رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا
اتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا
ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں
رستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا
مشکل ہوا ہے رہنا ہمیں اس دیار میں
برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہوا
وہ کام شاہِ شہر سے یا شہر سے ہوا
جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا
ملنا تھا ایک بار اسے پھر کہیں خان
ایسا میں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہوا
2026-08-18 07:53:19
0
Siddiqui :
وہ کیا ہے کہ میری انکھ سحری میں
ذرا دیر سے کھلی تھی،
جب تک مجھے معلوم ہوا
وہ میری زندگی سے جا چکی تھی،
یعنی کہ میں نے چھ برس سے
بغیر سحری کے روزہ رکھا ہوا تھا،
اس کی یاد قناعت کر کے بیٹھی ہیں
دل کے دروازے پر
اور خوشیوں کو آنے سے منع کیا ہوا تھا،
آنکھیں پتھر ہو گئی تھیں
اور دل دم توڑنے ہی والا تھا،
میں مغرب کی آذان کی امید
اب چھوڑنے ہی والا تھا،
کہ وہ یکدم میرے سامنے اگئی
مجھے دیکھ کے وہ مسکرانے لگی تھی،
میری جان ہی تو جانے لگی تھی،
میری سانس تھمنے لگی تھی
اور میں مر رہا تھا،
اور زندگی میں پہلی بار
میرا جینے کو دل کر رہا تھا،
میں لڑکھڑا کے گرا
تو اس نے مجھے تھام ہی لیا تھا،
وہ کیا ہے کہ میں نے افطار میں
اوقات سے زیادہ پانی پی لیا تھا،
2026-10-04 16:16:12
0
To see more videos from user @poetryedit.55, please go to the Tikwm
homepage.