@general.knowledge453: *موضوع: ہمارا معیار دولت نہیں کردار ہے، اسی لیے ہر کوئی ہمارے قریب نہیں رہ سکتا*
آج کے دور میں اکثر لوگ رشتوں کو تولنے کے لیے پیسے کا ترازو استعمال کرتے ہیں۔ جس کے پاس گاڑی ہے، بنگلہ ہے، بینک بیلنس ہے، وہی "قابلِ عزت" سمجھا جاتا ہے۔ لیکن کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا اصول بالکل مختلف ہوتا ہے۔
*"ہمارا معیار دولت نہیں کردار ہے، اسی لیے ہر کوئی ہمارے قریب نہیں رہ سکتا"*
کردار والا انسان دولت نہ بھی رکھے تو اس کی عزت دلوں میں ہوتی ہے۔ وہ جھوٹ نہیں بولتا، وعدہ کر کے مکرتا نہیں، اور مشکل میں دوست کا ساتھ نہیں چھوڑتا۔ اس کے لیے رشتہ مطلب کا نہیں، بھروسے کا ہوتا ہے۔ وہ امیر کو سر نہیں جھکاتا اور غریب کو حقیر نہیں سمجھتا۔
جب آپ کا معیار کردار ہو تو فطری بات ہے کہ ہجوم کم ہو جائے گا۔ کیونکہ مفاد پرست لوگ آپ کے ساتھ زیادہ دیر نہیں چل سکتے۔ جو لوگ صرف فائدے کے لیے رشتہ نبھاتے ہیں، انہیں کردار والے لوگ بور لگتے ہیں۔ انہیں وہاں سکون نہیں ملتا جہاں سچ بولا جاتا ہو، جہاں غلط پر ٹوکا جاتا ہو، اور جہاں عزت خریدی نہ جاتی ہو کمائی جاتی ہو۔
دولت آج ہے کل نہیں، لیکن کردار ایک بار بن جائے تو نسلوں تک پہچانا جاتا ہے۔ تاریخ میں بھی انہی لوگوں کے نام زندہ ہیں جن کے پاس اخلاق تھا، اصول تھے، غیرت تھی۔ خالی جیب والے بھی لوگوں کے دل کے امیر بن گئے، اور خزانوں والے بھی لوگوں کی نظروں میں گر گئے۔
اس لیے اگر آپ کے اردگرد لوگ کم ہیں تو پریشان مت ہوں۔ یہ کمی نہیں، چھانٹی ہے۔
اللہ نے آپ کو اس لیے الگ رکھا ہے تاکہ آپ کے قریب وہی رہے جو آپ جیسا سوچتا ہو۔
یاد رکھیں، 10 مطلبی لوگوں سے بہتر ہے 2 کردار والے دوست ہوں۔
کیونکہ دنیا دولت سے نہیں، کردار سے پہچانی جاتی ہے۔#plzunfrezemyaccount #urduquotes