@ss122208: 🫀 زخم بھر جائیں گے مگر خلش باقی رہے گی کچھ بھی ہو اب دل پہلے سا نہیں دھڑکے گا۔ وقت گزر جائے گا، موسم بدل جائیں گے، لوگ اپنی اپنی زندگیوں میں آگے بڑھ جائیں گے، شاید ہم بھی مسکرانا سیکھ جائیں گے ... مگر کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت کے ساتھ ختم نہیں ہوتیں، بس خاموش ہو جاتی ہیں۔ وہ دل کے کسی کونے میں دب کر رہتی ہیں اور پھر کبھی اچانک کسی لفظ کسی خوشبو کسی گلی کسی گانے یا کسی خاموش رات کے بہانے دوبارہ جاگ اٹھتی ہیں۔ کچھ زخم جسم پر نہیں لگتے، اس لیے ان کے بھرنے کا بھی کوئی نشان نظر نہیں آتا۔ انسان بظاہر بالکل ٹھیک دکھائی دیتا ہے، لوگوں سے ہنستا ہے باتیں کرتا ہے، اپنے کام کرتا ہے، زندگی گزار رہا ہوتا ہے ... مگر اندر کہیں ایک ایسی جگہ ہمیشہ کے لیے ویران ہو چکی ہوتی ہے جہاں کبھی کسی کی موجودگی سے روشنی ہوا کرتی تھی۔ ہم بھی شاید ٹھیک ہو جائیں گے۔