@..eethan: #creatorsearchinsights #edits #christianity #archangelmichael #fypシ

plxya
plxya
Open In TikTok:
Region: US
Tuesday 11 August 2026 01:10:54 GMT
251483
55339
404
3574

Music

Download

Comments

ebotflicks0
T̷e̷r̷r̷a̷n̷ :
Archangel never duck a fade Michael
2026-08-12 01:39:58
2664
skyzz72b
𝑵𝒐𝒂𝒉.𝐒𝐰 ♱🇻🇦 :
Fyp knows I'm a 6'5 Chad
2026-08-12 08:38:49
970
zakdjdjeijrjr
Zaxk :
Fyp knows I’m not a dork
2026-08-12 02:41:12
349
azetoph
Azetoph :
“Bodycam footage archangel michael” yeah bro nice search 😭
2026-08-11 20:31:58
635
akazalefthairyballsack
plague plaxz :
Fyp know im where im supposed to be
2026-09-13 00:08:27
2
unknownuser661.0
¿?¿? :
Satan is just another prisoner in hell he ain’t no leader
2026-08-14 00:43:50
118
22elgreco
Leonidas :
The Church Father's would go crazy if they saw this
2026-08-14 11:48:23
34
11charges
✝️🇻🇦⚛️ :
song name?
2026-09-13 16:27:52
0
i_likedesigner
😵‍💫 :
fyp knows i am a 6,8 nonchalant rich christan
2026-08-13 05:23:02
40
miplada
Boboz :
"loyal to god" brutal.
2026-08-14 16:48:39
16
To see more videos from user @..eethan, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

