@bloominginsilence3: *ایک شخص ماہر نفسیات (phsycatrist) کے پاس گیا اور کہا: " میں مسلسل افسردہ اور غمگین رہتا ہوں، اداسی میری زندگی پر حاوی رہتی ہے، براہ کرم میری مدد کریں - - -"* تو ڈاکٹر نے اسے کچھ دوا دی - - - ایک ہفتہ بعد وہ شخص دوبارہ ڈاکٹر کے پاس واپس آیا اور کہا: " جناب! یہ دوائیاں میرے کچھ کام نہیں آئیں - مجھے جان لیوا کرب محسوس ہوتا ہے " تو ڈاکٹر نے اسے مزید اور دوائیں دیں - - - دو ہفتے بعد وہ شخص دوبارہ ڈاکٹر کے پاس واپس آیا اور بتایا: " کچھ نہیں بدلا، اداسی ابھی بھی بے قابو ہے" سائکیٹرسٹ اپنے اس مریض کی حالت کے متعلق الجھن میں تھا، اس نے تھوڑی دیر سوچا اور کہا: " مزاحیہ جوکروں میں سے ایک جوکر کا ڈیلی تھیٹر شو ہوتا ہے، یہ جوکر سارے غمگین افسردہ لوگوں کو ہنسا دیتا ہے- میں ذاتی طور پر اس کا شو دیکھتا رہا ہوں اور جب بھی یاد کرتا ہوں تو میں ہنستا ہوں - ٹکٹ خریدیں اور اس شو میں شرکت کریں، یقین جانیں، آپ کے منہ میں ہنس ہنس کر درد ہونے لگ جائے گا - - - " اس آدمی نے جواب دیا : " جناب میں وہی جوکر ہوں! " فیلیٹی اوگنی فرانسیسی جوکر جس نے لاکھوں لوگوں کو ہنسایا اور خود اس نے خود کُشی کر لی - - - ہمیشہ ہنستا ہوا چہرہ خوش حال دل کی علامت نہیں ہوتا۔ بعض اوقات جو لوگ دوسروں کو خوشیاں بانٹتے ہیں، وہ خود اندر سے شدید غم، تنہائی یا تکلیف کا شکار ہوتے ہیں۔ اس لیے لوگوں کے ظاہری رویّے پر فیصلہ نہ کریں، بلکہ ان کے احساسات کو سمجھنے کی کوشش کریں، ان سے خیر خواہی اور ہمدردی کا برتاؤ کریں۔