@itslucydamin: Seemed appropriate.. Me trying to self-regulate until my ambition takes over. 🙃

itslucydamin
itslucydamin
Open In TikTok:
Region: AU
Sunday 16 August 2026 06:27:21 GMT
1102
32
0
2

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @itslucydamin, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

پھر میں نے وہ سب دیکھ لیا جسے سوچتے ہوئے مُجھے ڈر لگتا تھا ۔ رات کے سناٹے میں جب آنکھیں بند کرتی تھی تو وہی منظر سامنے آ جاتا تھا ۔   میں نے ہمیشہ خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی ۔   کیونکہ وہ سچ بہت کڑوا تھا ۔   وہ باتیں جو دل میں کانٹوں کی طرح چبھتی تھیں ۔   وہ چہرے جو اب اجنبی لگتے تھے ۔   وہ وعدے جو ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے ۔   میں سوچتی تھی اگر کبھی حقیقت سامنے آ گئی تو میں ٹوٹ جاؤں گی ۔   اس لیے میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔   میں نے بہانے بنا لیے ۔   میں نے خود سے جھوٹ بولا کہ سب ٹھیک ہے ۔   مگر ایک دن ہمت کر کے میں نے پردہ ہٹا دیا ۔   اور وہاں وہی تھا جس سے میں سب سے زیادہ ڈرتی تھی ۔   خاموشی ۔   سچائی ۔   تنہائی ۔   لوگوں کے بدلتے ہوئے لہجے ۔   میرے بارے میں وہ باتیں جو کبھی میرے سامنے نہیں ہوئیں ۔   وہ راتیں جب میرا نام لیا گیا اور میں وہاں نہیں تھی ۔   وہ ہنسی جس میں میرا ذکر مذاق بن گیا ۔   میں نے دیکھا کہ وقت کیسے لوگوں کو بدل دیتا ہے ۔   میں نے دیکھا کہ محبت کیسے ضرورت بن کر ختم ہو جاتی ہے ۔   میں نے دیکھا کہ اعتبار کتنی آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے ۔   سب سے مشکل یہ تھا کہ الزام کسی کو نہیں دے سکتی تھی ۔   کیونکہ میں خود اس سچ سے بھاگتی رہی تھی ۔   پہلے چند لمحے سانس لینا مشکل ہوا ۔   دل نے کہا واپس پلٹ جاؤ ۔   آنکھوں نے کہا اب اور مت دیکھو ۔   مگر میں رکی رہی۔   کیونکہ ڈر کر جینے سے بہتر ہے ایک بار سب دیکھ لینا ۔   اس دن کے بعد درد کم نہیں ہوا ۔   لیکن ڈر ختم ہو گیا ۔   اب جب وہی خیال آتا ہے تو کانپتی نہیں ہوں ۔   کیونکہ جو چیز ایک بار دیکھ لی جائے وہ پھر ڈراتی نہیں ۔   وہ بس سکھا دیتی ہے ۔
پھر میں نے وہ سب دیکھ لیا جسے سوچتے ہوئے مُجھے ڈر لگتا تھا ۔ رات کے سناٹے میں جب آنکھیں بند کرتی تھی تو وہی منظر سامنے آ جاتا تھا ۔ میں نے ہمیشہ خود کو اس سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی ۔ کیونکہ وہ سچ بہت کڑوا تھا ۔ وہ باتیں جو دل میں کانٹوں کی طرح چبھتی تھیں ۔ وہ چہرے جو اب اجنبی لگتے تھے ۔ وہ وعدے جو ہوا میں تحلیل ہو گئے تھے ۔ میں سوچتی تھی اگر کبھی حقیقت سامنے آ گئی تو میں ٹوٹ جاؤں گی ۔ اس لیے میں نے آنکھیں بند کر لیں ۔ میں نے بہانے بنا لیے ۔ میں نے خود سے جھوٹ بولا کہ سب ٹھیک ہے ۔ مگر ایک دن ہمت کر کے میں نے پردہ ہٹا دیا ۔ اور وہاں وہی تھا جس سے میں سب سے زیادہ ڈرتی تھی ۔ خاموشی ۔ سچائی ۔ تنہائی ۔ لوگوں کے بدلتے ہوئے لہجے ۔ میرے بارے میں وہ باتیں جو کبھی میرے سامنے نہیں ہوئیں ۔ وہ راتیں جب میرا نام لیا گیا اور میں وہاں نہیں تھی ۔ وہ ہنسی جس میں میرا ذکر مذاق بن گیا ۔ میں نے دیکھا کہ وقت کیسے لوگوں کو بدل دیتا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ محبت کیسے ضرورت بن کر ختم ہو جاتی ہے ۔ میں نے دیکھا کہ اعتبار کتنی آسانی سے ٹوٹ جاتا ہے ۔ سب سے مشکل یہ تھا کہ الزام کسی کو نہیں دے سکتی تھی ۔ کیونکہ میں خود اس سچ سے بھاگتی رہی تھی ۔ پہلے چند لمحے سانس لینا مشکل ہوا ۔ دل نے کہا واپس پلٹ جاؤ ۔ آنکھوں نے کہا اب اور مت دیکھو ۔ مگر میں رکی رہی۔ کیونکہ ڈر کر جینے سے بہتر ہے ایک بار سب دیکھ لینا ۔ اس دن کے بعد درد کم نہیں ہوا ۔ لیکن ڈر ختم ہو گیا ۔ اب جب وہی خیال آتا ہے تو کانپتی نہیں ہوں ۔ کیونکہ جو چیز ایک بار دیکھ لی جائے وہ پھر ڈراتی نہیں ۔ وہ بس سکھا دیتی ہے ۔

About