@quranmajeed...4: مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے نزدیک مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔ یہی وہ بابرکت مسجد ہے جہاں رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ واقعۂ اسراء و معراج کے دوران تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: «"پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی، جس کے گرد و نواح کو ہم نے برکت دی ہے، تاکہ ہم اسے اپنی نشانیاں دکھائیں۔ بے شک وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔" (سورۃ الإسراء: 1)» صحیح احادیث کے مطابق، مسجدِ اقصیٰ پہنچنے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے تمام انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت فرمائی۔ یہ عظیم واقعہ آپ ﷺ کے بلند مقام، ختمِ نبوت اور تمام انبیائے کرام کے باہمی روحانی تعلق کی ایک عظیم علامت ہے۔ مسجدِ اقصیٰ صدیوں سے انبیائے کرام علیہم السلام کی عبادت، دعوت اور تاریخ سے وابستہ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مسجد اسلامی تہذیب، ایمان اور روحانیت میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے نہایت مقدس اور قابلِ احترام ہے۔ واقعۂ اسراء و معراج ہمیں اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت، رسول اللہ ﷺ کی عظمت اور ایمان کی مضبوطی کا درس دیتا ہے، جبکہ مسجدِ اقصیٰ امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، احترام اور دینی ورثے کی ایک اہم علامت ہے۔ 🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں مسجدِ اقصیٰ، مسجدِ حرام اور مسجدِ نبوی ﷺ کی بار بار حاضری نصیب فرمائے، ان مقدس مقامات کی حفاظت فرمائے، اور ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔ ڈسکلیمر: یہ معلومات قرآنِ کریم، صحیح احادیث اور مستند اسلامی مصادر کی بنیاد پر صرف معلوماتی اور تعلیمی مقصد کے لیے پیش کی گئی ہیں۔ واقعۂ اسراء و معراج میں مسجدِ اقصیٰ تک سفر اور وہاں انبیائے کرام علیہم السلام کی امامت مستند اسلامی روایات سے ثابت ہے، تاہم مسجدِ اقصیٰ کے احاطے میں بعض مخصوص مقامات کی تعیین کے بارے میں تاریخی آراء مختلف ہو سکتی ہیں۔ #foryou#islamic