@huzaifatanveer240: غزل سنُا تھا ملتا ہے دل کو قرار رونے سے ملال اور بڑھا ، بار بار رونے سے تُمھارے بعد بُہت روئے اور یہ جانا کہ دُھل ہی جاتا ہے دل کا غُبار رونے سے سوائے صبر کوئی چارہ اپنے بس مِیں کہاں کہ لَوٹتے نہیں اہلِ مزار رونے سے یہ سنگ موم ہُوا تیز دھار بارش مِیں انائے ذات کا ٹُوٹا حصار ، رونے سے تِرے خیال پہ ہم مُسکرا بھی دیتے ہیں کہ منسلک نہیں بس یادِ یار ، رونے سے اے ابرِ چشم ذرا دیر کو برسنا روک کہ تھک گئے ہیں مِرے غم گسار رونے سے مِرے وُجود کی تلخی گری پیالے مِیں مِری شراب مِیں آیا خُمار رونے سے سحابِ یاد کی بُوندوں سے کِھل گیا ہے چمن ہے میری آنکھ میں رنگِ بہار ، رونے سے حذیفہ تنویر زیفی . . #urdupoetry #ownpoetry #fyp #foryou