@gigipaolucci975spam:

gigipaolucci975spam
gigipaolucci975spam
Open In TikTok:
Region: US
Sunday 09 August 2026 21:24:39 GMT
730
46
0
1

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @gigipaolucci975spam, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

: پشاور یونیورسٹی میدانِ جنگ بن گئی، فائرنگ سے خوف و ہراس — کیمپس سیکیورٹی اور کمانڈنٹ کی کارکردگی پر بڑے سوالات ( یہ باڑہ نہیں پشاور یونیورسٹی ہے   اسلام   اباد  )   پشاور یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم اور سرعام فائرنگ نے کیمپس کا امن تہس نہس کر دیا۔ فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد یونیورسٹی سیکیورٹی اور کیمپس کمانڈنٹ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ سے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، کلاسیں خالی ہو گئیں اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ طلبہ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف دوڑتے رہے جبکہ پورا کیمپس میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر متعدد چیک پوسٹیں اور سیکیورٹی اہلکار موجود ہونے کے باوجود اسلحہ کیمپس کے اندر کیسے پہنچا؟ طلبہ تنظیموں کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟ اور کیمپس پولیس آخر کر کیا رہی تھی؟ فائرنگ کی ویڈیو نے یونیورسٹی پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کیمپس کا ماحول کسی تعلیمی درسگاہ کے بجائے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ جیسا محسوس ہونے لگا ہے جہاں قانون کی عملداری دکھائی نہیں دیتی۔ طلبہ اور والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کو اسلحہ کلچر اور تنظیمی تصادم سے پاک کیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور یہ تحقیقات کی جائیں کہ اسلحہ آخر کیمپس کے اندر کیسے پہنچا۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کی جامعات میں سیاسی تنظیموں کے تصادم کی ایک خطرناک مثال ہے جہاں تعلیم اور طلبہ کی جان و سلامتی سیاسی اختلافات کی نذر ہو رہی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ
: پشاور یونیورسٹی میدانِ جنگ بن گئی، فائرنگ سے خوف و ہراس — کیمپس سیکیورٹی اور کمانڈنٹ کی کارکردگی پر بڑے سوالات ( یہ باڑہ نہیں پشاور یونیورسٹی ہے اسلام اباد ) پشاور یونیورسٹی میں دو طلبہ تنظیموں کے درمیان مسلح تصادم اور سرعام فائرنگ نے کیمپس کا امن تہس نہس کر دیا۔ فائرنگ کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد یونیورسٹی سیکیورٹی اور کیمپس کمانڈنٹ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ سے طلبہ میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، کلاسیں خالی ہو گئیں اور ہر طرف بھگدڑ مچ گئی۔ طلبہ اپنی جان بچانے کے لیے محفوظ مقامات کی طرف دوڑتے رہے جبکہ پورا کیمپس میدان جنگ کا منظر پیش کرتا رہا۔ سوال یہ ہے کہ یونیورسٹی کے داخلی و خارجی راستوں پر متعدد چیک پوسٹیں اور سیکیورٹی اہلکار موجود ہونے کے باوجود اسلحہ کیمپس کے اندر کیسے پہنچا؟ طلبہ تنظیموں کے پاس جدید اسلحہ کہاں سے آیا؟ اور کیمپس پولیس آخر کر کیا رہی تھی؟ فائرنگ کی ویڈیو نے یونیورسٹی پولیس کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ کیمپس کا ماحول کسی تعلیمی درسگاہ کے بجائے ضلع خیبر کے علاقے باڑہ جیسا محسوس ہونے لگا ہے جہاں قانون کی عملداری دکھائی نہیں دیتی۔ طلبہ اور والدین نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی کو اسلحہ کلچر اور تنظیمی تصادم سے پاک کیا جائے، ذمہ داروں کے خلاف فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور یہ تحقیقات کی جائیں کہ اسلحہ آخر کیمپس کے اندر کیسے پہنچا۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں اور ملوث عناصر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کی جامعات میں سیاسی تنظیموں کے تصادم کی ایک خطرناک مثال ہے جہاں تعلیم اور طلبہ کی جان و سلامتی سیاسی اختلافات کی نذر ہو رہی ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ "جامعات کو تعلیمی درسگاہیں بنائیے، اسلحہ کی فیکٹریاں نہیں۔"

About