@yasmine.beuh:

Yasmine 🫧🎀🥀
Yasmine 🫧🎀🥀
Open In TikTok:
Region: BF
Saturday 08 August 2026 16:26:28 GMT
1536
67
5
1

Music

Download

Comments

derrataiba242
la joie 💯 :
combien tataa
2026-08-08 20:19:05
0
oumy8297
oumy 🤍💞 :
tu es au mali
2026-08-19 00:58:24
0
.kirikoumarley
.kirikoumarley :
❤️❤️❤️
2026-08-13 14:21:03
0
To see more videos from user @yasmine.beuh, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ماں نے بیٹے کو معاف کر دیا… مگر جاتے جاتے ایک ایسا جملہ کہہ گئی جو شاید عمر بھر اسے سونے نہ دے 💔 لاہور کی ایک بزرگ خاتون کبھی اپنے گھر کی ملکہ تھیں۔ شوہر ایک معروف ٹی وی چینل میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز رہے۔ گھر میں عزت، سکون اور خوشحالی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد بھی بڑے بیٹے نے ماں کو اپنے پاس رکھا اور پوری محبت سے ان کی خدمت کی۔ وہ بیٹا ایک بینک افسر تھا۔ ماں کی ہر ضرورت وقت پر پوری ہوتی۔ ماں نے بھی بیٹے کے لیے اپنی پسند کی دلہن تلاش کی اور بڑی خوشی سے اس کی شادی کی۔ مگر قسمت نے اچانک سب کچھ بدل دیا۔ ایک دن بیٹے کو دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جس بیٹے کو ماں اپنا سہارا سمجھتی تھی، وہی سہارا چھن گیا۔ بہو بچوں سمیت میکے چلی گئی اور پیغام بھیج دیا کہ وہ واپس نہیں آئے گی، اس کا سامان بھجوا دیا جائے۔ اب بوڑھی ماں چھوٹے بیٹے کے گھر آگئیں۔ وہ مالی طور پر کسی کی محتاج نہیں تھیں، پنشن ملتی تھی۔ ان کی دنیا بھی بہت چھوٹی تھی؛ ایک کونے میں بیٹھ کر نماز پڑھنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور خاموشی سے وقت گزارنا۔ لیکن گھر کا ماحول دن بدن تلخ ہوتا گیا۔ ایک دن بہو نے غصے میں انہیں گریبان سے پکڑ کر گھر سے نکل جانے کو کہا۔ سب سے زیادہ تکلیف شاید بہو کے الفاظ سے نہیں ہوئی… تکلیف اس بات کی ہوئی کہ بیٹا سب کچھ دیکھتا رہا۔ ماں نے پھر بھی صبر کیا۔ اگلے دن نہ ناشتہ ملا، نہ دوپہر کا کھانا۔ جب ماں نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا:
ماں نے بیٹے کو معاف کر دیا… مگر جاتے جاتے ایک ایسا جملہ کہہ گئی جو شاید عمر بھر اسے سونے نہ دے 💔 لاہور کی ایک بزرگ خاتون کبھی اپنے گھر کی ملکہ تھیں۔ شوہر ایک معروف ٹی وی چینل میں جنرل منیجر کے عہدے پر فائز رہے۔ گھر میں عزت، سکون اور خوشحالی تھی۔ شوہر کے انتقال کے بعد بھی بڑے بیٹے نے ماں کو اپنے پاس رکھا اور پوری محبت سے ان کی خدمت کی۔ وہ بیٹا ایک بینک افسر تھا۔ ماں کی ہر ضرورت وقت پر پوری ہوتی۔ ماں نے بھی بیٹے کے لیے اپنی پسند کی دلہن تلاش کی اور بڑی خوشی سے اس کی شادی کی۔ مگر قسمت نے اچانک سب کچھ بدل دیا۔ ایک دن بیٹے کو دل کا دورہ پڑا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگیا۔ جس بیٹے کو ماں اپنا سہارا سمجھتی تھی، وہی سہارا چھن گیا۔ بہو بچوں سمیت میکے چلی گئی اور پیغام بھیج دیا کہ وہ واپس نہیں آئے گی، اس کا سامان بھجوا دیا جائے۔ اب بوڑھی ماں چھوٹے بیٹے کے گھر آگئیں۔ وہ مالی طور پر کسی کی محتاج نہیں تھیں، پنشن ملتی تھی۔ ان کی دنیا بھی بہت چھوٹی تھی؛ ایک کونے میں بیٹھ کر نماز پڑھنا، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور خاموشی سے وقت گزارنا۔ لیکن گھر کا ماحول دن بدن تلخ ہوتا گیا۔ ایک دن بہو نے غصے میں انہیں گریبان سے پکڑ کر گھر سے نکل جانے کو کہا۔ سب سے زیادہ تکلیف شاید بہو کے الفاظ سے نہیں ہوئی… تکلیف اس بات کی ہوئی کہ بیٹا سب کچھ دیکھتا رہا۔ ماں نے پھر بھی صبر کیا۔ اگلے دن نہ ناشتہ ملا، نہ دوپہر کا کھانا۔ جب ماں نے کھانے کے بارے میں پوچھا تو جواب ملا: "یہاں کوئی لنگر خانہ نہیں کھلا ہوا۔" وہ بوڑھی ماں خاموشی سے اٹھیں، پڑوس میں گئیں اور ایک ہمسائی سے کہا: "بیٹی، میرے لیے کوئی اولڈ ہوم تلاش کر دو… میں اب کسی کے گھر بوجھ نہیں بننا چاہتی۔" ہمسائی نے انسانیت کا حق ادا کیا۔ اسی دن ایک اولڈ ہوم تلاش کیا اور اپنی گاڑی میں اس بزرگ خاتون کو وہاں چھوڑ آئی۔ دو دن بعد بیٹا آیا۔ ماں کے کپڑے، شناختی کارڈ اور پنشن کارڈ ان کے حوالے کیے اور صرف ایک جملہ کہا: "ماں… میں مجبور ہوں۔" ماں نے بیٹے کو دیکھا۔ نہ بددعا دی، نہ شکوہ کیا، نہ کوئی سوال کیا۔ بس اتنا کہا: "بیٹا، میں نے تمہیں معاف کیا۔ جاؤ، اللہ تمہیں خوش رکھے۔" پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد ماں نے وہ بات کہی جو شاید اس بیٹے کے دل پر ہمیشہ بوجھ بنی رہے گی: "لیکن اگر میں مر جاؤں تو یہاں آنے کی زحمت نہ کرنا۔ آج میں تمہارے لیے مر گئی ہوں۔ میری میت کو ہاتھ نہ لگانا، میرا آخری دیدار بھی نہ کرنا… میرے کفن اور دفن کا انتظام یہی لوگ کریں گے۔" ماں نے بیٹے کو معاف تو کر دیا… مگر اپنے دل سے اس رشتے کی امید ختم کر دی۔ 💔 اولاد شاید یہ بھول جاتی ہے کہ والدین ہمیشہ زندہ نہیں رہتے۔ ایک دن وہی ماں جو ہماری ایک آواز پر دوڑ کر آتی تھی، خاموشی سے دنیا سے چلی جائے گی۔ اس دن نہ دولت کام آئے گی، نہ عہدہ، نہ مصروفیات، نہ یہ جملہ کہ "میں مجبور تھا۔" اگر آپ کے والدین زندہ ہیں تو آج ہی ان کے پاس بیٹھیں۔ ان کا ہاتھ تھامیں۔ ان سے کہیں: "امی/ابو، آپ ہمارے لیے بوجھ نہیں… ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔" کیونکہ قبرستان میں کھڑے ہو کر آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ زندہ ماں باپ کی آنکھوں میں خوشی کے دو آنسو لائے جائیں۔

About