ماشاءاللہ میری جان کا پیارا یار اس کا پہرا یار قیصر گلاب اس کا پیارا یار ہے بس پیارے یار کا اس کی جدائی کا پیاری جان کا وفادار یار ہے وفادار ہے بتاؤں رہتی ہے اس پیارے یار کی جدائی مار دیتی ہے یار پردیسی یار ہے اس پردیسی یار بھی محبت ہے وہ بہت پیاری محبت ہے بس اس کا یار اس پیاریوں کو کا اظہار کرتا ہے اس کی سیرت اور سورج کا دیدار کرتا ہے یار ہے اس کو دیکھو نا اس پیارے یار کا دل نہیں لگتا ایسے ہوتا ہے جیسے اس کی کوئی چیز گم ہے اس کو ڈھونڈتا ہے ڈھونڈتا رہتا ہے بھی اس پیارے یار کی تدا ڈھونڈتا ہے ڈھونڈ لیتا ہے تو پیارا یاد کون سا ہے پیار تو پھر یار ہے پیاری انکھوں والا پیارا یار ہے ائی لو یو میری جان ہے پیاری تو پیاری جان ہے