@josh.likesugc: Try it now! #guessly

josh.likesugc
josh.likesugc
Open In TikTok:
Region: CA
Sunday 13 September 2026 01:14:21 GMT
292
14
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @josh.likesugc, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پشاور کے نواحی علاقے تھانہ رحمان بابا کی حدود میں کرائے دار کی دو بیویوں سے اجتماعی زیادتی میں ملوث چاروں ملزمان پولیس کی زیرِ حراست جائے وقوعہ کی نشاندہی کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ فائرنگ کے دوران تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ ہلاک ملزمان میں عامر، جلال عرف راجہ، چچے، امداس (بشمول مکان مالک) شامل ہیں، پولیس کے مطابق 6 ستمبر کی رات دو بجے مکان مالک اپنے تین دیگر مسلح ساتھیوں کے ہمراہ کرائے دار کے گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوا۔ ملزمان نے گھر کے سربراہ اور ان کے بیٹی کو ایک کمرے میں رسیوں سے باندھ کر یرغمال بنایا اور گن پوائنٹ پر گھر میں موجود دونوں بیویوں (عمریں 22 اور 27 سال) کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے گھر میں موجود کمسن بچی کو بھی ہراساں کیا اور گھر سے موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان صبح چار بجے پیدل تھانہ رحمان بابا پہنچ کر پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے لوٹا گیا سامان، موبائل فونز اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر کے اعترافی بیانات عدالت کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے۔ تفتیشی عمل کے دوران متاثرہ خواتین کی پرائیویسی اور حساسیت کا خاص خیال رکھا گیا، و بیانات کی قلمبند کاری کے لیے صرف لیڈی پولیس افسران کو مقرر کیا گیا اور کسی مرد افسر کو ان کے قریب جانے نہیں دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے سائنسی شواہد کے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی مدد لی گئی۔واقعے سے شدید ذہنی صدمے کا شکار متاثرہ خواتین کے لیے ماہر نفسیات (Psychologist) سے کونسلنگ کا سیشن منعقد کروایا گیا۔ سی سی پی او پشاور اور پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو تفتیشی عمل آگے بڑھانے اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس دوران ان کے دیگر ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں زیرِ حراست چاروں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ Disclaimer: crime, human rights, women’s rights, child protection, politics, and other important issues. Our content and videos are created for educational and awareness purposes and to highlight important issues. We do not intend to defame, harass, or target anyone, nor do we intend to violate any rules, policy, or community guidelines.#creatorsearchinsights #مردان #KhyberPakhtunkhwa #PeshawarPolice #PeshawarPolice
پشاور کے نواحی علاقے تھانہ رحمان بابا کی حدود میں کرائے دار کی دو بیویوں سے اجتماعی زیادتی میں ملوث چاروں ملزمان پولیس کی زیرِ حراست جائے وقوعہ کی نشاندہی کے دوران اپنے ہی ساتھیوں کی مبینہ فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ فائرنگ کے دوران تمام پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ ہلاک ملزمان میں عامر، جلال عرف راجہ، چچے، امداس (بشمول مکان مالک) شامل ہیں، پولیس کے مطابق 6 ستمبر کی رات دو بجے مکان مالک اپنے تین دیگر مسلح ساتھیوں کے ہمراہ کرائے دار کے گھر کی دیوار پھلانگ کر داخل ہوا۔ ملزمان نے گھر کے سربراہ اور ان کے بیٹی کو ایک کمرے میں رسیوں سے باندھ کر یرغمال بنایا اور گن پوائنٹ پر گھر میں موجود دونوں بیویوں (عمریں 22 اور 27 سال) کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ ملزمان نے گھر میں موجود کمسن بچی کو بھی ہراساں کیا اور گھر سے موبائل فونز اور دیگر قیمتی سامان لوٹ کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان صبح چار بجے پیدل تھانہ رحمان بابا پہنچ کر پولیس کو اطلاع دی۔ ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک کی ہدایت پر تشکیل دی گئی خصوصی ٹیموں نے تیز رفتار کارروائی کرتے ہوئے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران ملزمان کے قبضے سے لوٹا گیا سامان، موبائل فونز اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ برآمد کر کے اعترافی بیانات عدالت کے سامنے ریکارڈ کروائے گئے۔ تفتیشی عمل کے دوران متاثرہ خواتین کی پرائیویسی اور حساسیت کا خاص خیال رکھا گیا، و بیانات کی قلمبند کاری کے لیے صرف لیڈی پولیس افسران کو مقرر کیا گیا اور کسی مرد افسر کو ان کے قریب جانے نہیں دیا گیا۔ جائے وقوعہ سے سائنسی شواہد کے تجزیے کے لیے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی مدد لی گئی۔واقعے سے شدید ذہنی صدمے کا شکار متاثرہ خواتین کے لیے ماہر نفسیات (Psychologist) سے کونسلنگ کا سیشن منعقد کروایا گیا۔ سی سی پی او پشاور اور پولیس حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو تفتیشی عمل آگے بڑھانے اور جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جایا جا رہا تھا کہ اس دوران ان کے دیگر ساتھیوں نے پولیس پارٹی پر اچانک اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے اس تبادلے میں زیرِ حراست چاروں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی گولیوں کا نشانہ بن کر موقع پر ہی ہلاک ہو گئے، جبکہ پولیس اہلکار محفوظ رہے۔ Disclaimer: crime, human rights, women’s rights, child protection, politics, and other important issues. Our content and videos are created for educational and awareness purposes and to highlight important issues. We do not intend to defame, harass, or target anyone, nor do we intend to violate any rules, policy, or community guidelines.#creatorsearchinsights #مردان #KhyberPakhtunkhwa #PeshawarPolice #PeshawarPolice

About