@user6651616973693: #اكسبلو #قمر❤️ #🎀🌝🎀

قمر❤️
قمر❤️
Open In TikTok:
Region: TR
Friday 07 August 2026 21:18:36 GMT
13028
745
15
459

Music

Download

Comments

user3570829498173
حافظ أبو قاسم 💔 :
😔😔😔اي ولله
2026-08-08 06:26:27
0
awd2439
awd :
2026-08-07 22:38:20
0
awd2439
awd :
2026-08-07 22:38:07
0
user8666194977453
نسيم :
اح اح اح اح اح اح اح اح اح اح اح اح 😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭😭
2026-08-07 22:56:13
0
user15310197448734
اناس...الصغير. :
🥰🥰🥰
2026-08-08 10:22:00
0
omar.chamra3
Omar Chamra :
🥰🥰🥰🥰
2026-08-07 23:55:37
0
user91801878444777
محمد العبادي :
❤️❤️❤️❤️❤️
2026-08-08 08:57:14
0
user7362786727148
Ela :
🥰🥰🥰
2026-08-08 05:59:49
0
user6957246543715
حسام الزيتوني :
❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️❤️
2026-08-08 03:29:24
0
naseer.albakour1
Naseer Albakour :
🥰🥰🥰
2026-08-08 10:12:43
0
user8239902853433
.. :
🥰🥰🥰
2026-08-08 15:15:30
0
wanassa53
wanassa :
🥰🥰🥰
2026-08-07 22:14:37
0
mardin47mardin120
ALi :
❤️❤️❤️
2026-08-07 21:26:44
0
abdouabdallah00
abdou abdou 05 :
💜💜💜
2026-08-08 16:18:35
0
To see more videos from user @user6651616973693, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#viralpoetry🥀🥺  ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌  🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀  ​📜 شعر: ​
#viralpoetry🥀🥺 ✨️✨️✨️✨️✨️✨️✨️ #MirzaGhalib #fyp✨️🙌 🕊🕊🕊🍂🥀🥀🥀 #deeplinespeotry🥀 ​📜 شعر: ​"عشق بھی کرتے ہو اور سکون بھی چاہتے ہو غالبؔ بڑے نادان ہو زہر بھی پی لیا اور جینا بھی چاہتے ہو" ​🌷 تشریح: ​اس خوبصورت شعر میں شاعر نے انسانی فطرت کے ایک بڑے تضاد کی نشاندہی کی ہے۔ شعر کا پہلا مصرعہ انسان سے مخاطب ہے کہ تم عشق جیسی طوفانی اور بے چین کر دینے والی کیفیت میں مبتلا ہو، اور پھر بھی دل کے سکون اور چین کی امید رکھتے ہو؟ یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ ممکن نہیں ہیں۔ ​شعر کے دوسرے حصے میں شاعر نے عشق کو "زہر" سے تشبیہ دی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ عشق کرنا ایسا ہی ہے جیسے جان بوجھ کر زہر کا پیالہ پی لینا۔ اب جب تم نے خود ہی زہر پی لیا ہے، تو پھر زندگی اور سلامتی کی دعا مانگنا نادانی اور بے وقوفی کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اگر تمہیں زندگی پیاری تھی، تو زہر کیوں پیا؟ اور اگر زہر پی لیا ہے، تو موت کے لیے تیار رہو۔ ​💬 تفصیل: ​غالب نے اس شعر میں عشق کے راستے کی صعوبتوں اور اس کے نتیجے میں ملنے والی بے چینی کو بہت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کے نزدیک عشق کوئی ہنسی کھیل نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو انسان کے آرام، سکون اور بسا اوقات جان کو بھی داؤ پر لگا دیتا ہے۔ ​انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے عشق کی خوشیاں اور لذتیں ملیں، لیکن وہ اس کے ساتھ آنے والے درد، تکلیف، اور بے قراری سے بچنا چاہتا ہے۔ غالب اس رویے کو "نادانی" قرار دیتے ہیں۔ ان کا پیغام یہ ہے کہ اگر آپ عشق کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کرتے ہیں، تو آپ کو اس کے تمام نتائج، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں، قبول کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ سکون اور آرام کی تمنا اس راستے پر چلنے والوں کے لیے نہیں ہے۔ یہ شعر ایک طرح سے حقیقت پسندی کا سبق دیتا ہے کہ ہر عمل کا ایک نتیجہ ہوتا ہے، اور ہم نتائج سے بچ نہیں سکتے۔

About