This system is made by Elite class... not by God.... God has given us fair system of Islam....🙂
2026-08-17 08:25:32
10
عسکری ؔ :
امتحان ہے کچھ بھی ہو سکتا ہے
2026-08-17 11:59:21
5
A❣️S :
حضرت موسی علیہ السلام کے دور میں ایک بار حضرت موسی نے اللہ تعالی سے کہا کہ یا اللہ سب بچے نہر میں نہا رہے ہیں لیکن ایک بچہ نہر کے کنارے بیٹھا ہے کیوں کیونکہ اس کی انکھیں نہیں ہیں اس لیے وہ نہا نہیں سکتا تو اپ اللہ پاک مہربانی فرمائیں اس بچے کو انکھیں دیں تاکہ یہ بھی نہ ا لے اللہ نے موسی علیہ السلام سے کہا موسی جو میں جانتا ہوں وہ تو نہیں جانتا لیکن موسی نے اللہ تعالی سے کہا نہیں اللہ اپ پلیز اس بار میری بات مان لیں اللہ نے کہا موسی جو مجھے پتہ ہے وہ اپ کو نہیں پتہ جو میں جانتا ہوں وہ اپ اسے بہتر نہیں جانتے پھر بھی اللہ نے موسی علیہ السلام کی ضد پر اس بچے کو انکھیں دیں وہ بچہ نہانے گیا اور جتنے بھی لوگ نہر میں نہا رہے تھے ان سارے بچوں کو اس نے مار کے پوتے لگا کے تنگ کر کے باہر نکال دیا اور کچھ دیر بعد اکیلا ہی نہ ہو پھر موسی علیہ السلام نے اللہ کی طرف دیکھا اور باقی اللہ پاک جو اپ جانتے ہو وہ ہم انسان نہیں جانتے جو اپ فیصلے کرتے ہو وہ سب سے بہتر ہوتے ہیں مثال کا مطلب صرف یہ ہے کہ اللہ نے دنیا جیسے بنائی جو بنایا جس طرح بنایا وہ بہتر جانتا ہے ہمیں ان سوالوں کے بجائے ہمیں یہ سوال کرنے چاہیے کہ کس طرح کوئی انسان مستقل محنت کر کے وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں کس طرح غریب انسان محنت کر کے اور کس طرح غریب انسان دیندار کوشش کر کے اپنے غربت کو ختم کرے اسی طریقے ہم نے دیکھنے چاہیے نہ کہ یہ دیکھنا چاہیے جو اپ نے سوال اٹھائے انگریزوں کو دیکھ لیں انگریزوں نے ہمیشہ اس کائنات کو تصور کیا اس کو جانا ہے اس کے اندر چیزیں تلاش کی ہیں مسلمانوں کو دیکھیں تو مسلمان نے اس کائنات کو سرچ کرنے کی بجائے وہی پریشان کرنے والے سوالوں کے اوپر سوال کر رہے ہیں۔۔۔۔
2026-08-17 10:21:29
5
Silakoti larki :
asy hi bhot sari baty mery Dil or dimag ma bi ati ha k ku banay itny by bas garib log
2026-08-17 09:16:09
5
R.V Gaming :
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دنیا اور اخرت کا سردار ہے وہ پیٹ پر پتھر بن کے سوتا تھا😢
یہ دنیا امتحان ہے بھائ
2026-08-17 20:26:45
1
onemorepaki1 :
اگر اسی ارگیومنٹ کو مزید اگے بڑھایا جائے تو اس دنیا میں ہونے والے ہر غم ہر پریشانی کی کیا ضرورت تھی یہ دنیا ہے ہی ازمائش کی جگہ یہاں پر اپ کو کبھی بھی تمام مشکلات کا حل نہیں ہوگا
2026-08-17 07:34:47
3
ABD人MALIKೱMA乙ARI :
اگر ہر کسی کے پاس ضرورت کے متابق پیسہ ہوتا تو کام کون کرتا اگر مجھے بیٹھے بیٹھے ملے میں بھی سارا دن کام کیوں کروں اگر کسی کے پاس پیسہ ہوتا تو کون مزدوری جیسی سخت محنت کرتا کون اپ کے گھر کے نالے کھودتا کون گرمی میں پنچر لگاتا کون گرمی میں سبزی بیچتا
ہر کوئی آسان کام ڈھونڈتا تاکہ زیادہ محنت نہ کرنا پڑے
2026-08-17 16:47:33
2
javeed khan :
❤️ma sha Allah very nice speech
2026-08-17 16:38:54
1
amin :
graet video
2026-08-17 12:56:51
1
Raza Butt :
