@tarabelarab1: وإنت بعيد عن عيني بحس إن إنت يا عمري قصادي #ايهاب_توفيق #وانت_بعيد_عن_عيني🙁 #اكتر_من_كده_ايه #جورج_وسوف_🔚ابو_وديع_سلطان_الطرب👑

ڕوائــ؏ 🎼 الــطــڕب
ڕوائــ؏ 🎼 الــطــڕب
Open In TikTok:
Region: SA
Saturday 15 August 2026 21:04:18 GMT
16278
799
10
400

Music

Download

Comments

user9978022193147
ام محمد عسليه :
2026-08-17 06:24:16
0
user9978022193147
ام محمد عسليه :
2026-08-17 06:24:11
0
fathiasohbani96
ض :
🥰🥰🥰🥰
2026-08-17 10:36:19
0
fathiasohbani96
ض :
🥰🥰🥰🥰
2026-08-17 10:35:51
0
user3117715944785
زهره البستان ❤ :
🥰🥰🥰
2026-08-16 00:36:45
0
niz6235
niz :
🌹🌹🌹
2026-08-15 22:20:14
0
yousifalghariri
يوسف الغريري :
🥰🥰🥰
2026-08-15 21:28:11
0
user4078108351191
كريم كريم :
🥰🥰🥰
2026-08-15 21:16:48
0
user9297703108819
اشرف الشنواني :
🌹🌹🌹
2026-08-16 04:23:24
0
To see more videos from user @tarabelarab1, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

لکھنا بھی چاہتا تھا مگر جیسے الفاظ میرا ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے۔ پھر آج میں نے ایسے ہی قرآن کھولا۔ اور میری نظر سورۂ الأعراف کی اس آیت پر جا کر رک گئی:
لکھنا بھی چاہتا تھا مگر جیسے الفاظ میرا ساتھ ہی نہیں دے رہے تھے۔ پھر آج میں نے ایسے ہی قرآن کھولا۔ اور میری نظر سورۂ الأعراف کی اس آیت پر جا کر رک گئی: "پھر میں ضرور ان کے پاس ان کے آگے سے، ان کے پیچھے سے، ان کے دائیں سے اور ان کے بائیں سے آؤں گا، اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا۔" میں دیر تک اس آیت کو دیکھتا رہا شیطان نے یہ نہیں کہا کہ میں صرف گناہ کرواؤں گا، اس نے کہا: میں ہر طرف سے آؤں گا۔ میں سوچنے لگا، آخر یہ چار راستے ہی کیوں؟ پھر میں نے پہلی سمت پر غور کیا۔ آگے سے... شاید شیطان کا سب سے پسندیدہ ہتھیار مستقبل کا خوف ہے وہ صرف ایک سوال دل میں ڈالتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو؟ اگر نوکری نہ ملی تو؟ اگر میری دعا قبول نہ ہوئی تو؟ اگر میں ناکام ہو گیا تو؟ اگر مجھے وہ نہ ملا جس کی میں نے پوری زندگی خواہش کی؟ یہ صرف ایک "اگر" ہوتا ہے… لیکن یہی ایک "اگر" انسان کے دل کا سکون کھا جاتا ہے۔ ہم کل کے بارے میں اس قدر پریشان ہوتے ہیں کہ آج اللہ پر توکل کرنا بھول جاتے ہیں۔ پھر شیطان پیچھے سے آتا ہے۔ یہ شاید اس سے بھی زیادہ خطرناک راستہ ہے ماضی کے راستے سے۔ آج کتنے ہی لوگ ہیں… جو برسوں پہلے کی ایک غلطی سے باہر نہیں نکل سکے۔ ایک گناہ… ایک دھوکہ… ایک ناکامی… ایک بچھڑ جانے والا انسان… اور پھر شیطان ہر روز وہی زخم تازہ کرتا رہتا ہے۔ وہ کہتا ہے: "تم بدل نہیں سکتے" "تمہارے جیسے لوگوں کو اللہ معاف نہیں کرے گا" "تمہارا وقت گزر چکا ہے" اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس رب نے کل معاف کیا تھا، وہ آج بھی معاف کر سکتا ہے۔ وہ انسان کو اس کے ماضی میں اس قدر الجھا دیتا ہے… کہ وہ اپنا حال بھی کھو دیتا ہے اور اپنا مستقبل بھی۔ پھر شیطان دائیں طرف سے آتا ہے۔ یہاں آ کر مجھے احساس ہوا… ہمیں ہمیشہ لگتا ہے کہ شیطان صرف گناہوں کی طرف بلاتا ہے۔ لیکن اگر وہ نیکی کے راستے سے آئے تو؟ چند نمازیں، چند بار قرآن پڑھ کر یا چند اسلامی پوسٹس شیئر کر کے دل میں یہ احساس آنے لگتا ہے کہ شاید ہم دوسروں سے بہتر ہیں۔ پھر ہم لوگوں کو جج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ غلط ہے یہ صحیح پردہ نہیں کرتی یہ صحیح دین پر نہیں ہم بھول جاتے ہیں کہ ہدایت اللہ کی نعمت ہے، ہماری اپنی کمائی نہیں۔ اور آہستہ آہستہ عبادت کے ساتھ تکبر شامل ہو جاتا ہے۔ اسی لمحے مجھے ابلیس یاد آیا۔ اس کی تباہی صرف ایک جملہ تھا: "میں اس سے بہتر ہوں" ذرا غور کیجیے… ابلیس نے شراب نہیں پی تھی چوری نہیں کی تھی زنا نہیں کیا تھا اسے گمراہ کرنے والی چیز صرف ایک جملہ تھا: "میں اس سے بہتر ہوں" آج بھی شیطان ہمیں اسی ایک جملے تک پہنچانا چاہتا ہے۔ الفاظ بدل جاتے ہیں، احساس وہی رہتا ہے: "میں بہتر ہوں" پھر شیطان بائیں طرف سے آتا ہے۔ ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ شیطان ہمیں گناہ کی دعوت دیتا ہے۔ لیکن حقیقت شاید اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ وہ گناہ کو گناہ رہنے ہی نہیں دیتا۔ وہ گناہوں کو خوبصورت بنا کر دیکھتا ہے۔ "سب ہی تو کرتے ہیں" "یہ زمانہ ہی ایسا ہے" "دل صاف ہونا چاہیے" "اتنی سختی بھی اچھی نہیں" "اللہ تو غفور الرحیم ہے" آہستہ آہستہ انسان کا دل گناہ کا عادی ہو جاتا ہے۔ آج میوزک اور سوشل میڈیا کو دیکھ لیجیے۔ اللہ نے نگاہوں کی حفاظت کا حکم دیا، لیکن ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کیا دیکھ رہے ہیں، کیونکہ شیطان نے گناہ کو معمول بنا دیا ہے۔ پھر مجھے احساس ہوا، شیطان کبھی آ کر یہ نہیں کہتا: "جاؤ، گناہ کرو" وہ خوف بن کر آتا ہے، ماضی بن کر آتا ہے، تکبر بن کر آتا ہے، خواہش بن کر آتا ہے اور گناہ کو خوبصورت بنا کر آتا ہے۔ پھر میرے ذہن میں ایک سوال آیا۔ شیطان نے آگے، پیچھے، دائیں اور بائیں کا ذکر کیا، مگر اوپر اور نیچے کا کیوں نہیں؟ مفسرین نے لکھا کہ اوپر سے اللہ کی رحمت، وحی اور ہدایت نازل ہوتی ہے، وہاں شیطان کی رسائی نہیں۔ اور نیچے وہ جگہ ہے جہاں بندہ سجدے میں گر جاتا ہے، وہ سجدہ جس نے شیطان کو ہمیشہ کے لیے ذلیل کر دیا۔ مجھے یوں لگا جیسے شیطان خود اعتراف کر رہا ہو کہ وہ ہر طرف سے آ سکتا ہے، مگر اس بندے تک نہیں پہنچ سکتا جو آسمان سے آنے والی ہدایت کو تھام لے اور زمین پر سجدے میں گر جائے۔ پھر میں نے آیت کا آخری حصہ پڑھا: "اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا" میں دیر تک اسی ایک جملے پر سوچتا رہا۔ شاید شیطان کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ انسان سے بڑے بڑے گناہ کروا دے، بلکہ یہ ہے کہ وہ انسان سے شکر چھین لے۔ کیونکہ جب شکر ختم ہو جاتا ہے تو نعمتیں معمولی لگنے لگتی ہیں، عبادت بوجھ بن جاتی ہے اور دل کو کبھی سکون نہیں ملتا۔ یا اللہ! ہمارے دلوں کو شیطان کے ہر راستے سے محفوظ فرما، ہمارے مستقبل کو خوف سے، ماضی کو مایوسی سے، عبادت کو تکبر سے اور خواہشات کو گناہوں کی محبت سے بچا لے، اور ہمیں اپنے شکر گزار بندوں میں شامل فرما۔ آمین۔ #PaidPartnership #LIVEIsEasy #LIVEIncentiveProgram

About