@wajiha.06: تجھے کیا خبر کہ تیرے بعد میں نے جینا کیسے سیکھا۔ ہر سانس مجھ پر قرض کی طرح تھی جو میں نے تیرے خیال میں اتاری دن گزرتے رہے مگر دل کہیں ٹھہر گیا راتیں لمبی ہو گئیں اور آنکھوں نے نیند سے انکار کر دیا۔ میں نے مسکرا کر لوگوں کو یقین دلایا کہ سب ٹھیک ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ میں نے ہر سانس تیری یاد کے نام کر دی تو نہ تھا، پھر بھی میں نے خود کو زندہ رکھا، بس اس لیے کہ کبھی تو لوٹ کر آئے گا اور دیکھے گا کہ تیرے بعد بھی میں نے محبت نبھائی ہے۔ میری خاموشی میرا صبر ميرا جينا سب تیرے نام کا قرض تھا جو میں نے بغیر شکایت کے ادا کیا۔ بس اتنا جان لو بچھڑنے والے میں نے تیرے بعد بھی سانسیں لی ہیں مگر زندگی نہیں جی۔