“حقیقت سے کوئی بھی مکمل طور پر واقف نہیں۔ موت کے بعد کیا ہونا ہے اور کیا نہیں ہونا، یہ ایک راز ہے۔ مختلف مذاہب اور کتابوں میں اس بارے میں مختلف باتیں بیان کی گئی ہیں، لیکن آخرکار حقیقت کیا ہے، یہ انسان یقینی طور پر نہیں جانتا۔ اس لیے کسی انسان کے دعوے پر مکمل یقین کرنے کے بجائے اپنی عقل سے سوچنا چاہیے۔ صحیح اور غلط کا حتمی فیصلہ شاید موت کے بعد ہی معلوم ہو—اگر واقعی اس کے بعد کچھ ہے۔ اور اگر کچھ نہیں، تو پھر موت شاید ویسی ہی بے خبری ہو جیسے رات کو گہری نیند میں انسان کو اپنے اردگرد کا کچھ احساس نہیں ہوتا۔”
2026-08-18 11:05:13
1
Cute girl♥️🥀🥀 :
اردو ترجمہ:
"اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کشادہ کر دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کرنے لگتے، لیکن وہ ایک اندازے کے مطابق جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ بے شک وہ اپنے بندوں سے باخبر، خوب دیکھنے والا ہے۔"
(سورۃ الشوریٰ 42:27)
2026-08-18 11:19:54
3
A. :
2026-08-17 10:03:00
1
Mirza nazerhussain :
2026-08-17 09:20:06
1
Muhammad Anus Khan :
💯 great video
2026-08-17 09:57:19
1
sajid :
insaf nahii h hmare mulk m agr insaf ho to ye chez na hone k brabr hojayegi
2026-08-17 12:40:59
0
Ghulam nabi :
Kia beinsafi ha ye ?
2026-08-17 13:12:19
1
GAMES HUB 🎮🏏 :
Right 👍
2026-08-17 09:04:56
1
Muhammad Asifullah Khan :
اگر دنیا میں مطلق غربت اور بنیادی ضرورتوں کی تنگی نہ ہوتی تو یہ ایک مثبت بات ہوتی، لیکن اگر اس کا مطلب تمام انسانوں کا مالی و معاشی طور پر بالکل ایک برابر ہو جانا لیا جائے، تو چند علمی و اجتماعی پہلو سامنے آتے ہیں:
جدوجہد اور محنت کا تسلسل: انسان کی اکثر ترقی، ایجادات اور سخت محنت کے پیچھے معاشی بہتری کی خواہش اور ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت اور معاشی فرق ختم ہونے سے عمل اور جدوجہد کا جذبہ دھیما پڑ سکتا ہے۔
خدمات اور پیشوں کا نظام: معاشرہ مختلف پیشوں کے باہمی تعاون سے چلتا ہے۔ اگر تمام افراد معاشی طور پر مکمل بے نیاز ہو جائیں تو مشکل، محنت طلب اور ادنیٰ سمجھے جانے والے کاموں کے لیے لوگوں کا آمادہ ہونا دشوار ہو سکتا ہے۔
اخلاقی و اجتماعی اوصاف: ہمدردی، سخاوت، ایثار، زکوٰۃ، اور صدقات جیسے وہ اعلیٰ اخلاقی جذبے جو ضرورت مندوں کی مدد سے ابھرتے ہیں، ان کا عمل دخل اور عملی میدان محدود ہو جاتا۔
اصل مقصد غربت، بھوک اور محرومی کا خاتمہ ہے تاکہ ہر انسان کو عزتِ نفس کے ساتھ بنیادی سہولیات میسر ہوں، جبکہ معاشی درجات کا قدرتی فرق انسانی معاشرے کے نظام اور تنوع کو برقرار رکھتا ہے۔
2026-08-18 09:44:27
0
MD Khalil rain :
duniya yasa nahi hota
2026-08-18 13:27:28
0
JAPAN ELE.LAYYAH :
معاشرے کی نا انصافی ہے نئے زیادہ صوبے بنائے جانے سے یہ سیاست دان کمزور ہو جائیں گے اور اپنی مرضی کے غلط قوانین پاس نہیں کر سکیں گے
2026-08-19 11:54:07
0
The conqueror :
jawabat ke muntazir hai sir
2026-08-19 13:28:36
0
ا 𝑨𝒎𝒆𝒆𝒓 𝑨𝒃𝒃𝒂𝒔 ع :
Bilkul Right Atif Sr 🌟
2026-08-19 05:49:51
0
Mansoor Jãñ :
عاطف صاحب آپ کی ہر بات قیمتی ہے ❤️
2026-08-18 14:21:40
0
To see more videos from user @atifmasood22, please go to the Tikwm
homepage.