@dr.nadeem170: سوچ دیمک کی طرح کھاتی ہے اعصاب مرے مجھ کو رکھتے ہیں تروتازہ مگر خواب مرے پاوں دلدل میں سہی پھر بھی نکل آتے ہیں جذب۔صادق سے پگھل جاتے ہیں گرداب مرے ان کو تم رد نہ کرو ان کی حقیقت سمجھو کہ یہ پتھر نہیں ہیں گوہر۔۔نایاب مرے سرخروئی کا عمل پاس مرے ہو کہ نہ ہو مجھ کو شرمندہ نہیں کرتے ہیں آداب مرے یہ مرے بعد تمھیں کھل کے نظر آئیں گے تم سے پوشیدہ ہیں یہ زیست کے جو باب مرے