@exot_by_mirage: Falling🫦 #pole #exoticpoledance #choreo #sex #strip

Mirage👑
Mirage👑
Open In TikTok:
Region: UA
Sunday 09 August 2026 15:07:46 GMT
387444
34973
799
4665

Music

Download

Comments

juged0
Juged💔 :
It be the second clip, I am posting it yhe 1st clip
2026-08-10 02:35:36
1
abundantviking
Abundant Viking :
Oh my...this app will be the death of me
2026-08-10 01:59:47
1
jaycrom465
jaycrom465 :
perfectly synchronized at the beginning
2026-08-10 04:41:59
1
julian68918
Lucian :
Beautiful and very talented
2026-08-10 01:54:05
3
.waxing.poetic
Poet Tryin’ To Write :
Hard work and dedication 🙌💪🤩
2026-08-10 01:45:30
1
aries...lafave
@Lefeve :
That was auwsome 🥰
2026-08-10 01:35:14
1
andres_b87
Andrew :
Eso perra
2026-08-09 22:24:51
37
eliseo.hulk
eliseohulk :
SHE'S SO PERFECT...
2026-08-09 22:18:07
8
mariii8160
mariii :
me gustaría bailar asiii
2026-08-09 21:43:00
25
valeriavalle203
Valeria s :
no entiendo por qué me salen estos videos , será que mi esposo este viendo🤨🤔
2026-08-10 01:20:22
12
matt76carp
matt76carp :
2026-08-09 23:18:21
16
amarilischavez8
amarilis :
una pregunta a dónde dan clases para aprender a bailar así yo quiero 😁😁😁
2026-08-10 01:01:15
9
sonia.martinez1798
Sonia Martinez :
yo digo porque tiktok no borra y si uno pone una palabra o una imagen que es lo común nos cierra la cuenta
2026-08-10 03:11:54
1
fuentes_german078
🇬🇹 amor 🇦🇷 :
wow
2026-08-10 02:09:54
1
fabiolatrujilloreyes
maritza :
bailas bien padre
2026-08-10 02:10:47
1
negroemanuel88
El Mero Mero 🤠🥃 chingón :
eso perra 🤌
2026-08-10 01:04:09
6
pepenando14
Jose Fernando :
2026-08-10 00:54:57
1
ivanschleder0
ivanschleder :
Showww
2026-08-10 03:29:51
1
ciclon122
ciclon12 :
2026-08-10 01:17:39
1
jhazjhaz446
jhazo :
8.2 sugestivo y coherente con tú personalidad
2026-08-10 02:38:20
2
roberto.torreblan
Roberto Torreblanca cardoso :
hermosa
2026-08-10 00:36:56
1
osle75
OSGO :
2026-08-10 00:48:21
1
To see more videos from user @exot_by_mirage, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں، جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برसों کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاہ پردوں میں ڈھل گیا ہے۔ یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔
خوابوں کی سڑکیں سنسان ہو گئیں۔ یادوں کی کھڑکیاں گرد سے بھر گئیں۔ انتظار کی شامیں زرد شفق میں تحلیل ہو گئیں۔ دریچوں کے چراغ بجھ گئے۔ خاموشیوں کے سائے بڑھ گئے۔ دل کی دھڑکنوں نے تھکن اوڑھ لی۔ پیاسے لب دعا سے بھی خالی ہو گئے۔ خواہشوں کی کلیاں سوکھ کے جھڑ گئیں۔ نظر کے افق پہ اندھیرے اتر گئے۔ امید کے صحرا میں کوئی سایہ نہ رہا۔ پھولوں کی خوشبو پتھروں میں دفن ہو گئی۔ محبت کی صورت بھی اجنبی لگنے لگی۔ یقین کے چہرے پہ دراڑیں پڑ گئیں۔ ہجر کی ساعتیں لہو روتی رہیں۔ یاد کی بارش میں موسم بھی بکھر گیا۔ کرب کی لکیر ماتھے پہ گہری ہو گئی۔ نگاہوں کا سمندر سوکھ گیا۔ چاہت کی کشتیاں ڈوب گئیں۔ یہ آنکھیں تیری دید کے فاقوں سے مڑ گئیں۔ وہ آنکھیں جو کبھی خوابوں کی روشنی تھیں، جو ہر لمحہ تیری جھلک کی آرزو میں نم رہتی تھیں اب محرومی کی خاک اوڑھ کر بجھ گئی ہیں۔ انتظار کے ریگ زار نے ان کے جادو کو سلب کر لیا ہے۔ برसों کی پیاس جب دید کے قطرے سے نہ بجھ سکی تو نگاہوں کی تازگی بھی مرجھا گئی۔ وہ منظر جو کبھی رنگین تھا اب سیاہ پردوں میں ڈھل گیا ہے۔ یہ آنکھیں اب تیری تلاش میں نہیں، بلکہ اپنی تھکن میں الجھ کر کنارہ کر چکی ہیں۔ یہ نہ تو سوال کرتی ہیں نہ جواب چاہتی ہیں، بس خاموشی کے بوجھ تلے جھک کر ہجر کی اذیت کو تقدیر مان چکی ہیں۔

About