@tudosobre__anitta: @anitta O novo álbum de Anitta, **"EQUILIBRIVM"**, tem movimentado a internet ao colocar a espiritualidade no centro de sua narrativa artística. Ao longo dos visuais e das músicas, a cantora apresenta referências a diferentes elementos religiosos e culturais, incluindo cenas inspiradas em tradições de matriz africana, o que despertou um intenso debate nas redes sociais. Entre os momentos que mais repercutiram está a exibição de um ritual de bori nos visuais do projeto. Para muitos fãs e admiradores, a escolha representa um ato de respeito à diversidade religiosa e uma forma de expressar sua identidade espiritual por meio da arte. Nas redes, diversas pessoas elogiaram a coragem da artista em abordar um tema que, historicamente, ainda enfrenta preconceitos no Brasil, destacando a qualidade estética e o significado simbólico do projeto. Por outro lado, o álbum também recebeu críticas, principalmente de parte do público cristão, que manifestou desconforto com algumas das referências presentes na obra. As opiniões divergentes rapidamente transformaram o lançamento em um dos assuntos mais comentados da internet, gerando debates sobre liberdade artística, fé, intolerância religiosa e respeito às diferentes crenças. Independentemente das opiniões, "EQUILIBRIVM" já pode ser considerado um dos trabalhos mais discutidos da carreira de Anitta. A cantora volta a mostrar que não tem receio de explorar temas pessoais e culturais em seus projetos, despertando emoções, reflexões e conversas que vão além da música. Em meio aos elogios e às críticas, o álbum reforça o poder da arte de provocar diálogo e evidencia como a espiritualidade pode ocupar um espaço de destaque na produção artística contemporânea. #anitta #anittacy #equilibrivm

tudosobre__anitta
tudosobre__anitta
Open In TikTok:
Region: BR
Sunday 09 August 2026 03:18:29 GMT
146
14
0
0

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @tudosobre__anitta, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Happy Father's Day 💐 ❤️  اگر ہم باپ کو دائیں کندھے پر اور ماں کو بائیں کندھے پر بٹھا کر سو سال بھی چلتے رہیں، تب بھی ہم والدین کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ والدین کا رشتہ دنیا کے ہر رشتے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کے آغاز سے پہلے ہی ہمارے لیے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہماری زندگی سنوارنے میں گزار دیتے ہیں۔
 
 ایک ماں نو مہینے اپنے وجود میں ایک نئی زندگی کو اٹھائے رکھتی ہے۔ وہ تکلیف برداشت کرتی ہے، راتوں کی نیند قربان کرتی ہے، اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے، مگر اولاد کی ایک مسکراہٹ اس کی تمام تھکن بھلا دیتی ہے۔ بچہ جب بولنا نہیں جانتا، چلنا نہیں جانتا، اپنی ضرورت بھی بیان نہیں کر سکتا، تب ماں اس کی خاموشی تک سمجھ لیتی ہے۔ اس کی محبت کسی شرط، کسی صلے اور کسی بدلے کی محتاج نہیں ہوتی۔
 
 اور باپ... وہ اکثر اپنی محبت کا اظہار الفاظ سے نہیں کرتا، مگر اس کی پوری زندگی اولاد کے نام ہوتی ہے۔ وہ اپنی تھکن چھپا لیتا ہے، اپنی خواہشات قربان کر دیتا ہے، اپنی ضروریات کم کر لیتا ہے تاکہ اس کے بچوں کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ وہ دھوپ میں جلتا ہے، مشکلات سے لڑتا ہے، دنیا کی سختیوں کا سامنا کرتا ہے، مگر گھر آ کر بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر خود کو کامیاب سمجھتا ہے۔
 
 اولاد بڑی ہو جاتی ہے، کامیاب ہو جاتی ہے، والدین کے لیے آسانیاں بھی فراہم کر دیتی ہے، مگر پھر بھی والدین کے احسانات کا حساب مکمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انہوں نے صرف وقت یا پیسہ نہیں لگایا ہوتا، انہوں نے اپنی جوانی، اپنی نیند، اپنی راحت اور اپنی دعائیں اولاد پر خرچ کی ہوتی ہیں۔ کبھی غور کریں، جب پوری دنیا آپ کی غلطیوں پر تنقید کرتی ہے تو والدین ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو پھر بھی آپ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جب سب دروازے بند ہوتے ہیں تو ان کی محبت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ جب سب لوگ حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں تو والدین کی دعائیں نہیں بدلتیں۔
 
