@dawood_mahar: اللہ اس شہر (مکہ) کی اور اس میں آپ (ﷺ) کے قیام کی قسم کھا کر فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اس پر کوئی قابو نہیں پا سکے گا؟ وہ مال اڑا کر غرور کرتا ہے، حالانکہ اللہ اس کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا ہے۔ اللہ نے انسان کو دو آنکھیں، زبان، دو ہونٹ دیے اور (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے دکھائے۔ مگر وہ دین کی دشوار گھاٹی میں داخل نہ ہوا، اور آپ کیا جانیں وہ گھاٹی کیا ہے؟ کسی گردن (غلام) کو آزاد کرانا، یا بھوک کے دن کسی قریبی یتیم اور خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا