ہم اکثر رزق کا مطلب صرف روپیہ، پیسہ، مال و دولت، یا کھانے پینے کی اشیاء سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ رزق صرف وہی نہیں جو انسان کے پیٹ کو بھرے، بلکہ رزق وہ بھی ہے جو انسان کی روح کو تسکین دے اور روح کا سب سے اعلیٰ رزق "تربیت اور اچھا اخلاق" ہے۔
دنیا کی بھیڑ میں جب انسان مختلف رویوں سے گزرتا ہے، تو اسے اس بات کی شدید تلخی اور حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ نرم خوئی، خوش اخلاقی اور دوسروں کا احترام ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
کسی سے مسکرا کر بات کرنا، کسی کی بات کو درگزر کرنا، اور ہر حال میں اپنے لہجے کی شائستگی اور نرمی کو برقرار رکھنا ایک ایسی نعمت ہے جو ہر شخص کو نہیں ملتی۔
اگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو بولنے میں نرمی، رویے میں عاجزی، اور اخلاق میں خوبصورتی عطا کی ہے، تو سمجھیے کہ آپ دنیا کے امیر ترین اور خوش قسمت ترین انسانوں میں سے ایک ہیں۔۔۔۔۔۔کیونکہ اچھا اخلاق ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتا!