@feelistic_soul02: بلندی مقام سے نہیں، عاجزی سے ملتی ہے۔ انسان جتنا بڑا ہوتا جاتا ہے، اتنا ہی اسے جھکنا سیکھنا چاہیے، کیونکہ درخت پر پھل جتنا زیادہ ہوتا ہے، اس کی شاخیں اتنی ہی جھک جاتی ہیں۔ اصل عظمت اونچی کرسی، دولت، شہرت یا اختیار میں نہیں، بلکہ اُس دل میں ہوتی ہے جو طاقت رکھنے کے باوجود کسی کو حقیر نہ سمجھے۔ غرور انسان کو صرف دوسروں سے دور نہیں کرتا، بلکہ آہستہ آہستہ اسے حقیقت سے بھی دور کر دیتا ہے۔ تکبر کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ انسان کو اپنی غلطیاں بھی کمال نظر آنے لگتی ہیں، اپنی ضد بھی اصول لگتی ہے، دوسروں کی شکست اپنی فتح محسوس ہوتی ہے، اور وہ اپنی تباہی کے راستے کو بھی کامیابی سمجھ کر چلتا رہتا ہے۔ وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ آج جس مقام پر انسان کھڑا ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی وہیں ہو۔ آج جسے اپنے سے کم سمجھ کر نظر انداز کیا جا رہا ہے، ممکن ہے کل وہی انسان اُس مقام پر ہو جہاں پہنچنے کا خواب بھی دوسروں نے نہ دیکھا ہو۔ زندگی کسی کے غرور کو ہمیشہ برداشت نہیں کرتی؛ وقت خاموش رہ کر انسان کو اُس کے اعمال کا جواب ضرور دیتا ہے۔ یاد رکھیں، عاجزی کمزوری نہیں بلکہ کردار کی طاقت ہے۔ جو شخص دوسروں کو عزت دیتا ہے، وہ خود عزت پاتا ہے۔ جو دوسروں کو نیچا دکھا کر بلند ہونا چاہتا ہے، وہ وقتی طور پر تو اوپر نظر آ سکتا ہے، مگر حقیقت میں اپنے کردار کو بہت نیچے گرا چکا ہوتا ہے۔ اپنی کامیابی پر شکر کریں، فخر نہیں۔ اپنے مقام پر عاجزی اختیار کریں، غرور نہیں۔ اور لوگوں کے ساتھ ایسا سلوک کریں کہ اگر کبھی وقت آپ کو اُن کے سامنے دوبارہ لا کھڑا کرے، تو آپ کو نظریں چرانا نہ پڑیں۔ کیونکہ اصل کامیابی یہ نہیں کہ دنیا آپ کے قدموں میں ہو، اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ کے دل میں کسی کے لیے تکبر نہ ہو۔ آخرکار انسان اپنے عہدے، دولت اور شہرت سے نہیں، بلکہ اپنے رویّے، کردار اور عاجزی سے یاد رکھا جاتا ہے۔ جو جھکنا جانتا ہے، وہی حقیقت میں بلند ہوتا ہے۔ 🤍 #deeplines #islamicreminder #unfrezzmyaccount #growmyaccount #fypシ゚viral