@_notafashion_: Giày mèo xinh iu nè 🥰 #giaydep #thoitrang #phoido #xh #giaythethao

NOTA FASHION
NOTA FASHION
Open In TikTok:
Region: VN
Tuesday 18 August 2026 01:07:00 GMT
3197
12
0
8

Music

Download

Comments

There are no more comments for this video.
To see more videos from user @_notafashion_, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

شعر: ماں جیسی تھیں نبی ﷺ کے لیے، علیؓ کی تھیں وہ ماں، فاطمہ بنتِ اسدؓ کا نام رہے گا تا ابد جاوداں۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ حضرت علیؓ کی والدہ اور رسول اللہ ﷺ سے بے حد محبت کرنے والی عظیم خاتون تھیں۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بھی اپنے بچوں کی طرح پرورش اور خدمت کی تھی۔ جب آپؓ کا وصال ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو بہت گہرا صدمہ پہنچا۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے خصوصی محبت اور شفقت کا اظہار فرمایا۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے کفن کے لیے اپنی قمیص عطا فرمائی اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ ﷺ ان کے جنازے کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ یہ ان کی عظمت اور رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کے مقام کی علامت تھی۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے مشکل دور میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا تھا۔ جب آپ ﷺ بچپن میں حضرت ابو طالبؓ کے گھر تشریف لائے تو فاطمہ بنتِ اسدؓ نے آپ ﷺ سے اپنے بچوں سے بڑھ کر محبت کی۔ آپ ﷺ بھی انہیں اپنی ماں کی طرح عزت دیتے تھے۔ اسی لیے ان کے وصال کا غم رسول اللہ ﷺ کے لیے عام غم نہ تھا۔ حضرت علیؓ کے لیے بھی یہ بہت بڑا صدمہ تھا، کیونکہ ماں کا سایہ دنیا کی سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے اپنے بیٹے علیؓ کی ایسی تربیت کی جس کا اثر آگے چل کر پوری اسلامی تاریخ پر نظر آیا۔ حضرت علیؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ ان کی بہادری، علم، تقویٰ اور وفاداری کے پیچھے ایک عظیم ماں کی تربیت بھی شامل تھی۔ فاطمہ بنتِ اسدؓ کا ذکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ماں کی محبت اور تربیت انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ان کی زندگی صبر، محبت، قربانی اور وفاداری کا خوبصورت نمونہ تھی۔ انہوں نے اپنے گھر کو رسول اللہ ﷺ کے لیے محبت اور خدمت کا مرکز بنایا۔ ان کا مقام صرف اس وجہ سے بلند نہیں کہ وہ حضرت علیؓ کی والدہ تھیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بے مثال محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے وصال پر رسول اللہ ﷺ کا خصوصی اہتمام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے دل میں کتنی قدر و منزلت رکھتی تھیں۔ ان کا تذکرہ آج بھی محبت اور عقیدت سے کیا جاتا ہے۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی خدمت اور ان سے محبت انسان کے لیے بہت بڑی سعادت ہے۔ ان کی سیرت میں ہمیں ماں کی عظمت، دین سے محبت اور قربانی کا پیغام ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں صحابہ و اہلِ بیتِ اطہار کی محبت اور احترام نصیب فرمائے۔ آمین۔#fyppppppppppppppppppppppp #foryou #viralvideo #fypシ #peerajmalrazaqadri
شعر: ماں جیسی تھیں نبی ﷺ کے لیے، علیؓ کی تھیں وہ ماں، فاطمہ بنتِ اسدؓ کا نام رہے گا تا ابد جاوداں۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ حضرت علیؓ کی والدہ اور رسول اللہ ﷺ سے بے حد محبت کرنے والی عظیم خاتون تھیں۔ آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی بھی اپنے بچوں کی طرح پرورش اور خدمت کی تھی۔ جب آپؓ کا وصال ہوا تو رسول اللہ ﷺ کو بہت گہرا صدمہ پہنچا۔ آپ ﷺ نے ان کے لیے خصوصی محبت اور شفقت کا اظہار فرمایا۔ روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے کفن کے لیے اپنی قمیص عطا فرمائی اور ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ آپ ﷺ ان کے جنازے کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے اور ان کے لیے دعا فرمائی۔ یہ ان کی عظمت اور رسول اللہ ﷺ کے دل میں ان کے مقام کی علامت تھی۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زندگی کے مشکل دور میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا تھا۔ جب آپ ﷺ بچپن میں حضرت ابو طالبؓ کے گھر تشریف لائے تو فاطمہ بنتِ اسدؓ نے آپ ﷺ سے اپنے بچوں سے بڑھ کر محبت کی۔ آپ ﷺ بھی انہیں اپنی ماں کی طرح عزت دیتے تھے۔ اسی لیے ان کے وصال کا غم رسول اللہ ﷺ کے لیے عام غم نہ تھا۔ حضرت علیؓ کے لیے بھی یہ بہت بڑا صدمہ تھا، کیونکہ ماں کا سایہ دنیا کی سب سے قیمتی نعمتوں میں سے ایک ہوتا ہے۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ نے اپنے بیٹے علیؓ کی ایسی تربیت کی جس کا اثر آگے چل کر پوری اسلامی تاریخ پر نظر آیا۔ حضرت علیؓ نے اسلام قبول کرنے کے بعد رسول اللہ ﷺ کا ہر مشکل وقت میں ساتھ دیا۔ ان کی بہادری، علم، تقویٰ اور وفاداری کے پیچھے ایک عظیم ماں کی تربیت بھی شامل تھی۔ فاطمہ بنتِ اسدؓ کا ذکر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ماں کی محبت اور تربیت انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ ان کی زندگی صبر، محبت، قربانی اور وفاداری کا خوبصورت نمونہ تھی۔ انہوں نے اپنے گھر کو رسول اللہ ﷺ کے لیے محبت اور خدمت کا مرکز بنایا۔ ان کا مقام صرف اس وجہ سے بلند نہیں کہ وہ حضرت علیؓ کی والدہ تھیں، بلکہ اس لیے بھی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بے مثال محبت اور وفاداری کا مظاہرہ کیا۔ ان کے وصال پر رسول اللہ ﷺ کا خصوصی اہتمام اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ آپ ﷺ کے دل میں کتنی قدر و منزلت رکھتی تھیں۔ ان کا تذکرہ آج بھی محبت اور عقیدت سے کیا جاتا ہے۔ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے محبوب بندوں کی خدمت اور ان سے محبت انسان کے لیے بہت بڑی سعادت ہے۔ ان کی سیرت میں ہمیں ماں کی عظمت، دین سے محبت اور قربانی کا پیغام ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ حضرت فاطمہ بنتِ اسدؓ پر اپنی بے شمار رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں صحابہ و اہلِ بیتِ اطہار کی محبت اور احترام نصیب فرمائے۔ آمین۔#fyppppppppppppppppppppppp #foryou #viralvideo #fypシ #peerajmalrazaqadri

About