میرا سوال مفتی صاحب سے ابا کی دو شادیاں ہوں ابا ہمیشہ اپنی دوسری بیوی کے بچوں کو ترجیح دے ہمیشہ انکے بارے میں سوچے اور بڑے بچے کو طعنے دیتا رہے کہ تم لوگ بڑے ہو کر میرے چھوٹے بیٹے کے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں کی طرح سلوک کرو گے ایسے کرتے کرتے بار بار طعنے بڑے بیٹے کو پیار نہ دینا کبھی اس کو بیٹا بلا کر کبھی اسے پیار سے بات نہ کرنا ایسے باپ کے بارے میں کیا کہہ سکتے ہیں باپ کی نفرت طعنے بازی کی وجہ سے بیٹا باپ سے بہت دور ہو گیا ہے ڈر اور سہم کی وجہ سے اس کا دل نہیں کرتا باپ سے بات کرنے کو باپ کے پاس جانے کو تو اس میں قصور کس کا ہے باپ کا یا بیٹے کا حالانکہ وہ بیٹا اتنا شریف ہے اس نے کبھی باپ کا سامنا نہیں کیا نظر اٹھا کر نہیں دیکھا شرم سے کہ تو اب مجھے برا بھلا کہے گا😢