@Hanzala Gohar:Sir i watched ur videos from starting.but sir its totally unfair for students like me who don't have enough money.Kindly spread positivity free of cost.it would be great pleasure for us.
2026-08-21 11:41:14
1
JUNAID KHAN :
I can't Expect this from You Sir, kindly Review it, and Spread Knowledge free of Cost for GenZ.
2026-08-25 17:40:25
0
Awais Ali 🇬🇧 :
Its so bad to put charges on this type of knowledge video.
2026-08-15 16:36:01
0
عَبْدُالْهـَادِيْ نُوْرِيٌ🎓 :
Sir agar full video available ho jai 🙏 Free because we can’t get this video we are very far from subscribration
2026-08-28 15:18:45
0
Hanzala Gohar :
Sir i watched ur videos from starting.but sir its totally unfair for students like me who don't have enough money.Kindly spread positivity free of cost.it would be great pleasure for us.
2026-08-15 17:48:17
0
Meer Muhammad :
انسانی نفسیات، تخیل، خواہش کہہ سکتے ہیں..
2026-09-08 03:52:23
0
khan :
where is the full video 📷
2026-08-21 11:40:48
0
khan :
where is full video
2026-08-21 11:40:14
0
think :
❤️❤️❤️
2026-08-25 16:44:25
0
hanif Khan :
❤️❤️❤️
2026-08-25 06:30:12
0
Babar Fiaz :
میرے خیال میں جنت اور دوزخ کو صرف لفظی اور مادی چیزوں کے طور پر سمجھنے کے بجائے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان تصورات کا تعلق اُس زمانے کے انسان کی ضروریات، محرومیوں اور خواہشات سے کس طرح تھا۔ چودہ سو سال پہلے عرب کے معاشرے میں ٹھنڈا پانی، دودھ، شہد، کھجوریں، پھلوں کے باغات، سایہ اور آسائشیں بہت بڑی نعمتیں سمجھی جاتی تھیں۔ اس لیے جنت کا تصور بھی انہی چیزوں کے ذریعے ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کیا گیا جہاں انسان کو دنیا کی محرومیوں اور تکلیفوں سے نجات مل جائے گی۔
لیکن آج کے دور میں ایک بچے کی محرومیاں اور خواہشات بالکل مختلف ہیں۔ آج کا بچہ اگر یہ سنے کہ جنت میں کھجوریں ہوں گی، دودھ اور شہد کی نہریں ہوں گی، پھلوں کے باغات ہوں گے، تو ممکن ہے وہ اتنا متاثر نہ ہو، کیونکہ یہ سب چیزیں اسے آج کی دنیا میں بھی آسانی سے مل سکتی ہیں۔ وہ شاید یہ پوچھے کہ جنت میں انٹرنیٹ ہوگا؟ Wi-Fi ہوگا؟ WhatsApp، Instagram اور TikTok چلیں گے؟ Bentley ہوگی؟ Ferrari ہوگی؟ Porsche ہوگی؟ Private Jet ہوگا؟ یعنی آج کے بچے کو اپنی موجودہ محرومیوں اور خواہشات کے مطابق جنت کی کشش محسوس ہوگی۔
میرے خیال میں یہی بات اس تصور کو سمجھنے کے لیے بہت اہم ہے۔ جو جنت کا تصور چودہ سو سال پہلے انسان کو دیا گیا تھا، سچی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں اس کی وہ کشش نہیں رہی جو اُس زمانے کے انسان کے لیے رہی ہوگی۔ اُس وقت کھجوروں کے باغات، ٹھنڈا پانی، دودھ، شہد، پھل اور سایہ واقعی غیر معمولی نعمتیں تھیں، جبکہ آج کے بچے کے لیے یہ چیزیں کوئی ایسی ناقابلِ تصور عیاشی نہیں ہیں۔
اسی لیے میرے نقطۂ نظر سے جنت اور دوزخ کی یہ تمام مادی تفصیلات دراصل علامتی چیزیں ہیں۔ ان کا مقصد شاید اُس زمانے کے انسان کو اُس کی اپنی زبان، اُس کی اپنی خواہشات اور اُس کی اپنی محرومیوں کے ذریعے ایک تصور سمجھانا تھا۔ اگر ہم انہیں لفظ بہ لفظ مادی حقیقت سمجھیں گے تو پھر ہر زمانے میں یہی سوال پیدا ہوگا کہ اُس دور کے انسان کے لیے جنت کی کشش کیا ہوگی۔
آج کا بچہ شاید کہے گا: "کھجوریں اور شہد تو یہاں بھی مل جاتے ہیں، جنت میں Wi-Fi ہے یا نہیں؟"
اور شاید آنے والی نسل کا بچہ پوچھے گا: "Private Jet تو ٹھیک ہے، لیکن وہاں teleportation ہوگی یا نہیں؟"
میرے خیال میں اصل بات یہ ہے کہ جنت اور دوزخ کو صرف مادی چیزوں کی فہرست کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ علامتی تصورات ہیں، اور ان مادی تفصیلات کا حقیقت کے ساتھ براہِ راست تعلق نہیں ہے۔ یہ صرف انسان کو ایک تصور سمجھانے کے لیے استعمال کی گئی مثالیں ہیں۔
باقی آپ میری بات سے اختلاف کر سکتے ہیں۔ میری بات کوئی حت
2026-09-06 14:19:53
0
To see more videos from user @mazariadnan, please go to the Tikwm
homepage.