@zubair.abbasi750: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عاشق کا لفظ استعمال کرنا درست ہے مثال کے طور پر میں عاشق رسول ہوں کیا کوئی اپنی ماں بہن بیٹی کے لیے عاشق کا لفظ استعمال کر سکتا ہے کہ میں اپنی بہن کا عاشق ہوں #RabiUlAwwal #12RabiUlAwwal #SeeratUnNabi #MuhabbatERasool #IshqERasool ﷺ
ہر لفظ اپنے معانی کی حفاظت کرتا ہے۔جب لفظ کی نسبت تبدیل ہو جائے تو اس کے معانی بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔
مثلاً ۔پانی لفظ ہے۔
مگر آسمان سے برسے تو پانی نہیں بارش کہتے ہیں۔پانی جم جائے تو برف بولتے ہیں۔ماتھے پر آئے تو پسینہ بولتے۔لفظ کی نسبت بدلنے سے معانی بدل رہے ہیں۔
مرد یا عورت لفظ ہے۔مگر پاب۔بیٹا۔بھائی۔ماں بہن۔بیٹی نسبت کی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔
اس لیے جب عشق کی نسبت عام انسان سے ہو گی۔تو معانی اور ہیں۔مگر جب رسول اللہ کے ساتھ ہو گی تو عشق کا مطلب اور ہو گا۔
لہذا عاشق رسول کہلانا غلط نہیں ہوگا ۔
2026-08-17 15:05:34
151
Sajid Siddiqui :
kb or kaha ana h mujhy bhii btyeaga aapsay bt hugii phir
2026-08-18 05:09:35
2
Hakeem shabbir :
Aurbi lugat ki koi misal to de k ye arbi la lfz hae aor shadeed mahubbut me istimal hota hae
2026-08-18 00:58:39
0
𝙎𝙮𝙚𝙙 𝙈 𝘼𝙙𝙣𝙖𝙣 ☑️ :
Molana plz mjhy 1chance dijiye or mjhse debates krein iss "Ashiq" words pr....
insha Allah apko bhi Ashiq e Rasoolص kr k uthoga....
Labbaik Yaa Rasoolallah ص💚
2026-08-18 01:26:29
38
islamic :
یہ صرف انکو ربیع الاول میں یاد آتا ہے بس😭 اللہ ہدایت دے
2026-08-18 07:51:17
1
مہر حافظ محمد یسین ارائیں :
ہم بھی اپنے نبی کے عاشق ہوں
2026-08-17 13:18:50
42
Sardar S K :
قرآن:
قُلْإِن كُنتُمْتُحِبُونَاللَهَفَاتَبِعُونِي يُحْبِبْكُمُاللَهُ“کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔”
(آلِ عمران 3:31)
حدیث: نبی ﷺ نے فرمایا:
“تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) ایمان والا نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔”
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
اس لیے “
2026-08-17 16:01:33
28
iampakistani1995 :
بھائی کسی عالم دین یا مفتیِ کو بلاؤ اُس سے سوال کرو تو پتہ بھی چلے جو دلیل سے بات کرے
2026-08-18 04:43:17
10
𝑨𝒓𝒊𝒇 𝑲𝒉𝒂𝒏 :
عاشق" کا لفظ محبت کی شدت ظاہر کرتا ہے، لیکن ہر رشتے کے لیے اس کا استعمال ایک جیسا نہیں ہوتا۔ ماں، بہن اور بیوی کے لیے ہم کہتے ہیں کہ "میں اپنی ماں سے بے حد محبت کرتا ہوں"، "میں اپنی بہن سے بہت محبت کرتا ہوں"، لیکن عام طور پر یہ نہیں کہتے کہ "میں اپنی ماں یا بہن کا عاشق ہوں"، کیونکہ اردو میں "عاشق" کا لفظ عموماً عشق و محبتِ شدید، خصوصاً رومانوی محبت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
البتہ "عاشقِ رسول ﷺ" ایک معروف دینی تعبیر ہے، جس سے مراد نبی کریم ﷺ سے انتہائی محبت، عقیدت اور وفاداری ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کہہ دیجیے: اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا" (سورۃ آلِ عمران 3:31)۔ اس لیے محبتِ رسول ﷺ کا اصل معیار صرف لفظ "عاشق" کہنا نہیں بلکہ آپ ﷺ کی اتباع اور سنت پر عمل کرنا ہے۔
لہٰذا کسی کو صرف "عاشقِ رسول ﷺ" کہنے پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے اگر اس سے مراد محبت و عقیدت ہے، لیکن یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سچی محبت کا ثبوت زبان کے دعوے سے زیادہ نبی ﷺ کی اتباع سے ہوتا ہے
2026-08-18 02:54:39
18
khan wali khan wali :
آقا عشق ہیں آپ سے اور عشق کرتے رہیں گے
