@tasawaf1: مرشد کی چوکھٹ دراصل اُس مقام کا نام ہے جہاں طالب کو اپنی انا، خود پسندی، ضد اور “میں” کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ جب تک انسان اپنے آپ کو کچھ سمجھتا رہتا ہے، معرفت کا دروازہ اس پر پوری طرح نہیں کھلتا۔ مرشد کے سامنے سر جھکانا کسی شخصیت کی پرستش نہیں، بلکہ اپنے نفس کی سرکشی کو توڑنے اور ادبِ سلوک اختیار کرنے کی علامت ہے۔ طالب جب اپنی خواہش کو پیچھے اور حق کی طلب کو آگے رکھ دیتا ہے، تو اس کے اندر وہ خاموش انقلاب پیدا ہوتا ہے جسے اہلِ تصوف تزکیۂ نفس کہتے ہیں۔ جس دن “میں” مٹنے لگتی ہے، اسی دن “وہ” کی پہچان کا سفر شروع ہوتا ہے۔ یہی عاجزی آخرکار دل کو وہ بادشاہت عطا کرتی ہے جس کے لیے دنیا کے تاج بھی بے معنی ہیں۔ #مرشد #تزکیہ_نفس #عشق_الہی #سلوک