@2024.h07: #الشعب_الصيني_ماله_حل😂😂 #لايك

🤝
🤝
Open In TikTok:
Region: MR
Monday 10 August 2026 23:27:35 GMT
25034
1118
32
194

Music

Download

Comments

mohamed4206.vadel
Mohamed4206 vadellcheikhe elMa :
التنزيل من فضلكم
2026-08-15 23:51:34
1
abdo.lma4
القياد🫡 عبدالله🧔‍♂️القلقمي :
هههه اسكي حتتته واجع 😭
2026-08-22 10:19:57
0
user24772870113476
زيــن الــعـتاك :
أسكي حة
2026-08-17 23:00:06
1
user9853799924780
user9853799924780 :
هاح😁😁😁😁😁😁أسكي
2026-08-24 02:06:54
1
mine35355
Mine..♥️ :
يوكي حت
2026-08-17 14:20:33
1
cheikhbouya183
Cheikh Bouya :
اسكي حتتت
2026-09-23 22:16:34
0
mostafanajim322
Mostafa Najim :
مشيلي هاذ من فضلك
2026-08-30 20:41:25
0
user6087850663404
الطيب محمد :
واله أسكي زوين
2026-09-25 15:00:20
0
user55328698680014
سداتي سيد عالي :
والله أسكي حتتتتتته 😁😆😆😅
2026-08-22 23:36:39
1
hamed85306
محمداحمد :
فتح تنزل
2026-09-19 13:24:06
0
user16929609040544
وفاء وفاء :
حكل مشوهلي
2026-08-17 19:06:39
1
lemaloume
الشيخ ول المعلوم :
اسك حت
2026-10-06 22:26:40
0
user52531716293
ماموني غالي💤💤💤🇲🇷 :
منت امي
2026-08-18 08:08:07
0
mohamed.salem.tei
Mohamed Salem Teizigawi :
🥰🥰🥰
2026-08-13 12:29:01
1
nejate.salme
Nejate Salme :
🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰🥰
2026-08-12 10:31:10
1
user98009383651878
محمد مشظوف :
🙃🙃🙃
2026-08-13 21:48:49
1
nejate.salme
Nejate Salme :
👍👍👍👍👍👍👍👍👍
2026-08-12 10:31:01
1
mohamed..sara5
seuid :
🥰🥰🥰🥰✌️✌️✌️✌️
2026-08-17 10:30:58
1
user5145591662885
سيدحمد ميلود :
😳😳😳
2026-08-13 16:43:55
1
med.ekneyta
Med ekneyta :
🥰🥰🥰
2026-08-16 13:28:47
1
jedle.bou3mu
العلوية ..ديكوو :
🥰🥰🥰
2026-10-04 20:26:48
0
ab.btt
PATRICK :
🥰🥰🥰
2026-10-05 17:01:45
0
rgeybiwe2vta5ir
فوبيا 🇩🇿🇪🇭🫡💪 :
[Cœur rouge][Cœur rouge][Cœur rouge]
2026-09-20 22:43:59
0
seyidnaaly3
seyidnaAly :
🥰🥰🥰
2026-09-28 01:21:08
0
ab.btt
PATRICK :
😂😂😂
2026-10-05 17:01:32
0
To see more videos from user @2024.h07, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔
#کل ٹرمپ کے استقبال میں عورتیں پیش کی جا رہی تھیں، آج ایک عورت کا سر تن سے جدا ہے! ایک وقت تھا جب سعودی عرب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد پر شاہانہ استقبال کیا جا رہا تھا۔ دولت کی نمائش تھی، قیمتی تحفے تھے، رقص و موسیقی کی محفلیں تھیں، اور دنیا بھر کے سامنے عرب شاہی نظام کی شان و شوکت دکھائی جا رہی تھی۔ آج اسی خطے سے ایک ایسی خبر سامنے آتی ہے جو انسان کے دل کو چیر کر رکھ دیتی ہے۔ ایک عورت، جو کسی کی بیوی تھی، کسی کی بیٹی تھی، کسی کے گھر کی عزت اور کسی کی زندگی کا حصہ تھی، اس کی زندگی ایک ایسے انجام تک پہنچی کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دیا گیا۔ کیا عورت صرف استقبال کی زینت بننے کے لیے ہے؟ کیا اس کی عزت صرف محفلوں تک محدود ہے؟ اور جب وہ ایک انسان کی حیثیت سے اپنے ہی گھر میں ظلم کا شکار ہو، تو اس کی حرمت کہاں چلی جاتی ہے؟ کل تک طاقتور حکمرانوں کے سامنے مسکراہٹیں بکھیرنے، دولت لٹانے اور دنیا کو متاثر کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔ آج ایک عورت کی موت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ محلوں کی چمک دمک، دولت کے انبار اور طاقت کے مظاہرے کسی معاشرے کی اصل عظمت کا ثبوت نہیں ہوتے۔ اصل عظمت تو یہ ہے کہ ایک عورت اپنے گھر میں محفوظ ہو، ایک بیوی اپنے شوہر کے ہاتھوں خوف زدہ نہ ہو، ایک بیٹی اپنی زندگی کے لیے دعا کرنے پر مجبور نہ ہو، اور ایک انسان کی جان کو ہر تعلق، ہر رشتے اور ہر اختلاف سے بڑھ کر اہمیت دی جائے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ہم عورت کو کبھی عزت کے نام پر قید کرتے ہیں، کبھی غیرت کے نام پر اس کی زندگی چھین لیتے ہیں، اور کبھی اسے طاقتور لوگوں کی محفلوں میں محض ایک منظر بنا کر پیش کرتے ہیں۔ آخر عورت کی اپنی ذات، اس کے خواب، اس کی خواہشات اور اس کی زندگی کی قیمت کب تسلیم کی جائے گی؟ اسلام تو عورت کو عزت، وراثت، تحفظ اور زندگی کا حق دیتا ہے۔ پھر عورت پر ظلم کرنے والا کس منہ سے دین، غیرت اور عزت کی بات کرتا ہے؟ کسی عورت کو قتل کر دینا غیرت نہیں، بلکہ انسانیت کے چہرے پر ایک ایسا زخم ہے جو برسوں تک رستا رہتا ہے۔ اور حکمرانوں سے بھی ایک سوال ہے: اگر دولت سے دنیا کو حیران کیا جا سکتا ہے، تو کیا انصاف سے دل نہیں جیتے جا سکتے؟ اگر عالمی رہنماؤں کے استقبال پر بے شمار وسائل خرچ کیے جا سکتے ہیں، تو معاشرے کی ہر عورت کے تحفظ، انصاف اور وقار کے لیے پوری قوت کیوں نہیں صرف کی جاتی؟ یاد رکھیے، کسی ملک کی عظمت اس کے محلوں سے نہیں، اس کی عورتوں کے تحفظ سے پہچانی جاتی ہے۔ آج ایک عورت کی موت پر صرف اس کے گھر والے نہیں رو رہے؛ ہر وہ شخص غم زدہ ہے جس کے دل میں انسانیت ابھی زندہ ہے۔ اس عورت کی زندگی واپس نہیں آ سکتی، مگر اس کا المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور ضرور کر سکتا ہے کہ ہم کیسا معاشرہ بنا رہے ہیں، جہاں عورت کی عزت کے دعوے تو بہت ہیں، مگر اس کی جان کی حفاظت سب سے بڑا امتحان بن جاتی ہے۔ اللہ ہر مظلوم عورت کو انصاف عطا فرمائے، ہر ظالم کو اس کے کیے کی سزا ملے، اور ہمیں ایسا معاشرہ نصیب ہو جہاں کسی عورت کا جنازہ اس کی بے بسی کی کہانی نہ بنے۔ کیونکہ عورت کوئی تماشا نہیں، کوئی ملکیت نہیں، کوئی بے جان شے نہیں؛ وہ ایک مکمل انسان ہے، اور اس کی زندگی بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی بادشاہ، کسی حکمران یا کسی طاقتور انسان کی۔

About