 اسی لیے والدین کا حق صرف خدمت سے ادا نہیں ہوتا، نہ ہی تحفوں اور آسائشوں سے پورا ہو جاتا ہے۔ ان کا حق ادا کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے، مگر مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے احسانات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ زندگی بھر کی خدمت بھی ان قربانیوں کا مکمل بدلہ نہیں بن سکتی۔
 
 خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اور اگر والدین اس دنیا سے جا چکے ہوں تو ان کے لیے دعا، صدقہ اور اچھے اعمال ہی وہ تحفے ہیں جو ان تک پہنچ سکتے ہیں۔
 
 کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں بہت سے رشتے مل جاتے ہیں، لیکن ماں باپ جیسا رشتہ دوبارہ کبھی نہیں ملتا۔ اور انسان جتنا جلدی اس حقیقت کو سمجھ لے، اتنا ہی بہتر ہے۔
Happy Father's Day 💐 ❤️ اگر ہم باپ کو دائیں کندھے پر اور ماں کو بائیں کندھے پر بٹھا کر سو سال بھی چلتے رہیں، تب بھی ہم والدین کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتے۔ کیونکہ والدین کا رشتہ دنیا کے ہر رشتے سے مختلف ہوتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کے آغاز سے پہلے ہی ہمارے لیے خواب دیکھنا شروع کر دیتے ہیں، اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ ہماری زندگی سنوارنے میں گزار دیتے ہیں۔ ایک ماں نو مہینے اپنے وجود میں ایک نئی زندگی کو اٹھائے رکھتی ہے۔ وہ تکلیف برداشت کرتی ہے، راتوں کی نیند قربان کرتی ہے، اپنی خواہشات کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے، مگر اولاد کی ایک مسکراہٹ اس کی تمام تھکن بھلا دیتی ہے۔ بچہ جب بولنا نہیں جانتا، چلنا نہیں جانتا، اپنی ضرورت بھی بیان نہیں کر سکتا، تب ماں اس کی خاموشی تک سمجھ لیتی ہے۔ اس کی محبت کسی شرط، کسی صلے اور کسی بدلے کی محتاج نہیں ہوتی۔ اور باپ... وہ اکثر اپنی محبت کا اظہار الفاظ سے نہیں کرتا، مگر اس کی پوری زندگی اولاد کے نام ہوتی ہے۔ وہ اپنی تھکن چھپا لیتا ہے، اپنی خواہشات قربان کر دیتا ہے، اپنی ضروریات کم کر لیتا ہے تاکہ اس کے بچوں کی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔ وہ دھوپ میں جلتا ہے، مشکلات سے لڑتا ہے، دنیا کی سختیوں کا سامنا کرتا ہے، مگر گھر آ کر بچوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر خود کو کامیاب سمجھتا ہے۔ اولاد بڑی ہو جاتی ہے، کامیاب ہو جاتی ہے، والدین کے لیے آسانیاں بھی فراہم کر دیتی ہے، مگر پھر بھی والدین کے احسانات کا حساب مکمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ انہوں نے صرف وقت یا پیسہ نہیں لگایا ہوتا، انہوں نے اپنی جوانی، اپنی نیند، اپنی راحت اور اپنی دعائیں اولاد پر خرچ کی ہوتی ہیں۔ کبھی غور کریں، جب پوری دنیا آپ کی غلطیوں پر تنقید کرتی ہے تو والدین ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جو پھر بھی آپ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ جب سب دروازے بند ہوتے ہیں تو ان کی محبت کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ جب سب لوگ حالات کے مطابق بدل جاتے ہیں تو والدین کی دعائیں نہیں بدلتیں۔ اسی لیے والدین کا حق صرف خدمت سے ادا نہیں ہوتا، نہ ہی تحفوں اور آسائشوں سے پورا ہو جاتا ہے۔ ان کا حق ادا کرنے کی کوشش ضرور کی جا سکتی ہے، مگر مکمل طور پر ادا نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے احسانات اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ زندگی بھر کی خدمت بھی ان قربانیوں کا مکمل بدلہ نہیں بن سکتی۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے والدین زندہ ہیں اور ان کی دعائیں ان کے ساتھ ہیں۔ اور اگر والدین اس دنیا سے جا چکے ہوں تو ان کے لیے دعا، صدقہ اور اچھے اعمال ہی وہ تحفے ہیں جو ان تک پہنچ سکتے ہیں۔ کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ دنیا میں بہت سے رشتے مل جاتے ہیں، لیکن ماں باپ جیسا رشتہ دوبارہ کبھی نہیں ملتا۔ اور انسان جتنا جلدی اس حقیقت کو سمجھ لے، اتنا ہی بہتر ہے۔

About