خاک ہو جائے جلنے والے جل کر
2026-08-17 17:38:23
6
tabasoom naaz :
Baba ji ye ring no hey
2026-08-18 07:04:29
1
MÆŦĮ ƘĤÆŊ₹❣️\(^_^)/(*^^*) :
حضور ﷺ کی ذات کے لیے "محبت"، "عاشقِ رسول" کی بجائے "محبِ رسول" یا "فدائی" جیسے الفاظ زیادہ بہتر اور باوقار ہیں۔
2026-08-17 17:43:29
17
Syed Hyder Shah :
ummati hai hum
2026-08-17 14:46:35
1
AMIR DOGAR 86 96♥️🌉♥️ :
صحیح سوال کا جواب دیا سر اپ نے
2026-08-17 13:28:14
13
i DoN'T CARE 4.4.2026 😎 :
یہ کہنا نہ صرف بالکل درست ہے بلکہ ایک مسلمان کے لیے انتہائی خوش آئند اور باعثِ برکت جذباتی اظہار ہے۔ اس میں شرعاً یا لغتاً کوئی برائی یا غلطی نہیں ہے۔
اردو زبان اور اسلامی تاریخ میں "عاشقِ رسول" اور "عاشقِ سنت" کی اصطلاح صدیوں سے مستعمل اور مقبول ہے۔
عاشقِ رسول / عاشقِ سنت: اس کا مطلب ہے حضرت محمد ﷺ سے بے پناہ عقیدت، محبت اور ان کی لائی ہوئی تعلیمات و سنتوں پر صدقِ دل سے عمل کرنے کا جذبہ رکھنا۔
احادیث کی روشنی میں: نبی کریم ﷺ نے خود فرمایا کہ "تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے نزدیک اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔" (صحیح بخاری)۔
لہٰذا، یہ کہنا کہ "میں نبی کا عاشق ہوں اور ان کی سنت کا عاشق ہوں" محبت اور ایمان کا بالکل جائز، فصیح اور خوبصورت اظہار ہے
2026-08-17 14:03:15
11
Rizwan Ansari :
very good 👍
2026-08-17 08:05:56
1
janisar :
asko koi jawab de Jo alam whera Hain woh
2026-08-17 12:21:08
5
sagid khan :
Kaisi aalem ko bulaho to woh AP ko btahy ga ,
2026-08-17 17:28:40
6
Tariq معراج :
ماشاءاللہ لاجواب بات کہی آپ نے
2026-08-17 17:38:34
6
Jafar Hussain Qasori Naemi :
انما الاعمال باالنیات
2026-08-17 18:03:36
6
khan :
یہ رومانوی عشق کی بات نہیں بلکہ اس سے مراد انتہائی گہری محبت اور عقیدت کے لۓ بھی استعمال ھوتا ہے اس لۓ جب ایک مسلمان یہ کہتا ہے کہ میں سیدنا محمد ﷺ کا عاشق ھو تو وہ اپنی گہری عقیدت اور محبت کا اظہار کرتا ہے
2026-08-17 14:20:42
6
shah :
مولانا صاحب اپ نے بھی یہ اخری عدالت لگائی ہوئی ہے اپ بھی کچھ مطالعہ کر لیجیے تاریخ کا
2026-08-17 15:10:16
5
ishqzada official947 :
یہ کہنا کہ "اگر عشق کا لفظ ماں یا بہن کے لیے استعمال نہیں کرتے تو نبی پاک ﷺ کے لیے کیوں کرتے ہو؟" لاعلمی کے سوا کچھ نہیں۔
لفظ کا مطلب صرف لغت سے نہیں، سیاق و عرف سے بھی سمجھا جاتا ہے۔ "عاشقِ رسول ﷺ" سے مراد رسول اللہ ﷺ سے انتہائی عقیدت، محبت اور وفاداری رکھنے والا ہے، اس میں کوئی رومانوی مفہوم مراد نہیں ہوتا۔
اور اگر کوئی شخص جان بوجھ کر "عاشقِ رسول ﷺ" کو گھٹیا یا شہوانی معنی پہنانے کی کوشش کرے تو مسئلہ لفظ میں نہیں، اس کی اپنی سوچ میں ہے۔
ماں اور بہن کے لیے بھی محبت کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں، مگر اردو کے عرف میں "عاشق" عام طور پر رومانوی محبت کے لیے بولا جاتا ہے، اس لیے ان کے لیے یہ لفظ استعمال کرنا غیر موزوں سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ "عاشقِ رسول ﷺ" ایک معروف مذہبی و عقیدتی ترکیب ہے۔
لہٰذا پہلے زبان کے لغوی معنی، عرف اور سیاق سمجھو، پھر اعتراض کرو۔ صرف ایک لفظ پکڑ کر دین اور عقیدت کا مذاق بنانا علم نہیں، جہالت ہے
2026-08-18 04:04:51
6
Hizar Farooq :
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مؤمن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے والد، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔
2026-08-18 11:31:54
4
To see more videos from user @zubair.abbasi750, please go to the Tikwm
homepage.