@maryam005m: وقت کے ساتھ سب کچھ بدل جاتا ہے… پہلے پہل ایسا تھا کہ اُسے دیکھے بغیر دل کو چین نہیں ملتا تھا، اُس کی ایک جھلک دیکھے بغیر نیند نہیں آتی تھی۔ دن کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، دل بس اُسی کے انتظار میں رہتا تھا۔ اُس کی آواز سننا، اُس کا حال پوچھنا، اُس کے پاس بیٹھنا، یہ سب کسی ضرورت کی طرح محسوس ہوتا تھا۔ اُس کی ذرا سی دوری بھی بہت بڑی لگتی تھی اور اُس کی خاموشی بھی دل پر بوجھ بن جاتی تھی۔ پھر وقت گزرا، حالات بدلے، لوگ بدلے اور شاید ہم بھی بدل گئے۔ جو باتیں کبھی ہماری ضد ہوا کرتی تھیں، آج انہی باتوں پر خاموشی سے صبر کر لیتے ہیں۔ پہلے جواب نہ ملے تو بے چینی ہوتی تھی، آج کئی کئی سوال دل میں لیے خاموش رہ لیتے ہیں۔ پہلے کسی کو کھونے کا خوف تھا، آج خود کو سمجھانے کی عادت ہو گئی ہے۔ شاید وقت کی سب سے بڑی حقیقت یہی ہے کہ انسان ہر چیز کا عادی ہو جاتا ہے۔ جن کے بغیر ایک لمحہ گزارنا مشکل لگتا تھا، اُن کے بغیر پوری زندگی گزر جاتی ہے۔ جن کی ایک جھلک کے لیے آنکھیں ترستی تھیں، آج اُن کی یاد آئے بھی تو بس ایک گہری سانس لے کر خاموش ہو جاتے ہیں۔ پہلے ضد کرتے تھے کہ ہمیں وہی چاہیے، اب صبر کرتے ہیں کہ جو نصیب میں نہیں، اُسے قبول کرنا ہے۔ وقت نے سکھا دیا کہ ہر خواہش پوری نہیں ہوتی، ہر رشتہ ہمیشہ ساتھ نہیں رہتا اور ہر اپنا ہمیشہ اپنا نہیں رہتا۔ کچھ لوگ زندگی میں صرف یاد بن کر رہ جاتے ہیں، اور کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جن کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے۔ کبھی جن کے بغیر نیند نہیں آتی تھی، آج اُن کے بغیر رات گزر جاتی ہے… بس فرق اتنا ہے کہ پہلے ضد تھی، اب صبر ہے۔