@killer_a92: 14 August @aghabrand058

𝕂𝕚ĻŁⒺ尺:➂
𝕂𝕚ĻŁⒺ尺:➂
Open In TikTok:
Region: PK
Friday 14 August 2026 06:43:32 GMT
520
57
10
38

Music

Download

Comments

lawangtareen
❤️‍🩹Lawang.TaReeN🥀 :
❤️❤️❤️
2026-08-17 08:04:34
0
muzamil.shah833
agha :
🥰🥰🥰
2026-08-16 02:51:35
0
sikandaryousafzai
sikandar yousafzai :
♥️♥️♥️
2026-08-15 07:14:10
0
khan.rahmani79
Khan Rahmani :
❤️❤️❤️
2026-08-15 05:44:32
0
israrullahkakar943
💯🧿🌹kakar Xwan😎💞🌹 :
♥️♥️♥️
2026-08-14 15:49:02
0
ibrarkhan..pti
✨❤️‍🩹 ibrar khan..pti❤️‍🩹✨ :
🥰🥰🥰
2026-08-14 12:07:17
0
syedumairshah958
SYED UMAIR SHAH :
❤️❤️❤️
2026-08-14 09:27:35
0
user815632817905
اسد اللہ :
🥰🥰🥰
2026-08-14 06:49:13
0
kamranbaloch9247
kamranbaloch9247 :
🥰🥰🥰♥️♥️♥️
2026-08-14 06:47:19
0
soniarajpot7777
✨💞𝑠𝔬𝔫𝔦𝔞 ʀ𝔞𝔧𝔭𝔲𝔱💞✨ :
🥰🥰🥰
2026-08-21 20:29:17
2
To see more videos from user @killer_a92, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

💔 نوجوانوں کی بے وقت اموات — جسمانی بیماری یا معاشرتی قتل؟ > زندگی تیرے تعاقب میں ہم > اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں! >  آج ہمارا معاشرہ مسلسل نوجوانوں کے جنازے اٹھا رہا ہے۔ کوئی ہارٹ اٹیک سے جا رہا ہے، کوئی ڈیپریشن اور کینسر کا شکار ہو رہا ہے، اور کوئی اچانک ہار مان کر دنیا چھوڑ جاتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ نوجوانوں پر یہ بے پناہ بوجھ کس نے ڈالا ہے؟ یہ بارِ گران اللہ تعالیٰ نے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے سماج، خاندان اور مصنوعی روایات نے ان کے کندھوں پر رکھا ہے۔ 🏃‍♂️ 1️⃣ صارفیت (Consumerism) اور مقابلے کی لامتناہی دوڑ آج انسان کی بنیادی ضروریات اتنی پیچیدہ اور مصنوعی ہو چکی ہیں کہ ہر شخص کے لیے سب کچھ حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔  * قدیم دور کا اطمینان: ماضی میں روٹی، کپڑا، مکان اور شادی انسان کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن پہلے لوگ مٹی کی دیواروں اور پھونس کے چھپر میں بھی چین کی نیند سوتے تھے کیونکہ وہ گھر انہیں دھوپ، بارش سے پناہ اور دل کو سکون دیتا تھا۔  * آج کا زہریلا موازنہ (Comparison): آج چھپر میں سکون ختم ہو گیا ہے کیونکہ اب سکون گھر کی چھت سے نہیں، بلکہ ⚠️ ایک کڑوا سچ: > اگر کسی کے پاس دن میں کئی بار چائے پینے کے پیسے ہیں، تو اسے دکھ اس بات کا ہے کہ وہ لاکھوں روپے کی برانڈڈ چائے کیوں نہیں پی سکتا! اگر کوئی ہزار روپے کے جوتے میں خوش رہ سکتا تھا، تو اسے سوشل میڈیا اور ماحول نے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ مہنگا برانڈ کیوں نہیں پہن رہا۔ > 🏥 2️⃣ بیماریوں کی اصل جڑ: جسم نہیں، دل اور ذہن کی کڑھن نوجوانوں میں بیماری کی شروعات جسم کی خرابی سے نہیں، بلکہ دل اور ذہن کے مسلسل تناؤ (Stress) سے ہوتی ہے۔ * غیر فطری خواہشات کا بوجھ: نوجوان خود تو شاید قناعت اختیار کر لے، لیکن اپنے اہل خانہ، بیوی بچوں اور سماج کی روز بروز بڑھتی خواہشات کے سامنے "نہ" نہیں کہہ پاتا۔ * حصولِ زر کی تڑپ: وہ اپنوں کو خوش کرنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے لیے دن رات بھاگتا ہے، اپنی نیند، صحت اور سکون قربان کرتا ہے۔ * نتائج: یہی اندرونی کڑھن، گھٹن اور مسلسل خوف آگے چل کر بلڈ پریشر، شوگر، ڈیپریشن، اینزائٹی اور ہارٹ اٹیک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ 📖 3️⃣ اسلام کا روشن نسخہ: قناعت اور سادگی ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے اس نفسیاتی مرض کا حل صدیوں پہلے بیان فرما دیا تھا: > «انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلاَ تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ» > "دنیاوی امور میں ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے نیچے (کم تر) ہیں، اور ان کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر (رتبے یا مال میں) ہیں۔ یہ طریقہ تمہیں اللہ کی نعمتوں کو حقیر جاننے سے بچائے گا۔" > 📚 (صحیح مسلم) > اگر ہم اپنی زندگیوں میں قناعت (Contentment) اور سادگی واپس لے آئیں، تو نصف بیماریاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ 🥀 4️⃣ غالب کا فیصل کن شعر > ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے > بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے! > 🤝 ہمارا مشترکہ قومی و معاشرتی فرض: * نوجوانوں پر رحم کریں: اپنے بچوں، بھائیوں اور شوہروں سے ان کی استطاعت سے زیادہ مطالبے نہ کریں۔ * شادیوں اور رہن سہن کو سادہ بنائیں: دکھاوے کی رسموں اور مہنگے برانڈز کی نمائش کا بائیکاٹ کریں۔ * "نہ" کہنے کی ہمت دیں: نوجوانوں کو سکھائیں کہ وہ غیر ضروری اور مصنوعی دباؤ پر کھل کر "نہ" کہہ سکیں۔ * حقیقی رشتوں کی قدر کریں: انسان چیزوں سے نہیں، بلکہ اپنوں کے خلوص، توجہ اور سکون سے زندہ رہتے ہیں۔ > ✨ آئیے! اپنے نوجوانوں کو کامیابی کے مصنوعی معیاروں سے نکال کر سکونِ قلب اور فطری زندگی کی طرف واپس لائیں۔ > ✍️ تحریر: ابو المرجان فیضی 🌍 پیشکش: یاسر کی دنیا" width="135" height="240">
