@bella113masha:

Rose 🌹🤍
Rose 🌹🤍
Open In TikTok:
Region: MA
Tuesday 11 August 2026 17:50:41 GMT
62568
1119
39
357

Music

Download

Comments

omaima.ima5
Omaima Ima :
khti khalih tayh bach maywslonach les demande 😂😂
2026-08-14 11:20:20
1
rihabririy
rihab :
Hahha warah bsh système dyalna dima tayeh hahaha dak vu360 kathm9ni
2026-08-13 17:05:30
3
ahlamahl235
ahlamahl235 :
عصبني غا صباح كي دخلت لقيتو طايح فيا 😅😅😅
2026-08-12 21:40:56
1
jsisos87
Vitamina D :
اربي ماقولو لينا كفاش بلان هاد السيستيم طايح
2026-08-14 17:00:35
1
mahassine.keche
mahassine 🥰🥰🥰🥰keche :
😁😁😁 narii w1lh ghi sbah
2026-08-12 15:26:59
1
miss.hidayass
Hidaya✨ :
F7ala 7na li kantay7oh😭
2026-08-12 19:42:01
1
asmaemtk65
🌹🌹🌹🌹🌹🌹 :
انا هلكوني تيقولو ليا امتا يرجع
2026-08-13 11:46:40
2
ghizlane1254
Ghizlane :
الواعرة كيقولو ليك امتی غيخدم 🙈
2026-08-13 16:49:20
0
zinebhd27
Zineb :
هههههههه انا بأخص paiment
2026-08-12 20:23:41
0
naima.touil1
حِكْمة التأمل 🤎🦋📚 :
أنا كنكول لهم ريزوا والوا مكاين ككول لية عندي فتلفون ريزوا كنكول لهم ديالهم ككولوا لية امتى ارجع😁
2026-08-13 13:18:12
1
soukina522
الفراشة🦋 :
ههههههه
2026-08-12 21:44:57
1
07diamond_girl
♡ MOTIVATION / CONSEIL♡ :
أختي هذا حالي كل نهار 😂😂
2026-08-13 10:42:36
1
selma.eddarrajy
Selma Eddarrajy :
أنا عمرو طاح ياربي يطيح نجرب داك احساس 🙂
2026-08-13 20:55:46
1
belhidaanimeryem
Belhidaani Meryem :
نطلق لك كونكسيو؟
2026-08-12 22:28:03
1
amiraeljy
Amira.ElJ :
hhh wlhkdbty hhhh😂😂😂
2026-08-12 19:19:26
1
gh_abdl
gh_abdl🎀 :
Tiiii kifx @assiabn37 malooo chkon tyho 😂
2026-08-12 20:40:33
2
kayacat26
kaya khalil :
@zinebsa12 ضو مقطوع شوفي لي راه ضو مقطوع 😂😂😂
2026-08-12 21:02:56
1
simosimo7278
simo :
😂😂😂
2026-08-11 22:13:45
1
basidi360
Ba sidi :
🥰🥰🥰
2026-08-11 17:58:14
1
soumiae13hachimi
soso 🤍 :
😂😂😂😂
2026-08-13 16:40:10
1
To see more videos from user @bella113masha, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

