@ababeel6335385: #ہر نظر آنے والی چیز ایک تاثر رکھتی ہے۔ چراغ بجھا ہوا بھی ہو تو روشنی اسکا حوالہ ہے۔ سوکھا گلاب بھی خوشبو دیتا ہے۔ ہر چیز، ہر منظر اور ہر جاندار کی ایک شناخت ہے۔ چہرے اور نام مکمل تعرف ہوا کرتے ہیں۔ شناخت ہی توقعات تشکیل دیتی ہے، گائک سے لوگ راگ کی توقع رکھتے ہیں اور کمہار کا نام سن کر مٹی کے گھڑولے ذہن میں آتے ہیں۔ طبیب کا چہرہ طب کا تاثر دیتا ہے اور شاعر کا آنکھیں احساسات سے لبریز ہوتی ہے۔ ہر انسان کی ایک منفرد شناخت ہے، باطن کی کتاب وہی پڑھ سکتا ہے جو چہروں پر درج عنوان پڑھنا جانتا ہو۔ رنگ گورا تو سبکو اچھا لگتا ہے لیکن سبکو جو اچھے لگے وہ گورا ہی ہو یہ ضروری نہیں۔ بوچال، آنکھوں کا چلن، آواز کی حد، لہجہ کا ذائقہ اور لباس کا چناو، یہ سب ایک طرف اور چہرہ پر لکھا عنوان ایک طرف۔ درویش شکل سے درویش ہوتا ہے اور رنگ باز شکل سے رنگ باز۔ دھو کہ تو صرف یوں ہوتا ہے کہ زیادہ تر لوگ اس بینائی محروم ہیں۔ اچھا لباس نظر آتا ہے لیکن اچھا انسان محسوس ہوتا ہے۔ راستے کبھی اچھے اور کبھی بہ بھی برے ہوتے ہیں لیکن اچھا مسافر ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔ کئی چہرے بس دیکھ کر تسلی کا احساس ہوتا ہے اور کئی سے چہرے سپاٹ ہوتے ہیں بتوں کی مانند۔