caption میں اکیلی ہی ٹھیک ہوں یار، اب واقعی کسی کے ساتھ کی خواہش سے زیادہ مجھے اپنے سکون کی ضرورت ہے۔ لوگ جب زندگی میں آتے ہیں تو شروع میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاید اب سب کچھ خوبصورت ہو جائے گا، جیسے یہ شخص باقی سب سے مختلف ہے، یہ ہمیں سمجھے گا، ہماری قدر کرے گا اور کبھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہم بھی پورے دل سے یقین کر لیتے ہیں، اپنی خاموشیاں ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں، اپنے ڈر، اپنے دکھ، اپنی کمزوریاں اور اپنی محبت سب کچھ ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وہی شخص بدلنے لگتا ہے، لہجے میں اجنبیت آ جاتی ہے، باتوں میں بے رخی اتر آتی ہے اور جس کی ایک چھوٹی سی توجہ کبھی پورا دن خوش کر دیتی تھی، اسی کی بے توجہی راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ کوئی چھوڑ کر چلا گیا، تکلیف تو یہ ہوتی ہے کہ جسے ہم نے اپنے دل میں اتنی عزت اور جگہ دی، اسی نے ہمیں اتنا معمولی سمجھ لیا۔ ہم ان کے لیے ہر بار خود کو سمجھاتے رہے، ان کی ناراضی کو اپنی غلطی سمجھتے رہے، ان کے بدلتے رویوں کے لیے بہانے بناتے رہے، مگر ایک وقت آتا ہے جب انسان کے اندر برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر دل کہتا ہے کہ بس، اب کسی کو اپنا بنانے سے بہتر ہے خود کو اپنا بنا لیا جائے۔ اب میں کسی کے وعدوں کے سہارے نہیں جینا چاہتی، نہ کسی کے بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے کی کوشش، نہ کسی کے ایک لفظ سے خوش اور دوسرے لفظ سے ٹوٹنے کی عادت۔ میں نے بہت وقت دوسروں کو خوش رکھنے میں گزار دیا، اب تھوڑا سا وقت خود کو سنبھالنے کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی میرے ساتھ رہے تو محبت اور خلوص سے رہے، ورنہ مجھے کسی کی زبردستی کی موجودگی نہیں چاہیے۔ کیونکہ تنہائی میں انسان کبھی کبھی رو لیتا ہے، مگر کم از کم ہر روز یہ سوچ کر نہیں روتا کہ جسے اپنا سمجھا وہ مجھے اپنا کیوں نہیں سمجھتا۔ اب مجھے ایسے رشتے نہیں چاہئیں جن میں مجھے اپنی اہمیت ثابت کرنی پڑے، ایسے لوگ نہیں چاہئیں جن کے سامنے محبت مانگنی پڑے اور ایسا ساتھ نہیں چاہیے جس میں ہوتے ہوئے بھی میں خود کو اکیلا محسوس کروں۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا اور ہر محبت ہمیشہ رہنے والی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ صرف ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ اپنے دل کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اس لیے اب اگر میں خاموش ہوں تو اسے میری کمزوری نہ سمجھنا، میں بس تھک گئی ہوں ہر چیز کو بچاتے بچاتے خود کو کھونے سے۔ اب میں کسی کے پیچھے نہیں بھاگوں گی، کسی کو روکنے کے لیے اپنی عزت نہیں چھوڑوں گی اور کسی کی خاطر اپنے سکون کا سودا نہیں کروں گی۔ جو میرے ساتھ رہنا چاہے گا، وہ میرے دل کو سکون دے گا، الجھن نہیں؛ مجھے یقین دے گا، خوف نہیں؛ میری قدر کرے گا، مجھے بار بار اپنی اہمیت ثابت کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ اور جو جانا چاہتا ہے، اسے جانے دوں گی، چاہے دل کتنا ہی روئے۔ کیونکہ اب سمجھ آ گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو کھونا دراصل خود کو دوبارہ پانا ہوتا ہے۔ میں اکیلی ہی ٹھیک ہوں یار، کم از کم اس تنہائی میں میرے دل کو ہر لمحہ یہ خوف تو نہیں رہتا کہ کوئی اپنا بن کر کب اجنبی ہو جائے گا۔ اب مجھے بھیڑ نہیں چاہیے، مجھے سکون چاہیے؛ وعدے نہیں چاہیے، خلوص چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر مجھے خود سے وہ محبت چاہیے جو میں نے ہمیشہ دوسروں کو دیتے دیتے کہیں کھو دی تھی۔ ✍️
caption میں اکیلی ہی ٹھیک ہوں یار، اب واقعی کسی کے ساتھ کی خواہش سے زیادہ مجھے اپنے سکون کی ضرورت ہے۔ لوگ جب زندگی میں آتے ہیں تو شروع میں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے شاید اب سب کچھ خوبصورت ہو جائے گا، جیسے یہ شخص باقی سب سے مختلف ہے، یہ ہمیں سمجھے گا، ہماری قدر کرے گا اور کبھی ہمیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ہم بھی پورے دل سے یقین کر لیتے ہیں، اپنی خاموشیاں ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں، اپنے ڈر، اپنے دکھ، اپنی کمزوریاں اور اپنی محبت سب کچھ ان کے حوالے کر دیتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وہی شخص بدلنے لگتا ہے، لہجے میں اجنبیت آ جاتی ہے، باتوں میں بے رخی اتر آتی ہے اور جس کی ایک چھوٹی سی توجہ کبھی پورا دن خوش کر دیتی تھی، اسی کی بے توجہی راتوں کی نیند چھین لیتی ہے۔ سب سے زیادہ تکلیف اس بات کی نہیں ہوتی کہ کوئی چھوڑ کر چلا گیا، تکلیف تو یہ ہوتی ہے کہ جسے ہم نے اپنے دل میں اتنی عزت اور جگہ دی، اسی نے ہمیں اتنا معمولی سمجھ لیا۔ ہم ان کے لیے ہر بار خود کو سمجھاتے رہے، ان کی ناراضی کو اپنی غلطی سمجھتے رہے، ان کے بدلتے رویوں کے لیے بہانے بناتے رہے، مگر ایک وقت آتا ہے جب انسان کے اندر برداشت ختم ہو جاتی ہے۔ پھر دل کہتا ہے کہ بس، اب کسی کو اپنا بنانے سے بہتر ہے خود کو اپنا بنا لیا جائے۔ اب میں کسی کے وعدوں کے سہارے نہیں جینا چاہتی، نہ کسی کے بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے کی کوشش، نہ کسی کے ایک لفظ سے خوش اور دوسرے لفظ سے ٹوٹنے کی عادت۔ میں نے بہت وقت دوسروں کو خوش رکھنے میں گزار دیا، اب تھوڑا سا وقت خود کو سنبھالنے کا بھی حق ہے۔ اگر کوئی میرے ساتھ رہے تو محبت اور خلوص سے رہے، ورنہ مجھے کسی کی زبردستی کی موجودگی نہیں چاہیے۔ کیونکہ تنہائی میں انسان کبھی کبھی رو لیتا ہے، مگر کم از کم ہر روز یہ سوچ کر نہیں روتا کہ جسے اپنا سمجھا وہ مجھے اپنا کیوں نہیں سمجھتا۔ اب مجھے ایسے رشتے نہیں چاہئیں جن میں مجھے اپنی اہمیت ثابت کرنی پڑے، ایسے لوگ نہیں چاہئیں جن کے سامنے محبت مانگنی پڑے اور ایسا ساتھ نہیں چاہیے جس میں ہوتے ہوئے بھی میں خود کو اکیلا محسوس کروں۔ میں نے سیکھ لیا ہے کہ ہر قریب آنے والا اپنا نہیں ہوتا اور ہر محبت ہمیشہ رہنے والی نہیں ہوتی۔ کچھ لوگ صرف ہمیں یہ سکھانے آتے ہیں کہ اپنے دل کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔ اس لیے اب اگر میں خاموش ہوں تو اسے میری کمزوری نہ سمجھنا، میں بس تھک گئی ہوں ہر چیز کو بچاتے بچاتے خود کو کھونے سے۔ اب میں کسی کے پیچھے نہیں بھاگوں گی، کسی کو روکنے کے لیے اپنی عزت نہیں چھوڑوں گی اور کسی کی خاطر اپنے سکون کا سودا نہیں کروں گی۔ جو میرے ساتھ رہنا چاہے گا، وہ میرے دل کو سکون دے گا، الجھن نہیں؛ مجھے یقین دے گا، خوف نہیں؛ میری قدر کرے گا، مجھے بار بار اپنی اہمیت ثابت کرنے پر مجبور نہیں کرے گا۔ اور جو جانا چاہتا ہے، اسے جانے دوں گی، چاہے دل کتنا ہی روئے۔ کیونکہ اب سمجھ آ گیا ہے کہ کچھ لوگوں کو کھونا دراصل خود کو دوبارہ پانا ہوتا ہے۔ میں اکیلی ہی ٹھیک ہوں یار، کم از کم اس تنہائی میں میرے دل کو ہر لمحہ یہ خوف تو نہیں رہتا کہ کوئی اپنا بن کر کب اجنبی ہو جائے گا۔ اب مجھے بھیڑ نہیں چاہیے، مجھے سکون چاہیے؛ وعدے نہیں چاہیے، خلوص چاہیے؛ اور سب سے بڑھ کر مجھے خود سے وہ محبت چاہیے جو میں نے ہمیشہ دوسروں کو دیتے دیتے کہیں کھو دی تھی۔ ✍️

About