@the.oncogy:

The Oncogy
The Oncogy
Open In TikTok:
Region: MW
Tuesday 18 August 2026 14:53:57 GMT
3637
88
4
4

Music

Download

Comments

charles.banda631
Charles Banda :
eeeeeeh
2026-08-18 18:34:04
0
user8555245768414
user8555245768414 :
eeeeeeh
2026-08-18 16:55:30
0
josephysoza
comfort :
😂😂🤣
2026-08-18 17:52:25
0
To see more videos from user @the.oncogy, please go to the Tikwm homepage.

Other Videos

اگر زندگی میں مجھے دوبارہ کسی کا ہونے کا موقع ملا ۔ تو میں خود کو چنوں گی میں ۔ اپنے لیے جیوں گی ۔ اپنی خوشی برقرار رکھنے کی خاطر کچھ بھی کر گزوں گی ۔ اپنی عزت نفس کو بچا کے رکھوں گی۔   پھر میں دوسروں کی پروا کرناچھوڑ دوں گی۔ میں لوگوں کی رائے پر کان نہیں دھروں گی ۔ میں وہ کرو گی جو مجھے ٹھیک لگتا ہوگا۔  اُن تمام لوگوں کو دیکھوں گی بھی نہیں ۔ جن لوگوں نے میری نہ قادری کی ۔ مجھے پیروں میں روند کر چلے گئے۔ میں تعلقات کو بچانے کے لیے بھیک نہیں مانگوں گی۔ میں اپنی عزت کروں گی ۔ میں اپنی روح کی حفاظت کریں گی ۔ اور کلیجہ نوچ کھانے والوں سے دوری بنائے رکھوں گئی۔   میں اپنے اس نازوں پالے پیارے اور شکستہ دل کو۔  اُن ہاتھوں میں نہیں سونپوں گی ۔ جن کو دل رکھنے نہ آتے ہوں۔ میں یہ ساری غلطیاں تب نہیں دہراؤں گی۔ میں خود کا خیال رکھوں گی۔  میں دوسرںکو بچانے کی خاطر خود کو مرنے نہیں دوں گی۔ میں کسی کو خود پر ترس نہیں کھانے دوں گی۔ میں ایسی زندگی نہیں جیون گی ۔ جیسے میں جی رہی ہوں ۔ میں ایسے خود کو بيمول نہیں کروں گی۔  میری روح مجھ سے روٹھ گئی ہے ۔ اور میرا دل پاراپارا ہوا پڑا ہے ۔ ہائے! میرے نازوں پالے ہوئے دل ۔ میں تم سے معزرت چاہتی ہوں ۔ بس چاہتی ہوں تم مجھے معاف کر دو۔  میں تمہاری دیکھ بھال نہیں کر سکی۔ میں نے تمہیں درندوں میں چھوڑ دیا۔ جن کو تمہیں رکھنے کا سلیقہ نے آیا۔ اور تم پر انتہا کے ظلم کرتے رہے ۔ اور میں میں کسی تماشائی کی طرح دیکھتی رہی۔  دیکھتی رہی ۔ حتٰی کہ انہوں نے تمہیں کرچی کرچی کر ڈالا ۔ اور مجھے تب احساس ہوا مگر ۔ اب یہ احساس کس کام کا جب دل نہ رہا۔ کاش من خود پر اتنے ظلم نا ڈھاتی ۔ کاش میں خود کے لیے اتنی ظالم نا ہوتی۔  کاش میں نے خود کی قدر کی ہوتی ۔ کاش خود کے لئے جنگ کی ہوتی ۔ کاش اپنی فکر کی ہوتی ہے ۔ کاش میں اپنی بن جاتی۔ ہائے کاش۔!
اگر زندگی میں مجھے دوبارہ کسی کا ہونے کا موقع ملا ۔ تو میں خود کو چنوں گی میں ۔ اپنے لیے جیوں گی ۔ اپنی خوشی برقرار رکھنے کی خاطر کچھ بھی کر گزوں گی ۔ اپنی عزت نفس کو بچا کے رکھوں گی۔ پھر میں دوسروں کی پروا کرناچھوڑ دوں گی۔ میں لوگوں کی رائے پر کان نہیں دھروں گی ۔ میں وہ کرو گی جو مجھے ٹھیک لگتا ہوگا۔ اُن تمام لوگوں کو دیکھوں گی بھی نہیں ۔ جن لوگوں نے میری نہ قادری کی ۔ مجھے پیروں میں روند کر چلے گئے۔ میں تعلقات کو بچانے کے لیے بھیک نہیں مانگوں گی۔ میں اپنی عزت کروں گی ۔ میں اپنی روح کی حفاظت کریں گی ۔ اور کلیجہ نوچ کھانے والوں سے دوری بنائے رکھوں گئی۔ میں اپنے اس نازوں پالے پیارے اور شکستہ دل کو۔ اُن ہاتھوں میں نہیں سونپوں گی ۔ جن کو دل رکھنے نہ آتے ہوں۔ میں یہ ساری غلطیاں تب نہیں دہراؤں گی۔ میں خود کا خیال رکھوں گی۔ میں دوسرںکو بچانے کی خاطر خود کو مرنے نہیں دوں گی۔ میں کسی کو خود پر ترس نہیں کھانے دوں گی۔ میں ایسی زندگی نہیں جیون گی ۔ جیسے میں جی رہی ہوں ۔ میں ایسے خود کو بيمول نہیں کروں گی۔ میری روح مجھ سے روٹھ گئی ہے ۔ اور میرا دل پاراپارا ہوا پڑا ہے ۔ ہائے! میرے نازوں پالے ہوئے دل ۔ میں تم سے معزرت چاہتی ہوں ۔ بس چاہتی ہوں تم مجھے معاف کر دو۔ میں تمہاری دیکھ بھال نہیں کر سکی۔ میں نے تمہیں درندوں میں چھوڑ دیا۔ جن کو تمہیں رکھنے کا سلیقہ نے آیا۔ اور تم پر انتہا کے ظلم کرتے رہے ۔ اور میں میں کسی تماشائی کی طرح دیکھتی رہی۔ دیکھتی رہی ۔ حتٰی کہ انہوں نے تمہیں کرچی کرچی کر ڈالا ۔ اور مجھے تب احساس ہوا مگر ۔ اب یہ احساس کس کام کا جب دل نہ رہا۔ کاش من خود پر اتنے ظلم نا ڈھاتی ۔ کاش میں خود کے لیے اتنی ظالم نا ہوتی۔ کاش میں نے خود کی قدر کی ہوتی ۔ کاش خود کے لئے جنگ کی ہوتی ۔ کاش اپنی فکر کی ہوتی ہے ۔ کاش میں اپنی بن جاتی۔ ہائے کاش۔!

About