@queroquiro: Você tem dores no joelho? Então siga essas dicas e envie esse vídeo para aquela pessoa que vai te ajudar a aliviar esse desconforto! #QueroQuiro #SaúdeDaColuna #AlinhamentoVertebral

QueroQuiro
QueroQuiro
Open In TikTok:
Region: BR
Sunday 16 August 2026 19:53:27 GMT
16388
778
2
124

Music

Download

Comments

kenzinhotmg
KENZINHO TMG :
faz uma do tornozelo irmão
2026-08-17 08:58:47
1
aureobarros_10
aureobarros_ :
@rania barros @João Barros
2026-09-11 00:33:23
0
To see more videos from user @queroquiro, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

Surah Al-Shuara Ayat 215-227 Para 19 #quran #urdu #translation #islam #status    انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭ جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن» یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری
Surah Al-Shuara Ayat 215-227 Para 19 #quran #urdu #translation #islam #status انسان کا المیہ خود ساز خدا اور اللہ سے دوری ہے ٭٭ جو لوگ اللہ کے سوا اوروں کو پوجتے ہیں، وہ سب اللہ کے ہی بنائے ہوئے ہیں، وہی ان کا پالنے والا ہے۔ وہ بالکل بے اختیار ہیں، کسی نفع نقصان کا انہیں اختیار نہیں، وہ اپنے پجاریوں کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکتے بلکہ وہ تو ہل جل بھی نہیں سکتے، دیکھ اور سن بھی نہیں سکتے۔ ان بتوں سے تو ان کے پجاری ہی توانا، تندرست اور اچھے ہیں کہ ان کی آنکھیں بھی ہیں، کان بھی ہیں۔ یہ بےوقوف تو انہیں پوجتے ہیں جنہوں نے ساری مخلوق میں سے ایک چیز کو بھی پیدا نہیں کیا بلکہ وہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کئے ہوئے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے کہ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ ضُرِبَ مَثَلٌ فَاسْتَمِعُوا لَهُ إِنَّ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ لَن يَخْلُقُوا ذُبَابًا وَلَوِ اجْتَمَعُوا لَهُ وَإِن يَسْلُبْهُمُ الذُّبَابُ شَيْئًا لَّا يَسْتَنقِذُوهُ مِنْهُ ضَعُفَ الطَّالِبُ وَالْمَطْلُوبُ مَا قَدَرُوا اللَّـهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِنَّ اللَّـهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ» ۱؎ [22-الحج:73-74] ‏‏‏‏ ’ لوگو! آؤ ایک لطیف مثال سنو، تم جنہیں پکار رہے ہو، یہ سارے ہی جمع ہو کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو ان کی طاقت سے خارج ہے۔ بلکہ ان کی کمزوری تو یہاں تک ہے کہ کوئی مکھی ان کی کسی چیز کو چھین لے جائے تو یہ اس سے واپس بھی نہیں کر سکتے، طلب کرنے والے اور جن سے طلب کی جا رہی ہے، بہت ہی بودے ہیں۔ ‘ تعجب ہے کہ اتنے کمزوروں کی عبادت کی جاتی ہے جو اپنا حق بھی ایک مکھی سے نہیں لے سکتے، وہ تمہاری روزیوں اور مدد پر کیسے قادر ہوں گے؟ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا کہ «قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ» ۱؎ [37-الصافات:95] ‏‏‏‏ ’ کیا تم ان کی عبادت کرتے ہو جنہیں تم خود ہی گھڑتے اور بناتے ہو؟ ‘ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کی مدد کر سکتے ہیں، نہ خود اپنی ہی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ یہاں تک کہ «فَجَعَلَهُمْ جُذَاذًا إِلَّا كَبِيرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ إِلَيْهِ يَرْجِعُونَ» ۱؎ [21-الأنبياء:58] ‏‏‏‏ ’ خلیل اللہ علیہ السلام نے انہیں توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ‘ لیکن ان سے یہ نہ ہو سکا کہ اپنے آپ کو ان کے ہاتھ سے بچا لیتے۔ ہاتھ میں تبر لے کر سب کو چورا کر دیا اور ان معبودان باطل سے یہ بھی نہ ہو سکا کہ کسی طرح اپنا بچاؤ کر لیتے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی سیدنا معاذ بن عمرو بن جموح اور سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہما یہی کام کرتے تھے کہ رات کے وقت چپکے سے جا کر مشرکین کے بت توڑ آتے اور جو لکڑی کے ہوتے، انہیں توڑ کر بیوہ عورتوں کو دے دیتے کہ وہ اپنا ایندھن بنا لیں اور قوم کے بت پرست عبرت حاصل کریں۔ خود معاذ رضی اللہ عنہ کا باپ عمرو بن جموح بھی بت پرست تھا، یہ دونوں نوجوان دوست وہاں بھی پہنچتے اور اس بت کو پلیدی سے آلودہ کر آتے۔ جب یہ آتا تو اپنے معبود کو اس حالت میں دیکھ کر بہت پیچ و تاب کھاتا، پھر دھوتا، پھر اس پر خوشبو ملتا۔ ایک مرتبہ اس نے اس کے پاس تلوار رکھ دی اور کہا: دیکھ! آج تیرا دشمن آئے تو اس تلوار سے اس کا کام تمام کر دینا۔ یہ اس رات بھی پہنچے اور اس کی درگت کر کے پاخانے سے لیپ کر کے چلے آئے مگر تاہم اسے اثر نہ ہوا، صبح کو اسی طرح اس نے دھو دھا کر ٹھیک ٹھاک کر کے خوشبو لگا کر بیٹھا کر ڈنڈوت کی یعنی (‏‏‏‏اٹھک بیٹھک) کی۔ جب ان دونوں نے دیکھا کہ کسی طرح یہ نہیں مانتا تو ایک رات اس بت کو اٹھا لائے اور ایک کتے کا پلا جو مرا پڑا تھا، اس کے گلے میں باندھ دیا اور محلے کے ایک کنویں میں ڈال دیا۔ صبح اس نے اپنے بت کو نہ پا کر تلاش کیا تو کنویں میں اسے نظر آیا کہ کتے کے مردہ بچے کے ساتھ پڑا ہوا ہے، اب اسے بت سے اور بت پرستی سے نفرت ہو گئی۔ اور اس نے کہا: «تاللہ لو کنت الھا مستدن لم تک والکلب جمیعا فی قرن» یعنی اگر تو سچ مچ معبود ہوتا تو کنوئیں میں کتے کے پلے کے ساتھ پڑا ہوا نہ ہوتا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور مشرف بہ اسلام ہو گئے، پھر تو اسلام میں پورے پکے ہو گئے۔ احد کی لڑائی میں شریک ہوئے اور کفار کو قتل کرتے ہوئے شہید ہو گئے ۱؎ [سیرة ابن هشام:354/1] ‏‏‏‏ «رضی اللہ عنہ وارضاہ وجعل جنت الفردوس ماوا» ۔ انہیں اگر بلایا جائے تو یہ قبول کرنا تو درکنار، سن بھی نہیں سکتے۔ محض پتھر ہیں، بےجان ہیں، بےآنکھ اور بےکان ہیں۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ’ میرے والد! آپ ان کی عبادت کیوں کرتے ہیں، جو نہ سنیں، نہ دیکھیں، نہ تجھے کوئی نفع پہنچا سکیں، نہ تیرے کسی کام آ سکیں۔ ‘ ۱؎ [19-مريم:42] ‏‏‏‏ انہیں پکارنا اور نہ پکارنا دونوں برابر ہیں۔ یہ تو تم جیسے ہی بے بس اور اللہ کی مخلوق ہیں۔ بتاؤ تو کبھی انہوں نے تمہاری فریاد رسی کی ہے؟ یا کبھی تمہاری

About