ذرا  ہٹ کے / یاسر پیرزادہ  ہم سب کے اندر کا جانور 47ء میں کیوں جاگا؟ سن 1974ء کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بنی کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔ ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی قینچی، بلیڈ، چھری، کیل تھے اور ایک پستول بھی تھا جس کے ساتھ ایک گولی بھی رکھی تھی۔ دیوار پر ایک اعلان چسپاں تھا کہ اگلے چھ گھنٹے میں آپ ان چیزوں میں سے جو چاہیں اٹھائیں اور میرے ساتھ جو چاہیں کریں، تمام ذمہ داری میری ہو گی۔ گویا اس عورت نے تماشائیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ آج تمہارا کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ پہلے گھنٹے میں لوگ شرمائے شرمائے رہے۔ کسی نے گلاب تھما دیا، کسی نے گال چوم لیا، کسی نے پانی پلا دیا۔ مگر پھر جوں جوں وقت گزرا اور لوگوں کو یقین آتا گیا کہ یہ عورت واقعی مزاحمت نہیں کرے گی اور ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا تو انسانوں کی وہ پرت اترنا شروع ہوئی جسے ہم تہذیب کہتے ہیں۔ کسی نے قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ ڈالے، کسی نے بلیڈ سے اس کی گردن پر زخم لگایا، کسی نے گلاب کے کانٹے اس کے پیٹ میں چبھو دیے اور بالآخر ایک صاحب نے پستول میں گولی ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی اور ُرخ اُس کی اپنی گردن کی طرف کر دیا۔ اس موقع پر ہال میں موجود چند لوگوں کی غیرت جاگی اور انہوں نے مداخلت کی ورنہ فن کی تاریخ اس شام ایک لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی۔ چھ گھنٹے مکمل ہوئے تو مرینا نے حرکت کی اور تماشائیوں کی طرف چل پڑی۔ مگر وہ لوگ جو چند منٹ پہلے تک اس کے جسم پر بلیڈ چلا رہے تھے، اُس کے آگے بڑھتے ہی ہال سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب تک وہ بے جان شے تھی، سب شیر تھے، جوں ہی وہ دوبارہ انسان بنی، کسی نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کی۔ مرینا نے برسوں بعد اس تجربے کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا کہ اگر آپ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں تو وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔ جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو سوچا کہ آخر ان چھ گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا جس نے انسانوں کو حیوانوں میں بدل دیا۔ نیپلز کے اُس سٹوڈیو میں کوئی جرائم پیشہ لوگ جمع نہیں تھے، یہ فن سے دلچسپی رکھنے والے پڑھے لکھے شائستہ لوگ تھے، وہی لوگ جو گھر جا کر بچوں کو پیار کرتے ہیں، بوڑھی ماں کا حال پوچھتے ہیں اور اتوار کو گرجا گھر میں سر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے مرینا کو لہولہان کیوں کر دیا؟ جواب بہت خوفناک ہے۔ اُن چھ گھنٹوں میں صرف ایک چیز تبدیل ہوئی تھی، احتساب کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ جس لمحے انسان کو یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اس لمحے اس کے اندر بیٹھا جانور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تہذیب دراصل کوئی اندرونی خوبی نہیں، یہ ایک باریک سا خول ہے جو قانون کے ڈنڈے، سماج کی نظر اور خدا کے خوف سے قائم ہے۔ یہ تینوں پہرے دار سو جائیں تو اندر کا قیدی خول سے باہر نکل آتا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ تجربہ اپنے انداز میں بھی کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات سٹینلے ملگرام نے عام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک تجربے کے دوران دوسرے کمرے میں بیٹھے شخص کو غلط جواب پر بجلی کے جھٹکے دیں۔ حکم دینے والا سفید کوٹ پہنے ایک شخص تھا اور بس یہی کافی تھا۔ لوگوں کی اکثریت جھٹکوں کی شدت بڑھاتی چلی گئی حالانکہ دوسری طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند سال بعد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں طلبہ کو قیدی اور جیلر بنا کر ایک نقلی جیل بسائی گئی تو جیلر بنے ہوئے شریف لڑکے چند ہی دنوں میں ایسے ظالم بن گئے کہ تجربہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ ان تجربات پر بعد میں طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات بھی ہوئے، مگر بنیادی سبق وہی رہا جو مرینا کے سٹوڈیو میں ملا تھا۔ ظلم کرنے کے لیے باقاعدہ ظالم ہونے کی سند ضروری نہیں، صرف موقع درکار ہے۔ اور اگر موقع اگر کسی قوم کو اجتماعی طور پر مل جائے تو کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اٹلی جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سن 47ء ہے۔ COPIED ha ( should I post such captionz ?) #fyp #repost
