@hastyarforyouuu: مان سیتی لەدوای فەیلەسوف وێرانە❤️‍🩹👀😍! #foryou #foryoupage #hastyar_foryou #fyp #💔🥀

𝚑𝚊𝚜𝚝𝚢𝚊𝚛💙❤️.
𝚑𝚊𝚜𝚝𝚢𝚊𝚛💙❤️.
Open In TikTok:
Region: IQ
Sunday 09 August 2026 12:16:44 GMT
9968
744
17
35

Music

Download

Comments

zhiroprime0
Zhiro Prime :
گواردێلۆ نا گواردیۆلا 😂😂😂
2026-08-10 19:32:01
0
hastyar.shexmamun
hastyar :
مانسیتی دووە😂😂
2026-08-09 12:27:58
0
ftball_liver
𝐀𝐍𝐓𝐄_𝐋𝐈𝐕𝐄𝐑♥️ :
بژیی
2026-08-09 12:30:16
0
dadwarraqeb
کوشندە🦂🥀 :
awa du2
2026-08-09 12:29:27
0
blndeditor07
Blnd editor :
کورە بابە بەوەی نییە ئەگەری هەیە سیتی ئەمساڵ باشتر بێت لە ساڵان
2026-08-10 17:17:11
0
bavakurdi03
017Ƭʜᴇ𝙆𝙚𝙫𝙞𝙣🖤💋 :
3-1😂
2026-08-09 17:37:37
1
rawsht87
m5xtopxjanowww :
wara chat
2026-08-09 19:33:59
0
_a7mad_11
𝗔𝗛𝗠𝗔𝗗 :
ڕەحمەتت لێ بێت زوو پۆستت نەکردبا با یاریەکە تەواوبا ئەو کات ئەوە بردیانەوە😂
2026-08-09 19:59:28
0
7ama_football
7ama_madride🔥🤍 :
Bzhii ♥️♥️♥️
2026-08-09 12:18:26
0
rebo_barca0
𝐑𝐞𝐛𝐨_𝐅𝐜𝐛🩶. :
Shza♥️
2026-08-09 12:20:09
0
7ama_football
7ama_madride🔥🤍 :
Dlm♥️♥️♥️
2026-08-09 12:18:28
0
rebo_barca0
𝐑𝐞𝐛𝐨_𝐅𝐜𝐛🩶. :
Bra♥️
2026-08-09 12:20:04
0
rebo_barca0
𝐑𝐞𝐛𝐨_𝐅𝐜𝐛🩶. :
Dlm
2026-08-09 12:20:05
0
ftball_liver
𝐀𝐍𝐓𝐄_𝐋𝐈𝐕𝐄𝐑♥️ :
شازز
2026-08-09 12:30:19
0
kcha_sorane86
kcha_sorane1 :
😁😁😁
2026-08-09 13:06:01
0
To see more videos from user @hastyarforyouuu, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اسلام آباد؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اپوزیشن لیڈر و چئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مشر محمود خان اچکزئ سے اُُنکے رہائشگاہ پر ملاقات۔ اعلامیہ قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی ملاقات اسلام آباد: آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف، جنید اکبر خان صدر پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا، عاطف خان رکن قومی اسمبلی، صاحبزادہ صبغت اللہ رکن قومی اسمبلی، انور تاج رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر امجد خان رکن قومی اسمبلی، محبوب شاہ رکن قومی اسمبلی، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، اور خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان، بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا صوبوں کی تشکیل جیسے انتہائی حساس، قومی اہمیت کے حامل اور عوام کے مستقبل سے متعلق معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔ شرکاء نے قرار دیا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار کی بحالی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا شرکاء نے واضح کیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہتی ہے، ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل، مقامی معیشت شدید متاثر اور عوام کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو دونوں جانب کے عوام کے جائز تجارتی، کاروباری اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ #Achakzaiourpride #sohailafridi  #Rehandotanai
اسلام آباد؛ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کا اپوزیشن لیڈر و چئرمین پشتونخوا ملی عوامی پارٹی مشر محمود خان اچکزئ سے اُُنکے رہائشگاہ پر ملاقات۔ اعلامیہ قائدِ حزبِ اختلاف و سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی کی ملاقات اسلام آباد: آج وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل خان آفریدی نے قائدِ حزبِ اختلاف اور سربراہ تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان محمود خان اچکزئی سے ان کی اسلام آباد میں واقع رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں ملک کی مجموعی سیاسی، آئینی اور امن و امان کی صورتحال سمیت اہم قومی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں سلمان اکرم راجہ سیکرٹری جنرل پاکستان تحریکِ انصاف، جنید اکبر خان صدر پاکستان تحریکِ انصاف خیبر پختونخوا، عاطف خان رکن قومی اسمبلی، صاحبزادہ صبغت اللہ رکن قومی اسمبلی، انور تاج رکن قومی اسمبلی، ڈاکٹر امجد خان رکن قومی اسمبلی، محبوب شاہ رکن قومی اسمبلی، حسین احمد یوسفزئی ترجمان تحریکِ تحفظِ آئینِ پاکستان، اور خالد یوسف چوہدری لیگل کونسل سابق وزیراعظم عمران خان، بھی موجود تھے۔ ملاقات میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے حوالے سے میڈیا پر نشر ہونے والی خبروں پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے کہا کہ عمران خان اس وقت ریاستی اداروں کی تحویل میں ہیں، لہٰذا ان کی صحت، سلامتی اور جان کی مکمل ذمہ داری انہیں قید رکھنے والے متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے۔ عمران خان کو کسی بھی قسم کی گزند پہنچنے کی صورت میں اس کی تمام تر ذمہ داری بھی متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔ شرکاء نے مطالبہ کیا کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی طویل قیدِ تنہائی فوری طور پر ختم کی جائے، انہیں بلا تاخیر ان کے خاندان اور ذاتی معالجین تک مکمل رسائی فراہم کی جائے اور ان کے جامع طبی معائنے اور علاج کے لیے انہیں شفاء انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ ملاقات میں نئے صوبوں کے قیام کے حوالے سے میڈیا میں زیرِ بحث مجوزہ قانون سازی اور آئینی ترمیم پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے واضح کیا کہ موجودہ پارلیمان عوامی مینڈیٹ اور اخلاقی جواز سے محروم ہے، لہٰذا صوبوں کی تشکیل جیسے انتہائی حساس، قومی اہمیت کے حامل اور عوام کے مستقبل سے متعلق معاملات پر قانون سازی یا آئینی ترمیم کا اسے اخلاقی اختیار حاصل نہیں۔ شرکاء نے قرار دیا کہ صوبوں کی تشکیل یا کسی بھی بنیادی آئینی معاملے پر فیصلہ صرف حقیقی عوامی مینڈیٹ، وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہی کیا جا سکتا ہے۔ ملاقات میں کہا گیا کہ پاکستان ایک مرتبہ پھر اپنی دستوری اور جمہوری تاریخ کے ایک انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ موجودہ صورتحال میں تمام جمہوری قوتوں کو آئین کے تحفظ، جمہوری اقدار کی بحالی اور عوام کے حقِ حکمرانی کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا شرکاء نے واضح کیا کہ جو بھی سیاسی جماعت آئین کے تحفظ، جمہوریت کی بحالی اور حقیقی اپوزیشن کے کردار کی ادائیگی کے لیے ہمارے ساتھ چلنا چاہتی ہے، ہمارے دروازے ہر وقت کھلے ہیں اور اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ ملاقات میں اتفاقِ رائے سے فیصلہ کیا گیا کہ بہت جلد تمام اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس طلب کیا جائے گا، جس میں ملک کو درپیش سیاسی، آئینی، معاشی اور انتظامی مسائل اور موجودہ سیاسی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لے کر ایک متفقہ اور مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دیا جائے گا۔ ملاقات میں خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔ شرکاء نے اسے وفاقی حکومت کی ناکام اور ناقص سیکیورٹی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان پالیسیوں کے باعث دونوں صوبوں کے عوام مسلسل بدامنی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ملاقات میں پاک افغان تجارتی راستوں کی مسلسل بندش کی شدید مذمت کی گئی۔ شرکاء نے کہا کہ تجارتی راستوں کی بندش سے سرحدی علاقوں کے ہزاروں تاجروں، کاروباری افراد، مزدوروں، ڈرائیوروں اور ٹرانسپورٹرز کا روزگار بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جبکہ اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں معطل، مقامی معیشت شدید متاثر اور عوام کو ناقابلِ تلافی مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ شرکاء نے کہا کہ پاک افغان تجارت سے وابستہ سرحدی علاقوں کی مقامی آبادی کو معاشی طور پر دیوار سے لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ وفاقی حکومت اور متعلقہ ذمہ داران سے مطالبہ کیا گیا کہ پاک افغان تجارتی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور ایسی پالیسیوں سے اجتناب کیا جائے جو دونوں جانب کے عوام کے جائز تجارتی، کاروباری اور معاشی مفادات کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ #Achakzaiourpride #sohailafridi #Rehandotanai

About