💔 نوجوانوں کی بے وقت اموات — جسمانی بیماری یا معاشرتی قتل؟ > زندگی تیرے تعاقب میں ہم > اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں! > آج ہمارا معاشرہ مسلسل نوجوانوں کے جنازے اٹھا رہا ہے۔ کوئی ہارٹ اٹیک سے جا رہا ہے، کوئی ڈیپریشن اور کینسر کا شکار ہو رہا ہے، اور کوئی اچانک ہار مان کر دنیا چھوڑ جاتا ہے۔ کیا کبھی ہم نے سوچا کہ نوجوانوں پر یہ بے پناہ بوجھ کس نے ڈالا ہے؟ یہ بارِ گران اللہ تعالیٰ نے نہیں، بلکہ ہمارے اپنے سماج، خاندان اور مصنوعی روایات نے ان کے کندھوں پر رکھا ہے۔ 🏃‍♂️ 1️⃣ صارفیت (Consumerism) اور مقابلے کی لامتناہی دوڑ آج انسان کی بنیادی ضروریات اتنی پیچیدہ اور مصنوعی ہو چکی ہیں کہ ہر شخص کے لیے سب کچھ حاصل کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ * قدیم دور کا اطمینان: ماضی میں روٹی، کپڑا، مکان اور شادی انسان کی ضرورت تھی اور آج بھی ہے۔ لیکن پہلے لوگ مٹی کی دیواروں اور پھونس کے چھپر میں بھی چین کی نیند سوتے تھے کیونکہ وہ گھر انہیں دھوپ، بارش سے پناہ اور دل کو سکون دیتا تھا۔ * آج کا زہریلا موازنہ (Comparison): آج چھپر میں سکون ختم ہو گیا ہے کیونکہ اب سکون گھر کی چھت سے نہیں، بلکہ "دوسروں سے بہتر دکھنے" سے مشروط ہو چکا ہے۔ > ⚠️ ایک کڑوا سچ: > اگر کسی کے پاس دن میں کئی بار چائے پینے کے پیسے ہیں، تو اسے دکھ اس بات کا ہے کہ وہ لاکھوں روپے کی برانڈڈ چائے کیوں نہیں پی سکتا! اگر کوئی ہزار روپے کے جوتے میں خوش رہ سکتا تھا، تو اسے سوشل میڈیا اور ماحول نے احساسِ کمتری میں مبتلا کر دیا ہے کہ وہ مہنگا برانڈ کیوں نہیں پہن رہا۔ > 🏥 2️⃣ بیماریوں کی اصل جڑ: جسم نہیں، دل اور ذہن کی کڑھن نوجوانوں میں بیماری کی شروعات جسم کی خرابی سے نہیں، بلکہ دل اور ذہن کے مسلسل تناؤ (Stress) سے ہوتی ہے۔ * غیر فطری خواہشات کا بوجھ: نوجوان خود تو شاید قناعت اختیار کر لے، لیکن اپنے اہل خانہ، بیوی بچوں اور سماج کی روز بروز بڑھتی خواہشات کے سامنے "نہ" نہیں کہہ پاتا۔ * حصولِ زر کی تڑپ: وہ اپنوں کو خوش کرنے اور معاشرے میں سر اٹھا کر جینے کے لیے دن رات بھاگتا ہے، اپنی نیند، صحت اور سکون قربان کرتا ہے۔ * نتائج: یہی اندرونی کڑھن، گھٹن اور مسلسل خوف آگے چل کر بلڈ پریشر، شوگر، ڈیپریشن، اینزائٹی اور ہارٹ اٹیک کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ 📖 3️⃣ اسلام کا روشن نسخہ: قناعت اور سادگی ہمارے پیارے نبی کریم ﷺ نے اس نفسیاتی مرض کا حل صدیوں پہلے بیان فرما دیا تھا: > «انْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلاَ تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقَكُمْ» > "دنیاوی امور میں ان لوگوں کو دیکھو جو تم سے نیچے (کم تر) ہیں، اور ان کو نہ دیکھو جو تم سے اوپر (رتبے یا مال میں) ہیں۔ یہ طریقہ تمہیں اللہ کی نعمتوں کو حقیر جاننے سے بچائے گا۔" > 📚 (صحیح مسلم) > اگر ہم اپنی زندگیوں میں قناعت (Contentment) اور سادگی واپس لے آئیں، تو نصف بیماریاں خود بخود ختم ہو سکتی ہیں۔ 🥀 4️⃣ غالب کا فیصل کن شعر > ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے > بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے! > 🤝 ہمارا مشترکہ قومی و معاشرتی فرض: * نوجوانوں پر رحم کریں: اپنے بچوں، بھائیوں اور شوہروں سے ان کی استطاعت سے زیادہ مطالبے نہ کریں۔ * شادیوں اور رہن سہن کو سادہ بنائیں: دکھاوے کی رسموں اور مہنگے برانڈز کی نمائش کا بائیکاٹ کریں۔ * "نہ" کہنے کی ہمت دیں: نوجوانوں کو سکھائیں کہ وہ غیر ضروری اور مصنوعی دباؤ پر کھل کر "نہ" کہہ سکیں۔ * حقیقی رشتوں کی قدر کریں: انسان چیزوں سے نہیں، بلکہ اپنوں کے خلوص، توجہ اور سکون سے زندہ رہتے ہیں۔ > ✨ آئیے! اپنے نوجوانوں کو کامیابی کے مصنوعی معیاروں سے نکال کر سکونِ قلب اور فطری زندگی کی طرف واپس لائیں۔ > ✍️ تحریر: ابو المرجان فیضی 🌍 پیشکش: یاسر کی دنیا

About