@rafieaizzat22: #selawat #allahummashollialasayyidinamuhammad

rafieaizzat22
rafieaizzat22
Open In TikTok:
Region: MY
Saturday 15 August 2026 19:58:18 GMT
76350
2265
0
1159

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @rafieaizzat22, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

‏تحریکِ پاکستان اور آج کی جدوجہدِ آزادی کو سمجھنے کے لیے ہمیں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ان سنہری اصولوں اور انتباہات کی گہرائی میں جانا ہوگا جو انہوں نے ایک آزاد قوم کے لیے ورثے میں چھوڑے تھے۔  ‏قائد صرف ایک وکیل نہیں تھے، بلکہ وہ دور اندیش رہنما تھے جو جانتے تھے کہ ایک دن قائد کا فرمان: "میں چاہتا ہوں کہ آپ یاد رکھیں... کہ انتظامی اختیار پاکستان کی سویلین حکومت کے سربراہ سے نکلتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی حکم جو آپ تک پہنچتا ہے، وہ سویلین سربراہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ آپ قومی پالیسی نہیں بناتے؛ یہ ہم سویلین ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض صرف ان کاموں کو سرانجام دینا ہے جو آپ کے سپرد کیے گئے ہیں۔" ‏تجزیہ: آج جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوتے ہیں، تو یہ قائد کے بتائے ہوئے "قانونی مقام" کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عمران خان جیسے مقبول لیڈر کی قید کو عوام اسی تناظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ ان طاقتوں کا "پالیسی سازی" کا عمل ہے جنہیں عوام نے کبھی یہ اختیار دیا ہی نہیں تھا۔ ‏۲. بغیر ٹرائل کے قید: سراسر ظلم: ‏قائدِ اعظم شہری آزادیوں کے علمبردار تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کی آزادی چھین لے جب تک کہ قانون کے مطابق جرم ثابت نہ ہو جائے۔ ‏> قائد کا فرمان: "کسی بھی شخص کو اس کی آزادی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جب تک کہ مروجہ قانونی شہادتوں کے مطابق عدالت میں اس کا ٹرائل نہ ہو جائے۔" ‏تجزیہ: عمران خان کو سائفر، توشہ خانہ یا عدت جیسے کیسز میں پابندِ سلاسل رکھنا، جسے ماہرینِ قانون 'لافیئر' (Lawfare) کہتے ہیں، قائد کے وژن کی نفی ہے۔ اسلامی تناظر میں یہ "ظلم" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ قومیں تباہ ہو گئیں جو کمزور پر قانون نافذ کرتی تھیں اور طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں۔ ‏۳. تلوار بمقابلہ قلم اور خواتین ‏قائد جانتے تھے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار اور نظریات سے بنتی ہیں۔ ‏> قائد کا فرمان: "دنیا میں دو طاقتیں ہیں؛ ایک تلوار اور دوسری قلم۔ ان دونوں کے درمیان بڑا مقابلہ اور دشمنی ہے۔ لیکن ان دونوں سے زیادہ طاقتور ایک تیسری قوت ہے، اور وہ ہے 'خواتین'۔" Missing content on Twitter account @Aussie2787872‏ ‏حقیقت کا ادراک: "اندھیرا" اور عمران خان کی جدوجہد ‏اسٹیبلشمنٹ نے اکثر قائد کے "ایمان" والے جزو کو عوام کو جذباتی طور پر قابو کرنے کے لیے استعمال کیا، لیکن "اتحاد" (صوبوں اور لیڈروں کی برابری) اور "نظم و ضبط" (آئین کی پاسداری) کو پسِ پشت میں ڈال دیا ہے۔ ‏عوام کو صرف زندہ رہنے کی تگ و دو اور چھوٹی موٹی کرپشن میں مصروف رکھ کر وہ "اتحاد" چھینا گیا جو عمران خان کی "حقیقی آزادی" کی پکار کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے قائد نے کہا تھا: ‏> "بہترین کی امید رکھو، بدترین کے لیے تیار رہو۔" ‏"بہترین" ایک خود مختار پاکستان ہے، اور "بدترین" وہ ہے جس سے قائد ڈرتے تھے، یعنی ایسی قوم جو انگریز سے تو آزاد ہو جائے لیکن اپنے ہی لوگوں کی غلام بن جائے۔ قابض ناپاک آرمی مُردہ آباد Repost as much as possible ‏AussieMughalKing 👑 Please visit my Twitter account for updates @Aussie2787872 @Aiman Khan @MindKiller @Faiza spti @دُشمنِ طاغُوت @HaRD TaLK @Faheem (Former Info Sec PTI) @Ghazi 804 ~No Khan No Pakistan @حق کی آواز مظلوموں کے ساتھ @ĦŪÑŤËŘ05 @🥷🏻Nido khan🥷🏻 @butt @بو حمدان @Donnie🇺🇸NYC @Gull Afridi 804✌ @IA KHAN @IFFI 804🇵🇰 @jlaludin8 @karachi zindabad @khan pthan 🇫🇷 @khan..pathan @Khan@415 @Kiran khalid uk @MAZ @Mehar,, Malaysia,, Ay,, 🤫✌️ @Murad Ali @Musa @MUSA BHAI PTI @Nadeem khan @Nibble @OPF Imran Khan 🌴🌴🌴 " width="135" height="240">
‏تحریکِ پاکستان اور آج کی جدوجہدِ آزادی کو سمجھنے کے لیے ہمیں قائدِ اعظم محمد علی جناح کے ان سنہری اصولوں اور انتباہات کی گہرائی میں جانا ہوگا جو انہوں نے ایک آزاد قوم کے لیے ورثے میں چھوڑے تھے۔ ‏قائد صرف ایک وکیل نہیں تھے، بلکہ وہ دور اندیش رہنما تھے جو جانتے تھے کہ ایک دن "تلوار" (طاقت) "قلم" (شعور) اور "ووٹ" (عوام کی طاقت) کو دبانے کی کوشش کرے گی۔ ‏آج پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ جس "اندھیرے" میں قوم کو رکھنا چاہتی ہے، اس کی بنیاد ہی یہ ہے کہ عوام قائد کے ان واضح احکامات کو بھول جائیں۔ آئیے اس کہانی کو قائد کی زبانی اور آج کے تناظر میں سمجھتے ہیں۔ ‏۱. فوج کا کردار: خادم، حاکم نہیں: ‏۱۴ جون ۱۹۴۸ کو اسٹاف کالج کوئٹہ میں خطاب کرتے ہوئے قائد اعظم نے وہ تاریخی انتباہ دیا جو آج کے حالات میں سب سے اہم ہے۔ وہ فوج کو "پالیسی ساز" یا "سیاسی انجینیئر" نہیں دیکھنا چاہتے تھے۔ ‏> قائد کا فرمان: "میں چاہتا ہوں کہ آپ یاد رکھیں... کہ انتظامی اختیار پاکستان کی سویلین حکومت کے سربراہ سے نکلتا ہے۔ اس لیے کوئی بھی حکم جو آپ تک پہنچتا ہے، وہ سویلین سربراہ کی منظوری کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ آپ قومی پالیسی نہیں بناتے؛ یہ ہم سویلین ہیں جو ان معاملات کا فیصلہ کرتے ہیں اور آپ کا فرض صرف ان کاموں کو سرانجام دینا ہے جو آپ کے سپرد کیے گئے ہیں۔" ‏تجزیہ: آج جب فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے بند کمروں میں ہوتے ہیں، تو یہ قائد کے بتائے ہوئے "قانونی مقام" کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عمران خان جیسے مقبول لیڈر کی قید کو عوام اسی تناظر میں دیکھتے ہیں کہ یہ ان طاقتوں کا "پالیسی سازی" کا عمل ہے جنہیں عوام نے کبھی یہ اختیار دیا ہی نہیں تھا۔ ‏۲. بغیر ٹرائل کے قید: سراسر ظلم: ‏قائدِ اعظم شہری آزادیوں کے علمبردار تھے۔ ان کا ماننا تھا کہ ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کی آزادی چھین لے جب تک کہ قانون کے مطابق جرم ثابت نہ ہو جائے۔ ‏> قائد کا فرمان: "کسی بھی شخص کو اس کی آزادی سے محروم نہیں کیا جانا چاہیے جب تک کہ مروجہ قانونی شہادتوں کے مطابق عدالت میں اس کا ٹرائل نہ ہو جائے۔" ‏تجزیہ: عمران خان کو سائفر، توشہ خانہ یا عدت جیسے کیسز میں پابندِ سلاسل رکھنا، جسے ماہرینِ قانون 'لافیئر' (Lawfare) کہتے ہیں، قائد کے وژن کی نفی ہے۔ اسلامی تناظر میں یہ "ظلم" ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تھا کہ وہ قومیں تباہ ہو گئیں جو کمزور پر قانون نافذ کرتی تھیں اور طاقتور کو چھوڑ دیتی تھیں۔ ‏۳. تلوار بمقابلہ قلم اور خواتین ‏قائد جانتے تھے کہ قومیں صرف طاقت سے نہیں بلکہ کردار اور نظریات سے بنتی ہیں۔ ‏> قائد کا فرمان: "دنیا میں دو طاقتیں ہیں؛ ایک تلوار اور دوسری قلم۔ ان دونوں کے درمیان بڑا مقابلہ اور دشمنی ہے۔ لیکن ان دونوں سے زیادہ طاقتور ایک تیسری قوت ہے، اور وہ ہے 'خواتین'۔" Missing content on Twitter account @Aussie2787872‏ ‏حقیقت کا ادراک: "اندھیرا" اور عمران خان کی جدوجہد ‏اسٹیبلشمنٹ نے اکثر قائد کے "ایمان" والے جزو کو عوام کو جذباتی طور پر قابو کرنے کے لیے استعمال کیا، لیکن "اتحاد" (صوبوں اور لیڈروں کی برابری) اور "نظم و ضبط" (آئین کی پاسداری) کو پسِ پشت میں ڈال دیا ہے۔ ‏عوام کو صرف زندہ رہنے کی تگ و دو اور چھوٹی موٹی کرپشن میں مصروف رکھ کر وہ "اتحاد" چھینا گیا جو عمران خان کی "حقیقی آزادی" کی پکار کے لیے ضروری ہے۔ اسی لیے قائد نے کہا تھا: ‏> "بہترین کی امید رکھو، بدترین کے لیے تیار رہو۔" ‏"بہترین" ایک خود مختار پاکستان ہے، اور "بدترین" وہ ہے جس سے قائد ڈرتے تھے، یعنی ایسی قوم جو انگریز سے تو آزاد ہو جائے لیکن اپنے ہی لوگوں کی غلام بن جائے۔ قابض ناپاک آرمی مُردہ آباد Repost as much as possible ‏AussieMughalKing 👑 Please visit my Twitter account for updates @Aussie2787872 @Aiman Khan @MindKiller @Faiza spti @دُشمنِ طاغُوت @HaRD TaLK @Faheem (Former Info Sec PTI) @Ghazi 804 ~No Khan No Pakistan @حق کی آواز مظلوموں کے ساتھ @ĦŪÑŤËŘ05 @🥷🏻Nido khan🥷🏻 @butt @بو حمدان @Donnie🇺🇸NYC @Gull Afridi 804✌ @IA KHAN @IFFI 804🇵🇰 @jlaludin8 @karachi zindabad @khan pthan 🇫🇷 @khan..pathan @Khan@415 @Kiran khalid uk @MAZ @Mehar,, Malaysia,, Ay,, 🤫✌️ @Murad Ali @Musa @MUSA BHAI PTI @Nadeem khan @Nibble @OPF Imran Khan 🌴🌴🌴

About