@kainat_0800: ہم اتنے بے وقوف ہیں کہ ذرا سی اپنائیت ملنے پر کھلی کتاب بن جاتے ہیں۔ کسی کا لہجہ ذرا نرم ہو، کوئی ہماری خیریت پوچھ لے، ہماری خاموشی محسوس کر لے، تو ہم سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید اسے واقعی ہماری پرواہ ہے۔ پھر ہم اپنی وہ باتیں بھی بتا دیتے ہیں جو برسوں سے دل میں دفن ہوتی ہیں، اپنے ڈر، اپنی کمزوریاں، اپنے ادھورے خواب اور وہ دکھ بھی بانٹ دیتے ہیں جنہیں ہم نے دنیا سے چھپا کر رکھا ہوتا ہے۔ ہمیں لگتا ہے کہ سامنے والا ہمیں سمجھے گا، سنبھالے گا اور ہماری باتوں کو ہمارے خلاف استعمال نہیں کرے گا۔ مگر حقیقت ہمیشہ ہماری سوچ جیسی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ ہماری باتیں اس لیے نہیں سنتے کہ انہیں ہماری تکلیف محسوس ہوتی ہے، بلکہ اس لیے سنتے ہیں کہ انہیں ہماری کمزوریاں معلوم ہو جائیں۔ پھر ایک دن وہی باتیں، وہی راز اور وہی کمزوریاں ہمارے سامنے ایسے رکھ دی جاتی ہیں جیسے ہم نے خود کو کسی انسان کے سامنے نہیں بلکہ اپنے امتحان کے سامنے کھول دیا ہو۔ تب سمجھ آتا ہے کہ ہر اپنائیت محبت نہیں ہوتی، ہر سننے والا اپنا نہیں ہوتا، اور ہر مسکراہٹ کے پیچھے خلوص نہیں ہوتا۔ شاید اسی لیے وقت کے ساتھ انسان کم بولنے لگتا ہے، کم لوگوں پر یقین کرتا ہے اور اپنے دل کے دروازے ہر کسی کے لیے کھولنا چھوڑ دیتا ہے۔ کیونکہ کچھ زخم دھوکے سے نہیں، اپنے ہی ہاتھوں سے دی ہوئی وہ سچائیاں دیتی ہیں جو ہم نے کسی کو اپنا سمجھ کر بتائی تھیں۔