دن یہاں کیوں گزارتے ہیں؟" انہوں نے ایک ٹھنڈی سانس لی اور دھیرے سے کہا: "بیٹا! زندگی میں کچھ گھنٹے گھر سے باہر گزارنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ چاہے دفتر ہو، دوست ہوں یا کوئی اور مصروفیت... لیکن روزانہ چند گھنٹے ضرور باہر رہنا چاہیے۔" میں نے وجہ پوچھی تو ان کی بات نے دل کو چھو لیا۔ انہوں نے کہا: "گھر والے برسوں تک آپ کی غیر موجودگی کے عادی ہوتے ہیں۔ جب ریٹائرمنٹ کے بعد آپ ہر وقت گھر میں رہنے لگتے ہیں تو خاموش موجودگی بھی انہیں بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے۔ وہ شاید زبان سے کچھ نہ کہیں، مگر ان کے رویے بدلنے لگتے ہیں۔" پھر ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ بولے: "'ابو! آپ کو کیا پتا...' یہ جملہ میں کئی بار سن چکا ہوں۔ آہستہ آہستہ انسان کی حیثیت صرف بازار سے سامان لانے یا چھوٹے موٹے کام کرنے تک محدود ہو جاتی ہے۔" وہ کچھ دیر خاموش رہے، پھر بولے: "اسی لیے میں روز صبح یہاں آ جاتا ہوں۔ کتابیں پڑھتا ہوں، اخبار دیکھتا ہوں، کبھی کسی ملازمت کا اشتہار نظر آجائے تو درخواست بھی دے دیتا ہوں، حالانکہ جانتا ہوں کہ اس عمر میں کسی کو بوڑھا ملازم نہیں چاہیے۔" پھر انہوں نے ایک اور راز بتایا۔ "میں نے گھر والوں کو یہی بتایا ہوا ہے کہ میں اب بھی ایک ادارے میں کام کرتا ہوں۔ میرے کچھ جمع شدہ پیسوں کا منافع آتا ہے، وہ میں گھر دے دیتا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میری تنخواہ ہے۔" ان کی آنکھیں نم ہوگئیں۔ "شام جب میں گھر واپس جاتا ہوں تو بیوی پانی کا گلاس لے آتی ہے، کھانے کا پوچھتی ہے، اور بچے بھی احترام سے بات کرتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ باپ اب بھی ذمہ دار ہے... اور میں نہیں چاہتا کہ ایک دن ایسا آئے جب مجھے اپنے ہی بچوں سے مانگنا پڑے۔" یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگئے... مگر ان کی خاموشی میرے دل میں بہت کچھ بول گئی۔ 🌸 سبق: عمر بڑھنے کے ساتھ انسان کو صرف روٹی یا دوا کی ضرورت نہیں ہوتی، بلکہ عزت، اہمیت اور اپنائیت بھی اتنی ہی ضروری ہوتی ہے۔ اپنے والدین اور بزرگوں کو کبھی یہ احساس نہ ہونے دیں کہ وہ اب غیر ضروری ہو چکے ہیں، کیونکہ جنہوں نے پوری زندگی ہمیں سنبھالا، وہ بڑھاپے میں صرف احترام اور محبت کے چند لمحوں کے حق دار ہوتے ہیں۔ *آپــــــ کا فالو❤️‍🩹ہمارے لیے حوصلہ افزائی ہے* منقول

About