@abnormal77: بلھے شاہ کی صوفیانہ شاعری میں ایک بڑا موضوع ظاہری مذہبی رسموں سے زیادہ دل کی پاکیزگی اور عشقِ حقیقی ہے۔ وہ یہ بتاتے ہیں کہ جب انسان کو حقیقی عشق کا تجربہ ہوتا ہے تو پھر معاشرے کے بنائے ہوئے معیار، انا اور لوگوں کی رائے اس کے لیے کم اہم ہو جاتی ہے۔ اسی لیے “نچایا” ایک طرح سے یہ کیفیت بیان کرتا ہے: عشق .بےخودی . انا کا خاتمہ .محبوب میں ڈوب جانا اور “تھیا تھیا” اس بےخودی اور وجد کی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے