@homirashid: میرا نام مہرین ہے۔ میری بیٹی عنایہ چھ سال کی ہے۔ وہ اسلام آباد کے ایک مشہور نجی سکول میں پڑھتی تھی۔ بڑا گیٹ، صاف کلاس رومز، مہنگی فیس، اور والدین کو مطمئن کر دینے والا ماحول۔ مگر چند ہفتوں سے عنایہ بدلنے لگی تھی۔ صبح سکول کا نام آتے ہی اُس کا چہرہ اتر جاتا۔ “امی، آج سکول نہ جائیں؟” “امی، پیٹ میں درد ہے۔” “امی، مس شازیہ غصہ کرتی ہیں۔” میں نے ہر بار یہی سمجھا کہ نئی کلاس ہے، عادت ہو جائے گی۔ پھر اُس شام میں اسے نہلا رہی تھی۔ میں نے اُس کا بازو اٹھایا تو میری سانس رک گئی۔ اوپر بازو پر چار نیلے نشان تھے۔ بالکل انگلیوں جیسے۔ میں نے بہت نرمی سے پوچھا: “عنایہ، یہ کس نے کیا؟” وہ فوراً چپ ہو گئی۔ نظریں جھکا لیں۔ پھر بہت آہستہ سے بولی: “مس شازیہ۔” میرے اندر جیسے سب کچھ جم گیا۔ “کب؟” “جب میں نے کاپی غلط صفحے پر کھول لی تھی۔” پھر اُس نے فوراً میرا ہاتھ پکڑ لیا۔ “امی، سکول میں مت بتانا۔ مس نے کہا تھا کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اُس رات میں نے اُس کے بازو کی تصویریں لیں۔ تاریخ کے ساتھ۔ اگلی صبح میں اپنے شوہر عادل کے ساتھ عنایہ کو لے کر سکول گئی۔ پرنسپل مسز نادیہ قریشی نے ہمیں بٹھایا اور بہت نرم لہجے میں کہا: “عنایہ بہت حساس بچی ہے۔ بعض بچے معمولی ڈانٹ کو بھی دل پر لے لیتے ہیں۔” میں نے فون اُن کے سامنے رکھ دیا۔ تصویر کھولی۔ عنایہ کے بازو پر انگلیوں کے نشان صاف نظر آ رہے تھے۔ میں نے کہا: “یہ ڈانٹ نہیں ہے۔ یہ ہاتھ ہے۔” عادل نے بھی سخت لہجے میں کہا: “ہمیں کلاس روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج چاہیے۔” پرنسپل کا لہجہ فوراً بدل گیا۔ “یہ ممکن نہیں۔ سکول پالیسی اجازت نہیں دیتی۔” اسی وقت مس شازیہ اندر آئیں۔ انہوں نے عنایہ کی طرف جھک کر کہا: “بیٹا، امی ابو کو بتاؤ نا، مس آپ سے پیار کرتی ہیں؟” عنایہ فوراً میرے پیچھے چھپ گئی۔ اُس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ عادل نے یہ دیکھا تو اُس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ پرنسپل نے بات سنبھالنے کی کوشش کی۔ “دیکھیے، آپ پہلے والدین نہیں ہیں جو ایسی شکایت لے کر آئے ہیں۔ سکول کا نام خراب کرنے سے پہلے سوچ لیجیے گا۔” میں نے فوراً پوچھا: “پہلے والدین نہیں؟” کمرے میں خاموشی چھا گئی۔ اُنہیں احساس ہو چکا تھا کہ زبان پھسل گئی ہے۔ عادل نے بہت سکون سے کہا: “تو اس کا مطلب ہے شکایت پہلے بھی آئی ہے۔ اب معاملہ صرف ہماری بچی کا نہیں رہا۔” ہم وہاں سے نکل آئے۔ اس بار ہم خاموش نہیں رہے۔ سب سے پہلے عنایہ کو ڈاکٹر کے پاس لے گئے۔ میڈیکل رپورٹ بنوائی۔ پھر اُس رات عنایہ نے مجھے ایک اور بات بتائی۔ “امی… حورین کو بھی مس شازیہ نے ایسے ہی پکڑا تھا۔” حورین اُس کی کلاس فیلو تھی جو دو ہفتے پہلے اچانک سکول چھوڑ گئی تھی۔ اگلے دن عادل نے حورین کے والد کا نمبر پرانے والدین گروپ سے ڈھونڈا۔ جب ہم نے بات کی تو دوسری طرف لمبی خاموشی ہوئی۔ پھر حورین کی امی روتے ہوئے بولیں: “ہماری بچی نے بھی یہی بتایا تھا… مگر سکول نے کہا وہ بہت حساس ہے۔” اسی دن ہم دونوں خاندان ملے۔ عنایہ کے بازو کی تصویریں تھیں۔ حورین کی پرانی تصاویر تھیں۔ دونوں بچیوں کی باتیں ایک جیسی تھیں۔ دونوں کو ڈرایا گیا تھا۔ دونوں کو کہا گیا تھا: “گھر میں بتایا تو کوئی یقین نہیں کرے گا۔” اب یہ صرف شکایت نہیں رہی تھی۔ یہ ثبوت بن چکا تھا۔ ہم نے مل کر چائلڈ پروٹیکشن ہیلپ لائن پر شکایت کی۔ ایجوکیشن اتھارٹی کو درخواست دی۔ پولیس میں رپورٹ جمع کروائی۔ اور سکول کو قانونی نوٹس بھجوایا۔ دو دن بعد ایک تیسرا والد بھی سامنے آ گیا۔ اُس کے بچے نے بھی شکایت کی سکول نے پہلے اسے غلط فہمی کہا۔ پھر اندرونی انکوائری کی ۔ اور آخرکار جب دباؤ بڑھا تو مس شازیہ کو کلاس سے ہٹا دیا گیا۔ سی سی ٹی وی کی مکمل فوٹیج تو ہمیں نہ دی گئی، مگر اتنا ضرور سامنے آ گیا کہ شکایت صرف ہماری نہیں تھی۔ پرنسپل کے خلاف بھی کارروائی شروع ہوئی، کیونکہ شکایات پہلے سے موجود تھیں اور دبائی جا رہی تھیں۔ عنایہ نے سکول بدل دیا۔ شروع کے دن آسان نہیں تھے۔ نئے سکول کے گیٹ پر وہ میرا ہاتھ زور سے پکڑتی اور پوچھتی: “امی، یہ والی میم اچھی ہیں نا؟” میں ہر بار جھک کر کہتی: “بیٹا، اگر کوئی بھی تمہیں ڈرائے، ہاتھ لگائے، یا کہے کہ امی ابو کو نہ بتانا… تو سب سے پہلے ہمیں بتانا۔” آہستہ آہستہ اُس کی ہنسی واپس آنے لگی۔ وہ گاڑی میں پھر نظمیں پڑھنے لگی۔ ایک دن گھر آ کر بولی: “امی، آج میں نے کلاس میں نظم سنائی۔” میں نے اُسے سینے سے لگا لیا۔ کیونکہ وہ صرف نظم نہیں تھی۔ وہ میری بچی کی واپسی تھی ماں باپ کیلئے سب سے بڑا درد یہ نہیں ہوتا کہ بچہ زخمی ہوا۔ سب سے بڑا درد یہ ہوتا ہے کہ بچہ کئی دن ڈرتا رہا… اور ہم اُسے نخرہ سمجھتے رہے۔ میں نے ایک بات سیکھ لی ہے۔ جب بچہ بار بار کہے “پیٹ درد ہے۔” “سکول نہیں جانا۔” “میم اچھی نہیں لگتیں۔” تو اسے ہمیشہ ضد نہ سمجھیں۔ بچوں کو صرف بڑے سکولوں میں داخل نہ کروائیں۔ اُنہیں یہ یقین بھی دیں کہ اُن کی بات گھر میں سنی جائے گی
baqii mazrat agr kisi ko bura lage lakin teachers kisi k dushman nhii hote ghltii pr ahr thora sa hath pkr lia ya dant dia to es me koi etna issue mere khial se nhii hai agr bacha ghltii kre or ose ignore kr dia jai to wo kabhii ghltii ko thek nhii kre ga thats my point of view baqii log kia sochte hain wo on ka issue hai.
2026-08-15 16:36:06
12
Saif Sahibzada :
بھائی سچ میری بچیوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا تھا ایجوکیٹر سکول میں میری بچیوں نے سکول چھوڑ دیا
2026-08-15 09:29:46
23
Ashi Tanveer :
Bht Acha Kiya ap ny Jo action Liya
2026-08-14 16:20:42
13
Hina rajput :
humary city m to her school ka yhe hal h mery bachy ko itna bura mara jata tha bar bar shukayt lagai koi farak ni para school chnge krdia lakn jitny bary nam utny pheky pkwan sarkari schools m to wasy he haq samj k marty hain parents ko to kch samja nai jata kasam say mera dil nai krta mera nacha school jaye wo bht rota h uska dil oarny ko nai krta kis kis bat ko shikayt lagyn her tra say sab system brbad h yaha🥺
2026-08-15 08:39:17
3
انت الحیات :
good job! kindly school na name b btain, secret rkhna theek ni
2026-08-15 17:09:00
4
abdullah :
insaniyat k Sb Sy Aala teacher Hzrat Mohamed mustofa (PBUH)ny kbi b esa nhe kia k bchon ko danta ya phir mara ho !
2026-08-15 16:58:46
2
Anaya Khurram :
right hmary bachy jub school ma education kliye jaty ha to hmeen befikri NAHI hona chaye har bat daily pochna ha aaj class ma kia parha miss ne kia yad krwaya aapki friends kesi ha Kisi bachy ne danta ya mara to NAHI ma khud b principle se 2bar behss kr chuki hon ab new staff aaya ha to achi ha bat sun kr fori action leti ha
2026-08-14 16:33:14
3
Mannat :
boht achi bat ki AP ne,Allah pak SB k bachun ko apni hafz o aman me rakhen ,Ameen,me ne AP bachy ka admission kra to pehli bat teacher ko yehi kahi k mere bachy ko Marna na,ye bardasht ni ho ga,Baki Jo b bat ho bachy k bary me wo mjh se kren,
2026-08-15 14:24:08
1
TANVEER / AHMAD :
میرے بیٹے نے تو سکول جانا ہی چھوڑ دیا کہ ٹیچر مارتی ہے پرنسپل کو شکایت کرو تو بھی کچھ نہیں ہوتا الٹا الزام بچے پر ہی لگا دیا جاتا ہے
2026-08-15 07:19:50
3
Only for Drama Lovers :
Allah Tmam Bacho ki hifazat fermae. Mai b Islamabad k ek private school ki branch head hu . Jahan bacho ko hath lgane wale usatza ko at the spot fine kia jata hai or Ager phir b shikayat aae to school se nikal diya jata hai.
2026-08-15 08:24:03
2
🌹🔸🇾𝗮𝗿𝗮𝗺🔸🌹 :
Koch teachers scl parany ni jaty. sirf tankha leny jaty hen. onin na parany ka tarika ata.na bachon ko smjny ka.
2026-08-15 10:14:04
1
Tanveer Malik :
سیم پوزیشن میری بیٹی کے ساتھ بھی ٹھی میں فورآ سکول چینج کروایا تھا بیٹی بیٹے دونوں کا۔۔۔میں اپنے فیصلے سے آج مطمن ھوں۔۔یہ 5 سال پرانی بات ھے
2026-08-15 17:28:42
2
✨Umm Abdullah💫 :
very good, yeh hr walidain ko krna chahiye. ✅
2026-08-15 05:51:25
1
Anees.Baba :
bhai yaad rakhoo teacher ko koi haq nhi k wo maray agar teacher ko koi issu hai to bachay k parents ko school bulwa Lai
bhai Sahab wo parhanay ki salary Lai rahi hai
teacher apna frustration bachoo per na nikalay
2026-08-16 15:05:47
1
ÑÎD/\/\£®∆☣️ :
bus apny bacho ko apny sat rakho k wo hr bat ap sy share kry fir hi sub Tek ho skta ni to jb tk pata lgta tb tk bohat dyr ho Gai hoti or bohat nuqsan ho gia hota
2026-08-15 16:11:59
1
rafay_008 :
next
2026-08-15 11:27:17
1
Innocent Lrki :
good fori action buri bala Sy chutcara. well done
2026-08-15 18:37:36
1
noumanahmad6583 :
اسکول والوں کے لیے والدین ایک گروپ ضرور بنائیں جہاں سب ایک دوسرے سے رابطے میں ہوں ۔
2026-08-15 07:55:29
27
≛⃝🇸ℍ𝔸🇭𝔼𝔼ℕ 🇩𝕆𝔾𝔸ℝ :
سب سکول ہی ایسے ہیں خاص طور پر پرائیویٹ سکول بچیوں کے والدین تو بہت احتیاط کریں پلیز
2026-08-15 10:52:19
10
Malik Ghulam Raza :
السلام علیکم میرے بیٹے کے ساتھ ایسا ہی ایک کراچی کا نامی گرامی ڈی ایم اسکول سسٹم اسکول والے اپنے اسٹاف یا ٹیچر کی کبھی غلطی نہیں مانتے جو بھی برائی بچے کے اندر ہے کام نہ کروانا بچے کا اسکول میں کام نہ کرنا یہ سارے مسئلے ہمارے ساتھ بھی ہوئے ہیں اور اخر تنگ ا کر ہم نے بچے کا اسکول چینج کر دیا اسکول والے کبھی اپنی غلطی نہیں مانتے ہمیشہ بچوں کو قصور وار ٹھہراتے ہیں
2026-08-15 10:12:24
5
umar Amjad :
riight action on time.
2026-08-15 00:58:04
1
kaka.bhai20 :
itni lambi story k result
case school miss k kia bna?
itni shikyat or principal k line hzm ni ho re what story behind that
2026-08-15 20:05:59
1
Hayat :
same happend with my daughter but this time it was not teacher ...a student hit my daughter badly and principle said nothing happend instead started complaining about my daughter..i was frustrated at that tym ..it happened in june now im quite confused to send her to school..suggest me something what should i do or behave bcz principle was very rude at that time instead she posted pics of that student on school page..
2026-08-15 20:14:48
1
Shani g :
sir g mazrat k sath..teacher student parents triangle hotay hain. maqsad bachay ko taleem or tarbiyat dyna hota ha... baqi sza itni houne chahye k bacha mehsos kray... muje galti pay sza mili ha... immature bachay ko sza ka ni pta hota is lye unko pyar say smjana chahye.. main b teacher hn... lakin tashdad krna kahin b jaiz ni ha.... lakin aj kal generation tu sir pay sawar hu jatii ha.. zra c dheel dain tu.... is lye parents ko b chahye k bachun ko private ya govt. kisi b Institute main bejna hu.. pehlay bachay ki mental age dekhain k wo abe survive kr sakta ha ya ni mahool main.. jab bacha apka shahratiii hu tu phr result esay aa jatay hain... iska solution yehe ha k bachay ki thorii mental grooming ki jaye ta k wo chesoun ko smj skay.. bachay ko at least tab tak school na behjain jab tak wo sahi or galat ki smj na rakhay..
2026-08-16 07:12:33
2
To see more videos from user @homirashid, please go to the Tikwm
homepage.