@mylovelyrubyya: ใต้ตาคล้ำไม่เริ่ด คนนอนดึกต้องมีค่าาา👀😴🫶🏻🎀 #eyehoo #บํารุงใต้ตา #เจลบํารุงรอบดวงตา #ครีมทาใต้ตา #อายครีม

𑣲bambamchuu ~ ·˚𐔌՞. .՞𐦯𓈒𓏸
𑣲bambamchuu ~ ·˚𐔌՞. .՞𐦯𓈒𓏸
Open In TikTok:
Region: TH
Tuesday 11 August 2026 15:13:29 GMT
1234
37
26
1

Music

Download

Comments

bifernming
ใบเฟิร์นชอบรีวิว🎀 :
บำรุงดีมาก
2026-08-17 13:25:00
0
rna21a
AN 𐙚 :
ตัวนี้ดี 🥰
2026-08-11 15:24:59
0
nongliu_16
nongliu_16 ✨️ :
ใช้ดีมากดี
2026-08-11 16:11:12
0
itspimploy
บุษบาซอย17🐶 :
อ่อนโยน
2026-08-11 16:19:18
0
forngznoom
ForngznooM :
แนะนำร้านนี้เลย คุ้มมากก
2026-08-12 03:06:31
0
ni_char
แม่น้องเหมือนฝัน :
ดีค่ะ
2026-08-13 15:42:51
0
tawhanluvchocolate
⋆𖦹.✧applestar🍎⭐️🩰˚⋆。゚ :
น่าใช้
2026-08-12 13:42:33
0
hana.kup
Hana Hub 𐙚⋆.˚ :
น่าลองมากก
2026-08-13 14:34:00
0
chomchali
ชมชมชมพู่ :
น่าลองมาก
2026-08-12 11:41:53
0
enhybuboo
my.bamboo 𓄼ꕤ༘ :
ไอเทมจำเป็นเลยล่ะ!
2026-08-12 16:36:40
0
kiki__10103
🍮 ྀི𓏤𓏤 𓈒 ⸝⸝ luma 𓈒 ݁ ♡ :
บำรุงดีมาก
2026-08-12 15:24:59
0
kantichamiey
kantichamiey :
น่าลองง
2026-08-11 16:23:29
0
bby_momi
หมูมี่หาตังกินหนม 𑁥𓍢。 :
ดีอ่า
2026-08-13 15:19:07
0
iluvmyjobs
˖ ͘ 𝘬𝘪𝘵𝘵𝘺 𓄲 🐰 𓄹 :
ต้องมีแล้วว
2026-08-12 02:48:23
0
mylovelyycute
⋆.˚ bambamii꩜ .ᐟ :
ดีมาก
2026-08-12 04:53:47
0
korpayyana
korpayyana :
ชุ่มชื้นเว่อ
2026-08-12 09:26:37
0
mesakop._
หอนออิงงอ🐰ྀི⟡(ช่องจริง) :
บำรุงใต้ตาดีมาก
2026-08-13 18:54:38
0
booboowii
BEWIStyle :
ต้องใช้บ้างแล้วว
2026-08-13 05:16:42
0
_mojireview09
𝑚𝑜𝑗𝑖𝑟𝑒𝑣𝑖𝑒𝑤 𑣲 :
น่าลองมาก
2026-08-11 15:21:00
1
pumy.smile
pumy.smile :
น่สใช้สุดๆๆ
2026-08-11 15:32:20
0
mybumbumlovely
แบมแบม*;♡ :
😳😳
2026-08-11 15:34:53
0
mylovelyrubyya
𑣲bambamchuu ~ ·˚𐔌՞. .՞𐦯𓈒𓏸 :
🫶🏻
2026-08-11 15:14:21
0
mylovelyrubyya
𑣲bambamchuu ~ ·˚𐔌՞. .՞𐦯𓈒𓏸 :
👀
2026-08-11 15:14:16
0
mylovelyrubyya
𑣲bambamchuu ~ ·˚𐔌՞. .՞𐦯𓈒𓏸 :
@TikTok
2026-08-11 15:14:12
0
hellocatmeoww
kittycat🐈‍⬛🎀🍓 :
🥰🥰
2026-08-13 01:57:57
0
To see more videos from user @mylovelyrubyya, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ 🚷 اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی 🚷 قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لئے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اس کے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی ۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر ان کو ڈھاکہ بھیجا تھا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اس وقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا اور جنرل افتخار کو فضائی حادثے میں مروا دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی ان کے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔ 🚷 اور بد نصیبی دیکھیئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال تک حکومت کرتا رہا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: The Crossed Sword 👈 مصنف: شجاع نواز 🚷 قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں ، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔ 🚷 اور بعد ازاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا ۔ 🚷 اور بد نصیبی دیکھیئے عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں ۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی🚷  بانی پاکستان جون 1948میں اسٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران ان کو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا اور انہیں احساس دلایا کہ ان کا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی 🚷 بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ایئر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہ میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیئے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘ 🔹 ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: جنرل اور سیاست 👈 مصنف: اصغر خان جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کر پوچھا کہ
قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی تو ساتھ نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ 🚷 اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’ میں اس آرمی افسر (ایوب خان) کو جانتاہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ وہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج نہیں لگائے گا۔ ‘‘ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی 🚷 قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لئے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گئے اور اپنا بیشتر وقت اس کے ساتھ گزارنے لگے اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی ۔ جس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر ان کو ڈھاکہ بھیجا تھا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوئے اور انہوں نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اس وقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: گوہر گزشت 👈 مصنف: الطاف گوہر 🚷 لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا اور جنرل افتخار کو فضائی حادثے میں مروا دیا گیا ۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی ان کے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔ 🚷 اور بد نصیبی دیکھیئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور پاکستان پر گیارہ سال تک حکومت کرتا رہا۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: The Crossed Sword 👈 مصنف: شجاع نواز 🚷 قائد آعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں ، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔ 🚷 اور بعد ازاں وہی جنرل اکبر لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا ۔ 🚷 اور بد نصیبی دیکھیئے عدالت سے غداری کی سزا کاٹنے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو صاحب، قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں ۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی🚷 بانی پاکستان جون 1948میں اسٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران ان کو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا اور انہیں احساس دلایا کہ ان کا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔ ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل 👈 مصنف: قیوم نظامی 🚷 بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ایئر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہ میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیئے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘ 🔹 ⏪ بحوالہ: 👈 کتاب: جنرل اور سیاست 👈 مصنف: اصغر خان جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کر پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں"جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔ اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔ بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین"سیکریٹری جنرل گریسی" حاصلِ کلام: 👈❤👉 جس دن ہم نے اپنی نئی نسل کو پاکستان کی اصل تاریخ پڑھانا شروع کردی اسی دن سے پاکستان ترقی کرنا شروع کر دے گا۔۔۔۔۔۔ !!! تحریر: مسعود زیدی

About