ذرا ہٹ کے / یاسر پیرزادہ ہم سب کے اندر کا جانور 47ء میں کیوں جاگا؟ سن 1974ء کی ایک شام اٹلی کے شہر نیپلز کے آرٹ سٹوڈیو میں ایک عجیب تماشا ہوا۔ ایک اٹھائیس سالہ فنکارہ، مرینا ابراموویچ، کمرے کے وسط میں بت بنی کھڑی ہو گئی اور اس نے اپنے سامنے میز پر 72 مختلف اشیا رکھ دیں۔ ان چیزوں میں گلاب کا پھول، پرندے کا پر، شہد، انگور وغیرہ تھے، مگر ساتھ ہی قینچی، بلیڈ، چھری، کیل تھے اور ایک پستول بھی تھا جس کے ساتھ ایک گولی بھی رکھی تھی۔ دیوار پر ایک اعلان چسپاں تھا کہ اگلے چھ گھنٹے میں آپ ان چیزوں میں سے جو چاہیں اٹھائیں اور میرے ساتھ جو چاہیں کریں، تمام ذمہ داری میری ہو گی۔ گویا اس عورت نے تماشائیوں کو کھلی چھٹی دے دی کہ آج تمہارا کوئی احتساب نہیں ہو گا۔ پہلے گھنٹے میں لوگ شرمائے شرمائے رہے۔ کسی نے گلاب تھما دیا، کسی نے گال چوم لیا، کسی نے پانی پلا دیا۔ مگر پھر جوں جوں وقت گزرا اور لوگوں کو یقین آتا گیا کہ یہ عورت واقعی مزاحمت نہیں کرے گی اور ہمیں کوئی نہیں پوچھے گا تو انسانوں کی وہ پرت اترنا شروع ہوئی جسے ہم تہذیب کہتے ہیں۔ کسی نے قینچی سے اس کے کپڑے کاٹ ڈالے، کسی نے بلیڈ سے اس کی گردن پر زخم لگایا، کسی نے گلاب کے کانٹے اس کے پیٹ میں چبھو دیے اور بالآخر ایک صاحب نے پستول میں گولی ڈال کر اس کے ہاتھ میں تھمائی اور ُرخ اُس کی اپنی گردن کی طرف کر دیا۔ اس موقع پر ہال میں موجود چند لوگوں کی غیرت جاگی اور انہوں نے مداخلت کی ورنہ فن کی تاریخ اس شام ایک لاش اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی۔ چھ گھنٹے مکمل ہوئے تو مرینا نے حرکت کی اور تماشائیوں کی طرف چل پڑی۔ مگر وہ لوگ جو چند منٹ پہلے تک اس کے جسم پر بلیڈ چلا رہے تھے، اُس کے آگے بڑھتے ہی ہال سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ جب تک وہ بے جان شے تھی، سب شیر تھے، جوں ہی وہ دوبارہ انسان بنی، کسی نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کی ہمت نہ کی۔ مرینا نے برسوں بعد اس تجربے کا نچوڑ ایک فقرے میں بیان کیا کہ اگر آپ فیصلہ لوگوں پر چھوڑ دیں تو وہ آپ کو قتل بھی کر سکتے ہیں۔ جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو سوچا کہ آخر ان چھ گھنٹوں میں ایسا کیا ہوا جس نے انسانوں کو حیوانوں میں بدل دیا۔ نیپلز کے اُس سٹوڈیو میں کوئی جرائم پیشہ لوگ جمع نہیں تھے، یہ فن سے دلچسپی رکھنے والے پڑھے لکھے شائستہ لوگ تھے، وہی لوگ جو گھر جا کر بچوں کو پیار کرتے ہیں، بوڑھی ماں کا حال پوچھتے ہیں اور اتوار کو گرجا گھر میں سر جھکاتے ہیں۔ پھر انہوں نے مرینا کو لہولہان کیوں کر دیا؟ جواب بہت خوفناک ہے۔ اُن چھ گھنٹوں میں صرف ایک چیز تبدیل ہوئی تھی، احتساب کا خوف ختم ہو گیا تھا۔ جس لمحے انسان کو یقین ہو جائے کہ اس سے کوئی نہیں پوچھے گا، اس لمحے اس کے اندر بیٹھا جانور انگڑائی لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ تہذیب دراصل کوئی اندرونی خوبی نہیں، یہ ایک باریک سا خول ہے جو قانون کے ڈنڈے، سماج کی نظر اور خدا کے خوف سے قائم ہے۔ یہ تینوں پہرے دار سو جائیں تو اندر کا قیدی خول سے باہر نکل آتا ہے۔ سائنس دانوں نے یہ تجربہ اپنے انداز میں بھی کیا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں امریکی ماہر نفسیات سٹینلے ملگرام نے عام شہریوں سے کہا کہ وہ ایک تجربے کے دوران دوسرے کمرے میں بیٹھے شخص کو غلط جواب پر بجلی کے جھٹکے دیں۔ حکم دینے والا سفید کوٹ پہنے ایک شخص تھا اور بس یہی کافی تھا۔ لوگوں کی اکثریت جھٹکوں کی شدت بڑھاتی چلی گئی حالانکہ دوسری طرف سے چیخوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ چند سال بعد سٹینفرڈ یونیورسٹی میں طلبہ کو قیدی اور جیلر بنا کر ایک نقلی جیل بسائی گئی تو جیلر بنے ہوئے شریف لڑکے چند ہی دنوں میں ایسے ظالم بن گئے کہ تجربہ وقت سے پہلے بند کرنا پڑا۔ ان تجربات پر بعد میں طریقہ کار کے حوالے سے اعتراضات بھی ہوئے، مگر بنیادی سبق وہی رہا جو مرینا کے سٹوڈیو میں ملا تھا۔ ظلم کرنے کے لیے باقاعدہ ظالم ہونے کی سند ضروری نہیں، صرف موقع درکار ہے۔ اور اگر موقع اگر کسی قوم کو اجتماعی طور پر مل جائے تو کیا ہوتا ہے، یہ جاننے کے لیے ہمیں اٹلی جانے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس سن 47ء ہے۔ COPIED ha ( should I post such captionz ?) #fyp #repost

About