@tusnadiroland: Mennyi idő kell ahhoz, hogy megvedd az álomautód? Kivételek mindig vannak, de a legtöbb embernek 5-10-15 évet is igénybe vehet mire eléri, hogy meg tudja venni az álomautóját🔥

Tusnádi Roland
Tusnádi Roland
Open In TikTok:
Region: HU
Thursday 13 August 2026 09:09:43 GMT
32945
1636
7
90

Music

Download

Comments

queenofcups_1122
Queen of Cups :
Úgy gondolom, egy Porsche 911 sokkal inkább érzelmi kérdés, mintsem racionális.
2026-08-14 19:11:17
69
hondaker2
🏧🏧🏧🏧 :
15 millióér. öneröből vennék autót de 15 millió. céges pénz nekem 100m ér az fontosabb
2026-08-13 21:35:55
2
sonkabence
Sonkabence :
ez így 10 millió, plusz havonta 5-600k bérleti díj éveken át plusz a fenntartás extra magas. Ezt is belelehetne tolni a cégbe inkább. Plusz 1-2 alkalmazott vagy termelő eszköz.
2026-08-15 15:02:03
3
sztaracsek_adam
Ádám Sztaracsek :
Mindenkinek más a fontos. Mindenkit más motivál. 💪🏼😁 ha valakit egy Porsche? Akarja? Akkor bíztatni kell. Maximum meg kell vele értetni, hogy milyen vonzata van, milyen lehetőségei vannak. Hisz egy átlag embernek se tanítják meg a hitelt.. h hogy kell használni..
2026-08-31 05:57:57
0
sosvill
Sosvill Villanyszerelés :
de minek
2026-08-19 21:19:17
2
zsoltkiss888
huhajoe :
nagyon sok jó barát nem létezik... innetől a mese fikció , tan mese akar lenni ,de ez egy egzisztenciális szorongást oldó sok álmodózó embernek...
2026-09-17 08:23:49
0
bence.lorinczz
Bence Lorincz :
🙏🙏
2026-08-15 19:29:36
1
To see more videos from user @tusnadiroland, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

یہ شعر صوفیانہ فکر اور عشقِ حقیقی کے عمیق مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس میں شاعر دنیا دار اور اپنے محبوب کو مخاطب کر کے عشق اور درد کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ دنیا پرستی میں مبتلا انسان اکثر مادی کامیابی، مال و دولت، نام و نمود اور دنیاوی آسائشوں کو ہی حاصلِ زندگی سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ اہلِل دل اور صوفیاء کے نزدیک دل کا درد اور تڑپ ہی انسان کی روح کو بیدار کر کے اسے حقیقی مقصدِ حیات تک پہنچاتی ہے۔ شعر میں لفظ
یہ شعر صوفیانہ فکر اور عشقِ حقیقی کے عمیق مفہوم کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے، جس میں شاعر دنیا دار اور اپنے محبوب کو مخاطب کر کے عشق اور درد کی اصل حقیقت سے آگاہ کرتا ہے۔ دنیا پرستی میں مبتلا انسان اکثر مادی کامیابی، مال و دولت، نام و نمود اور دنیاوی آسائشوں کو ہی حاصلِ زندگی سمجھ بیٹھتا ہے، جبکہ اہلِل دل اور صوفیاء کے نزدیک دل کا درد اور تڑپ ہی انسان کی روح کو بیدار کر کے اسے حقیقی مقصدِ حیات تک پہنچاتی ہے۔ شعر میں لفظ "درد" سے مراد وہ غمِ عشق اور جدائی کی تڑپ ہے جو بندے کو دنیا کے فانی سہاروں سے کاٹ کر اپنے خالقِ حقیقی کی طرف مائل کرتی ہے۔ جب انسان دنیاوی رشتوں یا مادی خواہشات میں ناکام ہو کر اندرونی طور پر ٹوٹتا ہے، تو یہی ٹوٹنا اور تڑپنا اس کے نفس، تکبر اور غرور کو ختم کر دیتا ہے اور اسے دنیا کی بے ثباتی کا احساس دلاتا ہے۔ شاعر اپنے مخاطب کے سامنے اس بات کا شکوہ اور فخر ایک ساتھ کرتا ہے کہ تجھے شاید اپنی ظاہری اور مادی کامیابی پر بڑا ناز ہے کہ تجھے یہ پوری فانی دنیا مل گئی، لیکن تو اس دردِ دل کے معجزے اور کمال سے بالکل ناواقف ہے۔ دنیا کی تمام تر نعمتیں، آسائشیں اور محبوب فانی ہیں جو ایک دن ختم ہو جائیں گے، جبکہ خدا کا قرب، اس کی معرفت اور اس سے لو لگانا ایک دائمی اور ابدی نعمت ہے۔ جس انسان کو اپنے رب کی قربت اور معرفت حاصل ہو جائے، اس کا دل دنیا کی ہر حسرت اور طمع سے آزاد ہو جاتا ہے اور اسے کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں رہتی۔ صوفیانہ حکمت ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ غم، تڑپ اور مصیبتیں دراصل انسان کو خدا کے قریب لانے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں، کیونکہ اگر دل میں درد اور خدا کی طلب نہ ہو تو پورا جہاں بھی مل جائے انسان اندر سے خالی ہی رہتا ہے۔ سچی محبت اور پرخلوص درد انسان کے باطن کو پاک کر کے اسے تمام دنیاوی پابندیوں اور خواہشات سے بلند کر دیتا ہے۔ یہ شعر دراصل بندے اور اس کے رب کے درمیان قائم ہونے والے ایک انتہائی پاکیزہ اور مضبوط روحانی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ حاصلِ کلام یہ ہے کہ مادی دنیا کا حاصل ہونا محض ایک وقتی اور عارضی خوشی ہے، جبکہ خدا کی ذات کا مل جانا ابدی، لا فانی اور حقیقی کامیابی ہے، اور اسی بنیاد پر شاعر دنیا کے مقابلے میں اپنے دردِ دل اور خدا کی قربت کو اعلیٰ و برتر قرار دیتا ہے۔ #viral #sufi_writes #sufi #sufism #فقیر_دل

About